18 مارچ 2010 - 20:30

امریکی سینٹرل کمان کے سربراہ جنرل ڈیوڈ پیٹریاس نے کہا ہے کہ ایران کی ایٹمی تنصیبات پر بمباری کی جا سکتی ہے۔

ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ امریکہ نے ایرانی ایٹمی تنصیبات سے نمٹنے کے لئے کئی منصوبے بنا رکھے ہیں اور یقیناً ایرانی ایٹمی تنصیبات پر بمباری ہو سکتی ہے۔

انہوں نے منصوبوں کی تفصیلات بتائے بغیر کہا کہ امریکی فوج نے اپنے ہر اقدام پر اچھی طرح غور کیا ہوا ہے۔حملے کی شدت کا انحصار اس پر ہو گا کہ کون حملے کرے گا اور کون سا اسلحہ اور آلات جنگ استعمال کرے گا۔انہوں نے کہا کہ القاعدہ پاکستان،عراق اور افغانستان میں دباﺅ بڑھنے کے باعث اب یمن منتقل ہو رہی ہے۔

امریکہ اپنی افواج یمن داخل کرنے کی بجائے سکیورٹی فنڈز 7 کروڑ ڈالر سے بڑھا کر 15 کروڑ ڈالر کرے گا۔

یمنی وزیر خارجہ نے واضح کر دیا ہے کہ یمن میں القاعدہ کی کارروائیاں روکنے کیلئے امریکہ کی زمینی فوج کی ضرورت نہیں۔تاہم جزیرہ نما یمن میں القاعدہ کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں پر امریکہ کو سخت تشویش ہے۔

یمن میں القاعدہ کی سرگرمیوں کو روکنے کیلئے امریکہ یمن کیلئے سکیورٹی امداد بڑھانے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔سعودی عرب کی طرف سے یمن کیلئے دو ارب ڈالر اور متحدہ عرب امارات کی طرف سے 70 کروڑ ڈالر امداد کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔

امریکہ کی دہشت گردی کیخلاف جنگ کا مرکز یمن نہیں بلکہ پاکستان اور افغانستان کے سرحدی علاقے ہیں اور گزشتہ برس القاعدہ کیخلاف کافی کامیابیاں ملی ہیں۔تاہم اسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا اور القاعدہ جہاں بھی ہو گی،شکست دینگے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان افغان سرحد امریکہ کیلئے تشویش کا باعث اور یہ علاقہ ہماری توجہ کا مرکز ہے۔