اسلامی جمہوریہ ایران کی پارلیمنٹ نے عراق کے بزرگ مرجع تقلید آيت اللہ سیستانی کی شان میں ایک سعودی وہابی عالم کی طرف سے روا رکھی گئي اہانت کی مذمت کی ہے اور پارلیمنٹ کے ارکان نے آج ایک بیان جاری کرکے ریاض شہر کے وہابی امام جمعہ شیخ العریفی کی طرف سے آیت اللہ سیستانی کی شان میں دیئے گئے اہانت آمیز بیان کی مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ مسلمانوں کے اتحاد کے حق میں اس شخص کے خلاف کاروائی کرے۔ اسلامی جمہوریہ ایران کی پارلیمنٹ کے ممبران نے مسلمانوں کی صفوں میں اتحاد کی برقراری کی ضرورت پرزور دیتے ہوئے سعودی عرب کے علماء اورآئمہ جمعہ وجماعت سے کہا کہ اس وقت جب کہ فلسطین اورخاص طورپرغزہ کے مظلوم فلسطینی انتہائی سخت اوردشوارحالات میں زندگی گذار رہے ہيں اور ہر طرف سے ان پرظلم ڈھایا جارہا ہے انھیں جتنا بھی احتجاج کرنا ہو اور بیانات دینے ہوں وہ امریکہ اور صہیونی ریاست کے خلاف دیں۔
ـ ـ ـ
سعودی وہابیت اور دربار سے وابستہ نام نہاد مفتیوں کے تفرقہ انگیز اقدامات سے شاید ہی کوئی واقف نہ ہو.
دنیا جانتی ہے کہ اسلام کی حقیقی تصویر میں جتنا بگاڑ وہابیت نے پیدا کیا ہے اور بدعت وخرافات کے مقابلے کے بہانے دوسرے مکاتب فکر کو دائرہ اسلام سے خارج قرار دیکر مسلم دنیا میں جو انتشار پھیلایا ہے ایسا انتشار پھیلانے میں تو دشمنان اسلام کو بھی کامیابی نہیں ملی ہے اوراس نے آج طالبان اور القاعدہ کی شکل میں اپنی مکمل تصویر پیش کردی ہے اور اب اس وہابیوں کی جرات اتنی بڑھ گئی ہے کہ انھوں نے مراجع تقلید اور فقہا کو بھی نشانہ بنانا شروع کردیا ہے .
ظاہر ہے کہ اس مسئلے کو کوئی بھی برداشت نہیں کرسکتا۔
سعودی دربار اور دربار سے وابستہ مفتی اپنی امریکہ نوازی اور یہودیت نوازی پر فخر کرتے ہیں اور مٹھی بھر صہیونیوں کو جس ڈھٹائی کے ساتھ تحفظ فراہم کرتے ہیں وہ نہ صرف فلسطینی مسلمانوں پر عیاں ہے بلکہ اس سے اب ساری اسلامی دنیا واقف ہوچکی ہے لہذا ان کی جانب سے مسلمانوں کے درمیان انتشار اور اختلاف پھیلانے والے فتوے اور بیانات کا اب کوئی خریدار نہیں رہا ہے . البتہ صرف مکہ اور مدینہ کی وجہ سے اسلامی دنیا کی رائے عامہ ان کا تھوڑا بہت لحاظ کرتی ہے لیکن اگر ان کی جانب سے مسلمانوں کے درمیان انتشار پھیلانے خصوصا مراجع کرام کے خلاف زہر افشانی کا سلسلہ جاری رہا تو پھر یہ لوگ تو اس کا رد عمل قابو میں نہ آسکے گا۔
آل سعود کی حکومت کو بھی ان لوگوں پر کنٹرول کرنا چاہیے اس لئے کہ آل سعود کی کارستانیاں اور ایک واحد خاندان کی حیثیت سے سرزمین حجاز پر بادشاہت قائم رکھنے کا زمانہ تقریبا ختم ہورہا ہے اور وہابیوں کے ساتھ آل سعود کی بادشاہت کو بھی اندرونی طور پر سخت خطرات لاحق ہیں لہذا ریاض کے سرکاری اور درباری امام جمعہ کی زبان کو لگام دینے کی ضرورت ہے۔
بشکریہ از: ریڈیو تہران