اہل البیت نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق پشاور ميں اسلامی جمہوریہ ایران کے قونصل جنرل کے تعلقات عامہ کے سنیئر افسر اور آج صبح دفتر جاتے ہوئے دہشت گردوں کے حملے کا نشانہ بنے. سیدابوالحسن جعفری شدید زخمی ہوئے اور انہيں فوری طور پر اسپتال پہنچایا مگر زخموں کی شدت کی وجہ سے جانبر نہ ہوسکے.
پولیس نے بتایا کہ شہید جعفری اسپتال ميں منتقلی کے دوران راستے ہی ميں شہید ہوگئے ہيں.
قابل ذکر ہے کہ چند ماہ قبل بھی ایرانی سفارتکار "عطارزادہ" پر پیشاور ميں حملہ ہوا جس ميں ان کے ڈرائیور / محافظ شہید ہوئے اور انہيں اغوا کیا گیا جن کی رہائی ابھی تک عمل ميں نہيں آسکی ہے.
حکومت پاکستان نے دہشت گردی کے اس حملے کا الزام طالبان پر لگایا ہے.
52 سالہ سید ابوالحسن جعفري اسلامی انقلاب کی کامیابی اور اسلامی جمہوری نظام کی تأسیس کے بعد قونصلیٹ جنرل اسلامی جمہوریہ ایران ميں مصروف کار ہوئے تھے اور قونصلیٹ جنرل ميں کام کے ساتھ ساتھ ـ ایک روزنامہ نویس کی حیثیت سے ـ عرصۂ دراز تک پاکستانی اخبارات اور ایرانی ذرائع ابلاغ کے ساتھ بھی کام کرتے رہے تھے.
اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے شہید سید ابوالحسن کے قاتلوں کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کرتے ہوئے حکومت پاکستان سے بیرونی سفارتخانوں اور سفارتی کارکنوں کی حفاظت کے لئے ضروری اقدامات عمل ميں لائے.
انھوں نے کہا کہ پاکستان پشاور میں ایران کے قونصل خانے کےسینئر اہلکار کے قاتلوں کی گرفتاری کے لئے ٹھوس اقدامات عمل ميں لائے۔
وزارت خارجہ کے ترجمان رامین مہمان پرست نے آج پشاور سیدابوالحسن جعفری پردہشت گردوں کے حملے کی مذمت کرتے ہوئے صوبہ سرحد کے حکام کی جانب سے مجرموں کی گرفتاری کا پر زور مطالبہ کیا۔
وزارت خارجہ کے ترجمان نے عالمی کنونشنوں کے دائرے میں سفارتی مراکز اور ان سے وابستہ افراد کی مؤثر اور بہتر حفاظت کا مطالبہ کیا ۔
دريں اثناء پاکستان کے صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نی نے پشاورمیں ایرانی قونصلخانے کے پاکستانی اہلکار پردہشت گردانہ حملے کی مذمت کی ہے.
آصف زرداری اوریوسف رضاگیلانی نے اپنے الگ الگ پیغامات میں ایرانی قونصلخانے کے پاکستانی اہلکار کوشہید کئے جانے کے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس قسم کے اقدامات ایران اور پاکستان کے تعلقات کو خراب کرنے کے لئے کئے جا رہے ہیں۔
پاکستانی صدر اوروزیراعظم کے پیغام میں صوبہ سرحد کے حکام کو ہدایت دی گئی ہے کہ جلد از جلد اس واقعے کی تحقیقات شروع کریں اورذمہ داروں کو گرفتار کرکے ان پر مقدمہ چلایا جائے۔
ادھر صوبۂ سرحد کے وزیر اعلی امیرحیدر خان ہوتی نے بھی ایرانی قونصل خانے کے اہلکار کی شہادت کی فوری تحقیقات کاحکم دیا ہے۔
صوبہ سرحد کے وزیراعلی نے آج ایرانی قونصلخانے کے شعبہ تعلقات عامہ کے ڈائڑیکٹر کے قتل کی مذمت کرتےہوئے کہا کہ تمام سیکورٹی اداروں کو ہدایت دی گئی هی کہ وہ اس سلسلے میں تحقیقات کا فوری آغاز کریں۔
یاد رہے کہ پشاور میں اسلامی جمہوریہ ایران کے قونصلیٹ جنرل کے کمرشل قونصل جناب عطارزادہ ـ جو کئی مہینے قبل طالبان کے ہاتھوں اغوا ہوئے ہیں ـ پاکستان کے صدر، وزیر اعظم، وزیر داخلہ اور صوبۂ سرحد کے وزیر اعلی سمیت تمام پاکستانی حکام کے دعؤوں اور وعدوں ـ اور ان کے بقول "ہدایات" ـ کے باوجود ابھی تک رہا نہیں ہوئے ہیں اور ان کی زندگی کے بارے میں بھی کو ئی خیر خبر نہیں ہے!!! کیا ان دعؤوں، وعدوں، نعروں اور ہدایات پر اعتماد کرنا درست ہے؟
وزیر اعلی سرحد کا ایرانی قونصل خانے کا دورہ وزیراعلیٰ سر حد امیر حیدر ہوتی نے تین رکنی وفد کے ہمراہ پشاور میں ایرانی قونصل خانےکا دورہ کیا اور قونصل خانے کے ترجمان ابوالحسن جعفری کے قتل پر افسوس کا اظہار کیا۔ وزیراعلیٰ سرحد کے ہمراہ صوبہ سر حد کے وزیر اطلاعات میاں افتخار حسین اور اے این پی کے صوبائی صدر افراسیاب خٹک بھی موجود تھے ۔ پشاور میں ایران کے قونصل جنرل عباس علی عبداللہی سے ابوالحسن جعفری کے قتل پر تعزیت کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سر حد نے انہیں یقین دلایا کہ اس واقعے میں ملوث افراد کو گرفتار کرکے قرار واقعی سزا دی جائے گی۔