15 جون 2009 - 19:30

گورنر صوبۂ کربلا: کربلا میں ہونے والی دہشت گرد کاروائیوں میں کالعدم بعث پارٹی اور القاعدہ کے دہشت گرد ملوث ہیں.

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق گورنر کربلا، «آمال‏الدين الہر» نے کہا ہے کہ کالعدم بعث پارٹی کے باقیات انتخابات کی آمد آمد پر ملک کے حالات کو تناؤ سے دوچار اور عراقی عوام کو خوفزدہ کرنا چاہتے ہیں.

تازہ ترین رپورٹ کے مطابق کربلا پولیس کے سربراہ «کرنل علی جاسم» نے اعلان کیا ہے کہ کربلا میں ہونے والے بم دھماکوں میں ملوث اہم دہشت گرد گرفتار کیا گیا ہے.

کرنل علي جاسم نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ: کربلا میں بدھ کے روز ہونے والے دھماکوں میں ملوث چار افراد ـ جن میں ان دھماکوں کا اصلی مجرم بھی موجود ہے ـ حراست میں لے لئے گئے ہیں.

انہوں نے کہا کہ: گرفتار دہشت گردوں نے ابتدائی تفتیش میں اعتراف کیا ہے کہ ان کے اس غیرانسانی اقدام کا مقصد انتخابات کی آمد آمد پر ملک کا امن و سکون تباہ کرنا تھا.

یادرہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران پر عراق کے حالات خراب کرنے کا الزام لگانے والے بعض اجنبی اور دشمن ممالک کے ذرائع ابلاغ نے ان دھماکوں کا الزام بھی ایران کے سر تھونپنے کی کوشش کی مگر صوبۂ کربلا کے گورنر «آمال‏الدين الہر» نے ایک پریس میٹنگ کے دوران اعلان کیا کہ بدھ کو ہونے والے دھماکوں میں ایران نہیں بلکہ کالعدم بعث پارٹی کے باقیات، اندرونی انتہاپسند اور کے دہشت گرد تنظیم القاعدہ کے عناصر ملوث ہیں.

الہر نے کہا: بعيد از قیاس نہیں ہے کہ کربلا میں بعثیوں کی جانب سے بم دھماکوں کا مقصد انتخابات کی آمد آمد پر عوام کے درمیان خوف و ہراس پھیلانا ہو.

گورنر کربلا نے کہا: بعض مشکوک افراد کی گرفتاری کے لئے عدلیہ کی جانب سے ہدایات جاری ہوئی ہیں اور سیکورٹی افواج سراغرساں کتوں کی مدد سے کربلا کے نواحی شہروں ـ خاص طور پر کربلا کے پرانے محلے ـ میں مطلوبہ افراد کی گرفتاری کے لئی چھاپے مار رہی ہیں.

یاد رہے کہ بدھ کے روز شہر کربلا کے مرکز اور امام حسین (ع) و حضرت عباس (ع) کے روضوں کے قریب تین پے درپے دھماکے ہوئے جن میں آٹھ افراد شہید اور 48 زخمی ہوئے. شہداء اور زخمیوں کی اکثریت بچوں اور خواتین پر مشتمل ہے.

دریں اثناء روضہ ہائے مبارک سیدالشہداء (ع) و ابوالفضل العباس (ع) کے دروازے جو سیکورٹی وجوہات کی بنا پر بند کردیئے گئے تھے اب زائرین کے لئے کھول دیئے گئے ہیں.