اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق اس اسمبلی کے باضابطہ بیان میں کہا گیا ہے کہ "ہر ملک کو حق پہنچتا ہے کہ اپنی سرحدوں کو ـ جو ناامنی اور فساد کا باعث ہیں ـ بند کردے. مصر نے بھی اسی قانون کے تحت اپنی سرحدوں کو بند کرکے سرحدی حدود پر فولادی دیوار کهڑی کرسکتا ہے»!
اس بیان مین مزید آیا ہے کہ: «جب تک مصر اور فلسطین کی سرحدوں پر واقع "زیر زمین سرنگیں" مصر کے لئے خطرات کا باعث بنتی رہیں گی اس دیوار کی تعمیر جائز ہے».
قابل ذکر ہے کہ اسمبلی کے متعدد رکن علماء نے اس فتوے کو غیر اسلامی اور غیر اخلاقی قرار دیتے ہوئے اس کی مخالفت کی ہے.
دریں اثناء فلسطین اور لبنان کے علماء نے غزہ کی سرحد فولادی دیوار کی تعمیر کو حرام قراردیا ہے ۔
ریڈیو تہران نے العالم کی کے حوالے سے رپورٹ دی ہے کہ "انجمن علمائے فلسطین" کے رکن «ماہر السوسی» نے فولادی دیوار کی تعمیر کو حرام قرار دیتےہوئے کہا کہ غزہ کے عوام کی مشکلات کا بنیادی سبب غزہ کا محاصرہ ہے اور ان کی مشکلات میں روزبروزاضافہ ہورہاہے ۔
السوسی نے کہا کہ ایسے حال میں جبکہ فلسطینی عوام نے قدس میں آبادی کا تناسب بگاڑنے، مقدسات کی توہین اور دیکر سازشوں کا مقابلہ کررہی ہے صہیونی ریاست کے حامی ملت فلسطین کا محاصرہ کرکے قدس کی غاصب ریاست کی خدمت کررہےہیں۔
انہوں نے کہا کہ غزہ پٹی کی آبادی پندرہ لاکھ ہے تو ایک ایسا علاقہ سات کروڑ آبادی کے ملک مصر کے لئے کیسے خطرہ بن سکتا ہے چنانچہ غزہ کی سرحد پرفولادی دیوار بنانے کے لئے مصر کے بہانے بے بنیاد ہیں۔ یاد رہے فلسطین کے دیگر علماء نے بھی فولادی دیوار کی تعمیر کو حرام قرار دیا ہے۔