15 جون 2009 - 19:30

برازیل نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ میں ایران کے خلاف کسی بھی قرار داد کا پیش کیا جانا ایک غیر معقول اقدام ہوگا۔

ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی میں برازیل کے نمائندے انتھونیو  گریرو نے روزنامہ  گلوبو کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس بات کا کوئي ثبوت نہیں ہے کہ ایران کا ایٹمی پروگرام فوجی مقاصد کے لئے ہے اور تہران کے خلاف مزید پابندیاں لگانے کا نتیجہ صرف یہ برآمد ہوگا کہ ایران کے موقف میں شدت پیدا ہوجائے گی۔ گریرو نے ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی کے بورڈ آف گورنرز کی حالیہ قرارداد کے سلسلے میں ہونے والی ووٹنگ میں برازیل کے شریک نہ ہونے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ برازیل چونکہ مذاکرات کو بہتر سمجھتا ہے اس لئے اس نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔ ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی میں برازیل کے نمائندے نے مزید کہا کہ برازیل جنوری کے مہینے میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا غیر مستقل رکن بن جائے گا تو وہ ایران کے ساتھ مذاکرات میں مدد دینے کے لئے اپنے اختیارات کا استعمال کرے گا۔ واضح رہے کہ ایران نے بارہا کہا ہے کہ اس کا ایٹمی پروگرام پر امن ہے اور اس نے اپنے قانونی فرائض سے بڑھ کر ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی آئي اے ای اے کے ساتھ تعاون کیا ہے ۔