15 جون 2009 - 19:30

یمنی وزیر خارجہ نے حوثیوں کو دہشت گردی اور معاشی ترقی نہ ہونے کی ذمہ داری حوثیوں پر ڈال دی اور کہا: ہم ملک کی تعمیر و ترقی میں مصروف عمل تھے مگر معاشی مسائل کی وجہ سے تعمیر و ترقی کا سرکاری منصوبہ ناکام ہوا "تا ہم یقینا اپوریشن گروہ بھی ان مسائل میں قصور وار ہیں؟!!!

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق یمنی وزیر خارجہ ابوبكر القربي نے مصری روزنامے الاہرام کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب ہماری حمایت نہیں کررہا اور سعودی عرب کی مداخلت سے متعلق حوثیوں کی تشہیراتی مہم کا مقصد یہ ہے کہ وہ اس طریقے سے بیرونی امداد حاصل کرنا چاہتے ہیں؛ حوثیوں نے ابتداء میں زیدی مذہب کے دفاع کا مسئلہ پیش کیا اور اس کے بعد انہوں نے سیاسی مطالبات آگے بڑھائے۔

القربی سے کہا گیا کہ: کیا یہ درست ہے کہ ایران حوثیوں کی مدد کرکے یمن پر دباؤ بڑھانا چاہتا ہے کیونکہ امریکہ اور مغربی ممالک یمن کے حامی ہیں؟

انھوں نے کہا: میرے خیال میں یہ درست نہیں ہے کیونکہ ہم اپنے امور کے حوالے سے خود فیصلے کرتے ہیں اور ایران اور دنیا کے دیگر ممالک کے ساتھ تعلقات قائم رکھنے کے خواہاں ہیں۔

انھوں نے کہا کہ امریکہ، یورپ اور عرب ممالک یمن کی حمایت کرتے ہیں کیونکہ وہ سب یمن کی خودمختاری کو اہمیت دیتے ہیں اور یمن کا امن خطے کی امن کے لئے ضروری ہے؛ امریکہ کے ساتھ ہمارا سیکورٹی تعاون ہے اور خلیج یمن میں بحری قزاقوں کا مقابلہ کرنے کے لئے امریکہ اور روس سمیت ایرانی بحریہ بھی موجود ہے اور ایران اپنی بحری افواج کو ہمارے ساتھ ہماہنگی کے بعد خلیح عدن روانہ کرتا ہے۔

انھوں نے دعوی کیا کہ یمن نے امریکہ سے فوجی تعاون کی درخواست نہیں کی ہے! البتہ انھوں نے حال ہی میں یمن امریکی فوجی معاہدے کی طرف کوئی اشارہ نہیں کیا۔  

القربي نے کہا کہ حوثیوں کے ساتھ القاعدہ کے تعاون کے سلسلے میں کوئی ٹھوس ثبوت موجود نہیں ہے مگر ہم دیکھ رہے ہیں کہ القاعدہ حوثیوں کی اخلاقی حمایت کررہی ہے!!!

انھوں نے کہا کہ جنوبی یمن میں سنی علیحدگی پسندوں کو القاعدہ کی حمایت حاصل ہے اور القاعدہ ہی انہیں رقم اور ہتھیار فراہم کرتی ہے۔

انھوں نے اپنے مذکورہ بالا دعوے سے نتیجہ لیا کہ: "پس حوثیوں کو بیرونی امداد مل رہی ہے اور اگر ایسا نہ ہوتا تو وہ حکومت کے خلاف قیام نہ کرسکتے!!!

یاد رہے کہ حال ہی میں حوثی مجاہدین نے بھی کہا تھا کہ اگر یمن کو بیرونی اور خاص طور پر سعودی امریکی حمایت حاصل نہ ہوتی تو وہ اب تک شکست کھاچکی ہوتی کیوں کہ یمنی حکومت کی معاشی حالت بہت کمزور ہے اور بیرونی حمایت نہ ہونے کی صورت میں وہ بہت جلد گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہوگی۔ 

یمنی وزیر خارجہ نے ملک میں اقتصادی اور معاشی ترقی نہ ہونے کی ذمہ داری بھی حوثیوں پر ڈال دی اور کہا: شمالی اور جنوبی یمن کے الحاق کے بعد ہم ملک کی تعمیر و ترقی میں مصروف عمل تھے مگر معاشی مسائل کی وجہ سے ایسا نہ کرسکے اور تعمیر و ترقی کا سرکاری منصوبہ ناکام ہوا "اور یقینا اپوریشن گروہ بھی ان مسائل میں قصور وار ہیں؟!!!