15 جون 2009 - 19:30

گلگت بلتستان میں پہلی قانون ساز اسمبلی کے لئے ہونے والے تاریخ کے پہلے انتخابات اپنی تمامتر گہماگہمی کے بعد اختتام پذیر ہوگئے ہیں اور اَب اِن انتخابات کے بعداِن میں حصہ لینے والی سیاسی اور مذہبی جماعتوں کواپنی بھرپُرکامیابی جیسے اچھے نتائج آنے کی امیدیں بھی بن چکی ہیں اورانہیں یہ بھی پورایقین ہوچلاہے کہ اِن نتائج کے بعد آئندہ چند دنوں میںگلگت بلتستان میںاِن کی جماعت ہی اپنی حکومت تشکیل دے گی مگر میرے نزدیک ایسانہیں ہے کہ کوئی بھی جماعت گلگت بلتستان کی پہلی قانون ساز اسمبلی میں اکیلے ہی اپنی حکومت بناسکے گی۔ یقینا اِن انتخابات کے نتیجے میں کوئی بھی حکومت واضح اکثریت حاصل نہیں کرسکے گی۔

اور کسی بھی جماعت کو اپنی حکومت کی تشکیل کے لئے ہارس ٹریڈنگ کرنی پڑے گی۔

حزب اختلاف کی سیاسی جماعتوں اور اِس پر کھلم کھلا تنقید کرنے والوں کو بھی اب یہ تسلیم کرناپڑے گا کہ اِس حکومت کایہ ایک بڑاکام ہے کہ اِس نے گلگت بلتستان کو ایک خودمختار علاقہ قرار دے کر نہ صرف ملکی تاریخ میں ایک نئے باب کا اضافہ کردیاہے بلکہ اِس حکومت نے اِس علاقے میں مکمل طور پر پُر امن انتخابات کرواکر یہ بھی ثابت کردیاہے کہ یہ علاقہ اور اس علاقے کے عوام جہاں 9 زبانیں بولی جاتی ہیں۔ اور جس کا زیادہ ترحصہ دیہات پر مشتمل ہے اِس کا بھی ملک میں جاری جمہوری اور سیاسی عمل میںاتناہی حصہ ہے کہ جتنا ملک کے اور دیگر علاقوں اور وہاں کے عوام کا ہے۔

اِس علاقے میں گزشتہ دنوں پہلی قانون ساز اسمبلی کے لئے انتہائی پر امن ماحول میں انتخابات ہوئے جس سے اِس علاقے کی مظلوم عوام بھی ملکی جمہوری اور قومی سیاسی دھارے میں شامل ہوگئے ہیں ۔

سرکاری اعدادوشمار میں واضح طور پر بتایا گیا تھا کہ اِس علاقے میں 12 نومبر 2009 کو پہلی قانون ساز اسمبلی کے قیام کے لئے23 نشتوں کے لئے ہونے والے انتخابات میںپاکستان پیپلزپارٹی کے 23،متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے 18،پاکستان مسلم لیگ (ن)کے 15، پاکستان مسلم لیگ (ق) کے 14،اے این پی کے 4،جے یوآئی (ف)کے 3،تحریک انصاف پاکستان کے2،جماعت اسلامی پاکستان کے 1،اور اِس کے علاوہ قوم پرستوں کے اتحاد گلگت بلتستان ڈیموکریٹک الائینس کے 6امیدوار اپنی پوری قوت کے ساتھ اپنی سیاسی قوت استعمال کررہے تھے۔

آخری اطلاعات آنے تک یہ انتخابات اپنے اپنے حلقوں میںمجموعی طور پر انتہائی پرسکون ماحول میں منعقدہوئے تھے۔جس کاسارا کریڈیٹ قانون نافذکرنے والے اداروں کی انتھک محنت کے ساتھ ساتھ اُن سیاسی جماعتوں کو بھی جاتاہے جنہوں نے اِن انتخابا ت کو پر امن بنانے میں اپنا اہم کردار ادا کیا۔

یہاں راقم الحرف کے خیال سے اِس میں کوئی شک نہیں کہ گلگت بلتستان کے انتخابات کے نتائج کسی بھی سیاسی جماعت کے لئے اتنے حوصلہ افزانہیں ہوںگے کہ کوئی بھی جماعت اکیلے ہی یہاں حکومت بنانے میں کامیاب ہوجائے گی جس کی اِن انتخابات میں حصہ لینے والی سیاسی جماعتیں امیدلگائے بیٹھی ہیں مگر اتنا ضرورہوگا کہ گلگت بلتستان میں ہونے والے تاریخ کے پہلے انتخابات کے نتیجے میں پہلی قانون ساز اسمبلی کے قیام کے لئے جو اسمبلی تشکیل پائے گی اِس سے گلگت بلستان میں مخلوط حکومت وجود میں آئے گی ۔

اور یہاں یہ بھی واضح رہے کہ گلگت بلتستان کے عوام بھی اِن انتخابات سے پر امید ہیں کہ اِن انتخابات کے بعد جو بھی حکومت تشکیل پائے گی وہ یہاں کے عوام کے لئے مسیحاثابت ہوگی اور اِس کے علاوہ یہاں کی عوام کی قسمت کا فیصلہ بھی ترجیحی بنیادوں پر کرکے یہاں کے عوامی مسائل پر توجہ دے گی۔اور عوام کو درپیش مسائل کو حل کرنے میںمعاون اور مددگار ثابت ہوگی۔

 

مضمون کو مختصر کیا گیا ہے جس کی بابت جناب اعظم صاحب سے معافی کے طلبگار ہیں۔

بشکریہ از عالمی خبریں