15 جون 2009 - 19:30

اسلامی یونی ورسٹی نیوکیمپس اسلام آباد میں یکے بعد دیگرے دو خود کش دھماکوں میں 2 طالبات اور ایک طالبعلم سمیت چار افراد جاں بحق اور29 زخمی ہوگئے۔

 عینی شاہدین کے مطابق پہلا دھماکا سہ پہر سوا تین بجے کے قریب یونی ورسٹی کے اے بلاک میں واقع لیڈیز کیفے ٹیریا کے دروازے پر ہوا ۔ جبکہ دوسراکچھ دیر بعد شریعہ فیکلٹی میں ہوا ۔ دھماکوں کی اطلاع ملتے ہی پولیس کی بھاری نفری اور امدادی ٹیمیں جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں۔ پولیس حکام کے مطابق جائے وقوعہ سے ایک مشکوک افراد کو حراست میں لے لیا گیا ہے ۔ دھماکوں میں جاں بحق اور زخمی ہونے والے افراد کو پمز سمیت مختلف اسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا۔جاں بحق ہونے والے تین طلبا میں دو لڑکیاں اورایک لڑکا شامل ہے، جب کہ یونیورسٹی کا ایک ملازم بھی سانحے میں جاں بحق ہوا ۔ دو حملہ آوروں کی نعشیں بھی اسپتال لائی گئی ہیں ۔دھماکوں میں زخمی ہونے والے29 افراد میں24 خواتین اور5 مرد شامل ہیں ،جن میں سے4 کی حالت نازک بتائی جا رہی ہے ۔ ڈی آئی جی آپریشنز اسلام آباد بن یامین نے جیو نیوز کو بتایا کہ جائے وقوعہ سے خود کش حملہ آوروں کے جسم کے اعضا مل گئے ہیں ۔چیف کمشنر اسلام آباد میجر(ر) فضیل احمد اصغر نے پمز اسپتال کے دورہ کے موقع پر میڈیا کو بتایا کہ دونوں حملے خود کش تھے، جبکہ اس بات کی تحقیقات کی جا رہی ہیں کہ حملہ آور یونیورسٹی میں کس طرح داخل ہوئے ۔ ...

مختصر تبصرہ:

دھماکوں کا نشانہ ظاہراَ طالبات تھیں کیونکہ دھماکے کرانے والوں کے اسلام میں عورتوں کی تعلیم حرام ہے گوکہ مسلمانوں کے نبی اکرم (ص) فرماتے ہیں کہ حصول تعلیم عورتوں اور مردوں پر فرض ہے لیکن دہشت پرستوں کا نبی مسلمانوں کے نبی (ص)  سے الگ ہی کوئی ہوگا جس کے احکامات بھی مسلمانوں کے نبی (ص) سے بالکل مختلف ہیں. مسلمانوں کے نبی (ص) نے رواداری کا حکم دیا تھا جبکہ دہشت پرستوں کے ہاں گولی، بم، خودکش بمبار بسیار بسیار ہر دم تیار ہیں اور وہ اپنی حقانیت لوگوں کو مارکر ثابت کرنے کی کوششیں کررہے ہیں اور یہ نبی (ص) کا راستہ نہیں ہے بلکہ کسی جھوٹے مکتب کے جھوٹے نبی کی تعلیمات ہیں وہی جن کی تعداد موجودہ زمانے میں کچھ کم بھی نہیں ہے. البتہ گذشتہ زمانوں کے برعکس ـ جب انبیاء علیہم السلام مشرق وسطی ہی میں اترا کرتے تھے ـ اس وقت کے جھوٹے نبی سارے کے سارے مغرب میں نظر آتے ہیں وہی مغرب جہاں انسانیت کا سورج غروب ہوتا ہے اور دہشت گرد دنیا کے کسی بھی گوشے میں ان ہی کی تقلید کررہے ہیں اور ان کے اعمال سے فائدہ صرف مغرب کو پہنچتا ہے جو دہشت گردی کا مقابله کرنے کے بہانے ملکوں پر قابض ہونا چاہتا ہے اور یہ دہشت گرد ان کے لئے راستہ ہموار کرتے ہیں.