18 مارچ 2010 - 20:30

پاکستان کے وزیر اعظم نے کہا کہ بھارت کی غیر معمولی جنگی تیاریوں کے سنگین نتائج برآمد ہونگے۔

وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ ایٹمی طاقت پاکستان سے بھارت ایڈونچر نہ کرے یہ بھارت کے لئے خطرناک ہو گا۔
یہ بات انہوں نے راولپنڈی میں کمانڈ اینڈ کنٹرول کے اختیارات صدر سے وزیراعظم کو منتقل ہونے کے بعد پہلے اجلاس کی صدارت کے موقع پر صدارتی خطاب کرتے ہوئے کہی۔
نیشنل کمانڈ اتھارٹی کے 16ویں اجلاس میں کہا گیا ہے کہ جنوبی ایشیا میں امن و استحکام کے لئے پاکستان کم از کم دفاعی صلاحیت برقرار رکھے گا تاہم ایٹمی عدم پھیلاو اور ایٹمی ہتھیاروں سے متعلق امتیازی سلوک قبول نہیں کرے گا۔
اجلاس میں بھارتی آرمی چیف کے بیان پر بھی سخت ردعمل ظاہر کیا گیا اور کہا گیا کہ ایسے بیانات خطے کے لئے خطرناک اور ایٹمی طاقت کے ساتھ ایڈونچر کے برابر ہیں۔
اے پی پی کے مطابق نیشنل کمانڈ اتھارٹی نے پاکستان کے سٹرٹیجک اثاثوں کی سلامتی اور تحفظ اور پاکستان کے سٹرٹیجک ڈیٹرنس کے موثر ہونے پر اپنے اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کم سے کم قابل اعتماد ڈیٹرنس ہر صورت برقرار رکھا جائے گا۔
اتھارٹی نے جنوبی ایشیا میں امن و استحکام کو فروغ دینے کے لئے کوششیں جاری رکھنے اور پاکستان کی ضبط و تحمل اور ذمہ داری کی پالیسی کا بھی اعادہ کیا۔
اجلاس میں خطے میں محاذ آرائی سے بچنے اور جوہری و روایتی ہتھیاروں کی دوڑ سے گریز کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔
نیشنل کمانڈ اتھارٹی نے خطے میں سٹرٹیجک استحکام کے مقاصد کے منافی سرگرمیوں کا نوٹس لیا اور کہا کہ جنوبی ایشیا میں سٹرٹیجک ضبط و تحمل کے نظام کے لئے پاکستان کی تجویز کا مثبت جواب دینے کی بجائے بھارت بڑے پیمانے پر ہتھیاروں کی خریداری کے پروگرام اور جارحانہ فوجی ڈاکٹرائن پر عمل پیرا ہے۔
بھارت کی جانب سے بڑے پیمانے پر ہتھیاروں کے جدید نظاموں کا حصول بشمول میزائل شکن نظام کی تنصیب،جاری اور نئے پروگراموں کے ذریعے جوہری ہتھیاروں اور ان کے ڈلیوری سسٹمز میں اضافہ،کولڈ سٹارٹ جیسی جارحانہ ڈاکٹرائنز سے علاقائی توازن عدم استحکام کا شکار ہو سکتا ہے۔ اس طرح کی مسلسل فوجی سرگرمیوں سے جنوبی ایشیا کے ساتھ ساتھ بحر ہند کے خطے میں امن و سلامتی کے لئے سنگین مضمرات ہونگے اور پاکستان اس طرح کی سرگرمیوں سے لاتعلق نہیں رہ سکتا۔