15 جون 2009 - 19:30

القاعدہ شیعیان یمن کی سرکوبی میں صنعاء حکومت کے ساتھ تعاون کررہی ہے۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق یمنی اپوزیشن کے ایک راہنما نے کہا ہے کہ یمنی حکومت کے وہابی تکفیری ٹولوں سمیت دہشت گرد تنظیم القاعدہ کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں اور ان کا باہمی تعاون تزویری Strategic ہے۔

فارس خبر ایجنسی نے ایک یمنی اپوزیشن راہنما "سیف علی الوشلی" کے حوالے سے رپورٹ دی ہے کہ القاعدہ یمن کی حکومت کے ساتھ خفیہ تعاون کررہی ہے اور یمنی حکومت نے 1994 سے لے کر اب تک رونما ہونے والے واقعات کے دوران القاعدہ کے ساتھ اپنا تزویری تعاون جاری رکھا ہے۔

اس رپورٹ کے مطابق الوشلی نے العالم نیوز چینل کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ القاعدہ یمن کے تکفیری دہشت گرد ٹولوں کو لے کر موجودہ بحران میں حکومت یمن کی مدد کررہی ہے اور جب ضرورت پڑے تو یہی دہشت ٹولہ ان تکفیری ٹولوں کی مدد سے حکومت یمن سے اپنے مطالبات منوایا کرتی ہے۔

الوشلی نے کہا القاعدہ 1994 کے دوران حکومت اور شیعیان جنوب کے درمیان ہونے والی لڑائی میں حکومت کی جانب سے لڑتی رہی ہے اور اس نے ہزاروں پیروان اہل بیت (ع) کو موت کے گھاٹ اتار دیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ یمنی حکومت بار بار القاعدہ کا حربہ شیعیان یمن کے خلاف استعمال کرتی رہی ہے۔

انھوں نے کہا کہ 1950 اور 1960 کے عشروں میں سلفی اور تکفیری افکار کو یمن میں بھرپور تقویت ملی اور اسی وقت سے شیعیان یمن پر دباؤ بڑھتا گیا اور یہ صورت حال شیعیان یمن کے لئے ناقابل برداشت رہی ہے چنانچہ اسی بنا پر شیعیان یمن اور حکومت کے درمیان کئی لڑائیاں وقوع پذیر ہوئی ہیں.