18 مارچ 2010 - 20:30

عراق کے قومی سلامتی کے مشیر صفاحسین نے کہا ہےکہ سعودی عرب ، عراق میں سرگرم عمل دہشتگردوں کی مالی حمایت کررہاہے اور سعودی عرب اور مصر عراق میں دہشتگردبھیجنےوالے ملک ہیں ۔

عراق کی قومی سلامتی کے مشیر نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ عراق کی انٹلجنس کے ہاتھوں گرفتار ہونے والے دہشتگردوں میں زیادہ ترتعداد سعودی عرب اور مصر کے شہریوں کی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کے مالدار حکام عراق میں سرگرم دہشتگردوں کی مالی حمایت کرکے نہتے اور بے گناہ عوام کے قتل عام میں ملوث ہيں۔عراق کے وزیر اعظم نوری مالکی نے بھی کہا ہےکہ آج بعض عرب حکومتوں کی حمایت سے بعث پارٹی اور القاعدہ کا خفیہ اتحاد وجود میں آچکاہے ۔ عراق کے تعلق سے سعودی عرب کا منفی رویہ اور عراق میں سعودی دہشتگردوں کی گرفتاری نوری المالکی کی بات کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔عراق میں عوامی حکومت کے برسرکارآنے اور عراق کی کھلی سیاسی فضا سے سعودی عرب کو یہ حوف لاحق ہوچکاہےکہ کہیں سعودی عرب اور خلیج فارس کے ديگرملکوں میں بھی عوام سیاسی آزادی کا مطالبہ نہ کرنے لگيں ، اسی وجہ سے سعودی عرب عراق کی قوم سے دشمنی کررہا ہے ۔ یادرہے سعودی عرب اور خلیج فارس کے بعض عرب ممالک میں روایتی بادشاہت اور مطلق العنان حکومتیں ہیں ۔عراق میں خونخوار ڈکٹیٹر صدام حسین کی ظالم حکومت کے خاتمے کے بعد عراق میں جمہوریت بحال ہوئي ہے اور نیا سیاسی نظام آیاہے اور جمہوری ادارے بحال ہورہےہیں ، یہ جمہوری نظام سعودی عرب سمیت خلیج فارس کے بعض ملکوں کے استبدادی بادشاہی نظام کے برعکس ہے اور کیونکہ اس میں عوام کو کردار کرنےکی اجازت دی جاتی ہے ۔عراق کے اس جمہوری نظام سے سعودی عرب ، مصراور اردن  چندان خوش نہیں ہیں کیونکہ انہيں آمریت کی عادت ہوچکی ہے بنابریں سعودی عرب کی سربراہی میں بعض عرب ملکوں نے عراق کے سیاسی عمل میں رکاوٹیں کھڑی کرکے اور دہشتگرگروہوں خاص کر ممنوعہ بعث پارٹی کے عناصر کی حمایت کرکے بغداد کی عوامی حکومت پراپنے مطالبات مسلط کرنے کی کوشش کی ہے ۔ لیکن عراق کے وزیراعظم نوری مالکی نے سعودی عرب اور اس کے آلہ کار بعض عرب ملکوں کو شدید الفاظ میں متنبہ کیا ہےکہ عراق پسپائي اختیار نہيں کرے گا کیونکہ ملت عراق دوبارہ ملک میں آمریت کے برسرکار آنے کی ہرگزاجازت نہيں دے گي