15 جون 2009 - 19:30

آیت اللہ سید احمد خاتمی نے تہران کی نماز عید میں شرکت کرنے والے لاکھوں نمازیوں سے خطاب میں ایران کے خلاف آئي اے ای کے بورڈ آف گورنرز کی قرارداد کو سیاسی قراردیا جس کا بقول ان کے تکنیکی مسائل سے دور کا تعلق نہیں ہے ۔

آیت اللہ سید احمد خاتمی نے کہا کہ ایران کا ایٹمی پروگرام خود آئي اے ای اے کی گواہی کے مطابق پرامن ہے اور اس میں قانون سے کسی طرح کا انحراف نہیں پایا جاتا؛ اس میں کوئی شک نہیں کہ آئی اے ای اے کے بورڈ آف گورنرز کی قرارداد ایران کے ایٹمی پروگرام میں کسی فنی مشکل یا انحراف کی بنا پر نہیں بلکہ خالص سیاسی بنیادوں پر منظور کی گئی ہے ۔چنانچہ اس قرارداد کی منظوری سے ایران کا ایٹمی پروگرام کا تو کچھ بگڑنے والا نہیں لیکن اس سے آئی اے ای اے کی ساکھ ضرور متاثر ہوئی ہے جس کی طرف عید الضحی کے خطبوں میں آیت اللہ احمد خاتمی نے بھی خاص طور پر اشارہ کیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ آئي اے ای اے نے ایران کے خلاف قرارداد منظور کرکے اپنی حیثیت کھو دی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ملت ایران نے گذشتہ تیس برسوں میں ثابت کردیا ہے کہ وہ دھونس اور دھمکی سے مرعوب ہونے والی نہیں۔ آیت اللہ سید احمد خاتمی نے  تہران کے تحقیقاتی ری ایکٹر کےلئے آئي اے ای اےاور ایٹمی کلب کے ممبروں  کی طرف سے ایندھن کی فراہمی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ آئي اے ای اے کی ذمہ داری ہے کہ وہ قانون کے مطابق تہران ری ایکٹر کےلئے ایندھن فراہم کرے اور اگر ایندھن فراہم نہیں کیاگيا تو ملت ایران اپنی توانائيوں پر بھروسہ کرتےہوئے ایندھن تیار کر لے گي اور یہ عمل قانون اور ایٹمی معاھدوں کے مطابق ہوگا۔اس میں کوئی شک نہیں کہ عالمی ادارے بڑی طاقتوں کے زیر اثر ہیں اور ان کے فیصلوں اور اقدامات میں ان سامراجی قوتوں کی مرضی ومنشا کا پوری طرح سے خیال رکھا جاتا ہے لیکن  اپنے ہی بنائے ہوئے اصول اور قوانین کی خلاف ورزی  اور این پی ٹی کے ایک باضابطہ رکن کے خلاف قرار داد کی منظوری  کا کوئی جواز نظر نہیں آتا جو بلا شبہ  این پی ٹی کی رکنیت حاصل کرنے کے خواہشمند ملکوں کے حوصلہ شکنی کے مترادف ہے  چنانچہ اگر آئی اے ای اے نے خود کو بڑی طاقتوں کے دباؤ کے تحت فیصلے کرنے کی روش نہ بدلی تو اس ادارے کے قیام کا مقصد ہی فوت ہوجائے گا ۔بہرحال اسلامی جمہوریہ ایران کے ایک سنیئراہلکار علی اصغر سلطانیہ نے اپنے ایک بیان میں واضح کردیا ہے کہ تہران یورینیم کی افزودگی کا عمل بدستور جاری رکھے گا ۔