اہل البیت (ع) خبر ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق 15 اکتوبر کو عراق کے مختلف علاقوں میں ہونے والے دھماکوں میں 13 افراد جاں بحق اور 44 زخمی ہوئے تھے اور کل وزارت قانون اور صوبائی کونسل کی عمارتون کے قریب ہونے والے دھماکوں میں 132 افراد جاں بحق اور 700 کے قریب زخمی ہوئے.
یہ دونوں دھماکے کار بم دھماکے تھے اور پہلا دھماکہ وزارت قانون کی عمارت کے قریب ـ جو عراق کے سرکاری ٹیلی ویژن کی عمارت کے نزدیک واقع ہے ـ ہوا جس سے وزارتخانے کو شدید نقصان پہنچا.
دوسرا دھماکہ بغداد کی صوبائی شوری کے قریب ہوا اور چونکہ اس مقام پر لوگوں کا زبردست ہجوم تھا لہذا درجنوں گاڑیاں تباہ ہوئیں اور درجنوں افراد جاں بحق ہوئے.
اس سے قبل 19 اگست کو وزارت خارجہ اور وزارت خزانہ کے قریب ہونے والے دھماکوں میں کثیر تعداد میں عراقی شہری جاں بحق ہوئے تھے اور اس روز کو "خونی چہارشنبہ" کا نام دیا گیا تھا اور کل بغداد کا "خونی یکشنبہ" تھا جسمیں سینکڑوں بے گناہ شہری اپنے خون میں غوطہ زن ہوئے.
اگست کے دھماکوں کے بعد عراقی حکومت نے شام کی حکومت پر ان دھماکوں میں ملوث ہونے کا الزام لگایا تھا جس کے بعد دو ملکوں کی درمیان تعلقات شدید تناؤ سے دوچار ہوئے تھے.
کل کے دھماکوں کے بعد عراقی ذرائع ابلاغ نے اعلان کیا کہ ایرانی سفارتخانے کے سامنے دو کار بم دھماکے ہوئے ہیں جن میں 115 افراد جاں بحق اور زخمی ہوئے ہیں مگر بغداد میں ایران کے سفیر نے فوری طور پر ذرائع ابلاغ کو بتایا کہ یہ دھماکے سفارت خانے کے قریب نہیں ہوئے بلکہ ان کا نشانہ عراقی وزارت قانون اور صوبائی کونسل کی عمارتیں تھیں اور وزارت قانون کی عمارت ایرانی سفارت خانے کے قریب واقع ہے.
انھوں نے کہا کہ دھماکے کے نتیجے میں سفارتخانے کی کھڑکیاں، دروازے اور شیشے ٹوٹ گئے مگر سفارت خانے کے عملے کو کوئی جانی نقصان نہیں پہنچا. (ایرانی سفیر کا تفصیلی بیان اسی رپورٹ کے آخر میں ملاحظہ ہو)
عراقی وزیر اعظم "نوري المالكي " نے دھماکے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا: بعثیوں اور القاعدہ کے دہشت گردوں کے یہ غیر انسانی اور وحشیانہ اقدامات انتخابات میں رکاوٹ نہیں بن سکیں گے اور پارلیمانی انتخابات ضرور مقررہ تاریخ (16 جنوری 2010) کو ہونگے.
انھوں نے کہا: دہشت گردی کے بزدلانہ اقدامات عراقی عوام کو ـ اپنی حرکت آگے کی سمت جاری رکھنے اور صدام کی بعثی آمریت کے باقیات کے خلاف جہاد ـ سے نہیں روک سکتے اور ان کا عزم ہرگز کمزور نہ ہوگا.
"نوري المالكي " نے کہا: عراقی آمر صدام کی بعث پارٹی کے باقیات اور القاعدہ کے خونخوار دہشت گردوں نے جرائم اور خونریزی کے ذریعے عراقی عوام کے خلاف وحشیانہ ترین جرائم کے مرتکب ہوئے ہیں مگر ان کے ان اقدامات کی وجہ سے عراق عوام کا عزم کبھی بھی متزلزل نہیں ہوا ہے.
نوری المالکی نے دھماکوں کے فورا بعد دھماکوں کے مقام پر جاکر جائے وقوعہ کا معائنہ کیا اور اس مقام پر موجود ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا: وہ لوگ جو عراق کے پارلیمانی انتخابات میں رکاوٹ ڈالنا چاہتے ہیں اور ملک میں انارکی پھیلانے کے درپے ہیں، بہر قیمت گرفتار اور قانون کے حوالے کئے جائیں گے اور ان سے سینکڑوں بے گناہ شہریوں کے قتل کا منصفانہ انداز سے قصاص لیا جائے گا اور ہمارا جواب ہمارے دشمنوں کے لئے نہایت سخت اور دندان شکن ہوگا.
دوسری طرف سے عرب لیگ نے ایک بیان جاری کرکے اتوار کو ہونے والے دہشت گرد کاروائیوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے اعلان کیا کہ عرب ممالک عراق میں امن و امان کے منصوبوں کے نفاذ اور دہشت گردی کے خاتمی کے لئے حکومت عراق کے ساتھ مکمل تعاون کریں گے.
ترجمان عراقی حکومت: عراق کے بم دھماکوں میں تکفیری ٹولوں سمیت بعثی آمریت کے باقیات اور القاعدہ کے دہشت گرد ملوث ہیں.
"علي الدباغ " نے کہا کہ شہری دفاع کے کارکن دہشت گردی کا شکار دیگر افراد کو تلاش کررہے ہیں اور حکومت کے نزدیک امن و امان تباہ کرنے کے ان اقدامات کی ذمہ داری علاقے میں موجود سیکورٹی اور خفیہ ایجنسیوں پر عائد ہوتی ہے جن کی غفلت کی وجہ سے یہ واقعات رونما ہوئے ہیں.
انھوں نے کہا کہ کل کی دہشت گرد کاروائیوں پر ملکی سیکورٹی کونسل میں بحث کی جائے گی.
موصولہ رپورٹوں کے مطابق حکومت عراق کے ترجمان علی الدباغ نے کہا کہ ان دھماکوں کی کیفیت بھی 19 اگست کے دھماکوں سے ملتی جلتی ہے جن میں تکفیری ٹولے سمیت القاعدہ اور صدام کے باقیات ملوث تھے.
براثا نیوز کے مطابق علی الدباغ نے کہا کہ ہوٹل المنصور میں سفراء کا اجلاس ہونا تھا اور ساتھ ہی عراقی جلاوطن شہریوں کی پہلی کانفرنس ہونے والی تھی اور دہشت گردوں کا اصل نشانہ در حقیقت ہوٹل المنصور تھا مگر وہ وہاں نہیں پہنچ سکے تھے.
سفیر ایران:
دہشت گرد کاروائیوں کے محرکین اور پس پردہ قوتیں انسانوں کے قتل عام کے ذریعے اپنے آپ کو عراق کے سیاسی نظام پر مسلط کرنا چاہتی ہیں.
بغداد میں اسلامی جمہوریہ ایران کے سفیر "حسن كاظمي قمي" نے ذرائع ابلاغ کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہا: دھماکوں سے سفارتخانے کی کھڑکیوں اور دروازوں کو نقصان پہنچا تا ہم عملے کو کوئی نقصان نہیں پہنچا.
كاظمي قمي نے کہا: حالیہ دو مہینوں میں یہ دوسرا بڑا واقعہ ہے جس میں حکومت عراق کو خاص طور پر نشانہ بنایا گیا ہے اور یہ سب ایسے وقت ہورہا ہے کہ 2010 کے پہلے مہینے میں عراق میں پارلیمانی انتخابات ہورہے ہیں اور فطری امر ہے کہ ان ایام میں عراق میں امن و امان کے حوالے سے حوادث اور واقعات رونما ہونگے تا ہم ہمیں امید ہے کہ حکومت عراق نے عوام کی مدد سے جو سیکورٹی انتظامات کئے ہیں وہ کامیاب ہوں اور مستقبل میں اس طرح کے واقعات کا سد باب کیا جاسکے اور عراقی انتخابات بر وقت منعقد ہوں.
انہوں نے کہا: یہ جو کہا جاتا ہے کہ عراق میں امن و امان کی صورت حال ابتر ہے اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ پورے عراق میں یہی صورت حال ہے کیوں کہ عراق کے شمالی اور جنوبی علاقوں میں امن و امان کی صورتحال بہت بہتر ہے اور امن و امان کے خلاف ہونی والے دہشت گردانہ اقدامات بغداد اور شمال مغربی عراق پر مرکوز ہیں.
انھوں نے کہا کہ عراق میں امن و امان کے دشمنوں کے دو اہم مقاصد ہیں اور وہ ایک طرف سے ظاہر کرنا چاہتے ہیں کہ عراقی حکومت غیر مؤثر ہے اور امن و امان کے قیام میں ناکام ہوچکی ہے اور دوسری طرف سے وہ عراقی شہریوں کا خون بہا کر اپنے آپ کو حکومت اور سیاسی نظام پر ٹھونسنا چاہتے ہیں اور سیاسی مفادات حاصل کرنا چاہتے ہیں.
انھوں نے کہا: عراق گذشتہ چھ برسوں سے بیرونی افواج کے قبضے میں ہے اور یہ قابض افواج کی ذمہ داری تھی کہ اتنے طویل عرصے کے بعد پیشہ ور مقامی پولیس اور افواج کی تربیت کے لئے اقدام کرتیں مگر افسوس کا مقام ہے کہ انہوں نے اس سلسلے میں کوئی اقدام نہیں کیا ہے.
دفتر خارجہ: دہشت گرد کاروائیوں کا مقصد عراق کے جمہوری اداروں کو کمزور کرنا ہے.
اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کے ایک ترجمان نے عراق میں ہونے والی دہشت گرد کاروائیوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بغداد میں دہشت گردوں کے وحشیانہ حملوں کا مقصد عراق کے جمہوری اداروں کے استحکام کے سسلسلے میں ہونے والے اقدامات کو سبوتاژ کرنا ہے.
انہوں نے کہا کہ کل کے حملوں میں بھی گذشتہ دہشت گرد کاروائیوں کی طرح سینکڑوں بے گناہ شہری جاں بحق اور زخمی ہوئے ہیں اور ان کاروائیوں کا مقصد عراق کے امن و استحکام کو تباہ کرنا اور جمہوری اداروں کی تقویت کی غرض سے ہونے والے عراقی حکومت اور عوام کے اقدامات کو متأثر کرنا ہے اور ان کاروائیوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ دہشت گرد مسلم عراقی ملت کے ہر فرد کے دشمن ہیں اور وہ نہیں چاہتے کہ عراقی عوام اپنی مقدرات کو اپنے ہاتھ میں لے لیں.
انھوں نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی حکومت اور عوام عراق میں سیاسی عمل اور عوامی رائے سے قائم ہونے والے جمہوری اداروں کی مکمل حمایت کرتے ہیں اور ہمیں امید ہے کہ عراقی حکومت عوام کی حمایت اور تمام سیاسی جماعتوں کی زیرکی اور سرکاری اداروں کی کیاست کی بدولت اس قسم کے واقعات کا سد باب کرنے میں پوری طرح کامیاب ہو.
انہوں نے بالفطرہ مجرمین کے اس جرم کے نتیجے میں جاں بحق ہونے والے افراد کے پسماندگان اور ملت عراق کو تعزیت پیش کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران اس سانحے کا شکار ہونے والے خاندانوں اور زخمیوں کو ہر قسم کی انسانی امداد فراہم کرنے کے لئے تیار ہے.