موصولہ رپورٹوں سے اس بات کی نشاندہی ہوتی ہے کہ سعودی عرب کی بحریہ نے جبل الدخان اور جبل الدود میں الحوثی گروہ کے ٹھکانوں پر حملے کۓ ہیں۔ سعودی عرب کی بحریہ کے سربراہ نے اس خبر کی تصدیق کرتے ہوۓ کہا ہے کہ ہماری بحریہ نے فضائیہ کے ساتھ مل کر گزشتہ اڑتالیس گھنٹوں میں الحوثی گروہ کے ٹھکانوں پر شدید حملے کۓ ہیں۔ بعض رپورٹوں سے اس بات کی نشاندہی ہوتی ہے کہ سعودی عرب کی بحریہ نے اپنے ملک کی سرحد کے قریب واقع یمن کی میدی بندرگاہ کا محاصرہ کر لیا ہے۔ میدی بندرگاہ کا محاصرہ ایسی حالت میں کیا گيا ہے کہ جب سعودی عرب کے حکام نے یمن کے ساتھ ملحق اپنے متعدد دیہاتوں کو لوگوں سے خالی کرا لیا ہے ۔ بعض سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کے اس اقدام کا مقصد یمن کی سرزمین کے خلاف اپنی جارحیت کا دائرہ بڑھانا ہے۔ یمن کے شمالی علاقے کے شیعوں پر اپنے ہی ملک کی فوج کے شدید حملوں کو چار ماہ کا عرصہ ہورہا ہے اور گزشتہ دو ہفتوں سے سعودی عرب کے فوجیوں نے بھی یمن کے شیعوں کو اپنے حملوں کا نشانہ بنا رکھا ہے ۔ اس قسم کی قیاس آرائياں بھی اب سامنے آنے لگی ہیں کہ سعودی حکام یمن کے کچھ علاقے اپنی سرزمین میں شامل کرنا چاہتے ہیں۔ اسی مسئلے کے پیش نظر الحوثی گروہ کے سربراہ عبدالمالک الحوثی نے عرب لیگ کے سیکرٹری جنرل عمرو موسی کے نام ایک خط میں یمن کی سرزمین پر سعودی عرب کے حملوں کی مذمت کرتے ہوۓ اس تنظیم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ حقائق سامنے لانے ، یمن کے خلاف سعودی عرب کی جارحیت روکنے اور یمن کے شیعوں پر اس کے حملے بند کرنے کے سلسلے میں اپنے فرائض پر عمل کرے۔ الحوثی گروہ کے سربراہ نے اپنے خط میں اس بات پر بھی زور دیا ہےکہ یمن کے لوگ اپنے ملک کی جنگ میں سعودی عرب کی مداخلت کے مخالف ہیں اور وہ اپنے داخلی بحران کے پرامن ، بنیادی اور قومی حل کے خواہاں ہیں۔