15 جون 2009 - 19:30

پنجاب پولیس نے15جولائی کو آگا ہ کردیا تھا!!!

تحریک طالبان امجد فاروقی نامی گروپ نے جی ایچ کیو پر حملے کی ذمہ داری قبول کرلی۔اس گروہ کے ایک رکن نے جیو نیوز کوٹیلی فون کال کرکے ذمہ داری قبول کی۔ خود کو ترجمان ظاہر کرنے والے اس شخص کا کہنا تھا کہ یہ حملہ ملک میں بڑھتے امریکی اثرورسوخ کا ردعمل ہے۔ امجد فاروقی کالعدم تنظیم لشکر جھنگوی کا اہم رکن تھا اوراس نے سابق صدر پرویز مشرف پر دوبار حملے کی کوشش کی۔ امجد فاروقی کو سندھ کے علاقے نواب شاہ میں سکیورٹی فورسز نے ہلاک کردیا تھا۔ کال کرنے والے شخص نے مزید کہا کہ مطالبات مانے جانے تک کارروائیاں جاری رکھی جائیں گی۔ کال کرنے والا شخص لہجے سے جنوبی پنجاب کا رہائشی معلوم ہوتا تھا۔ 
دوسری طرف سےبتایا گیا ہے کہ سی آئی ڈی پولیس پنجاب کی جانب سے وزارت داخلہ سمیت تمام متعلقہ اداروں کو بھیجی گئی رپورٹ میں کہاگیاتھا کہ کالعدم جیش محمد، لشکرجھنگوی اور تحریک طالبان جی ایچ کیو پر حملے کی منصوبہ بندی کررہے ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ حملہ آور ملٹری یونیفارم میں ملبوس ہوکر جی ایچ کیو پر حملہ کریں گے، وہ ایک ٹوٹی دیوار سے جی ایچ کیو میں گھسیں گے اور اندر جاکر فائرنگ کریں گے۔ سی آئی ڈی رپورٹ میں یہ اطلاع بھی دی گئی تھی کہ دہشت گرد، بہاولپور پل، ملتان اور مظفرگڑھ کو ملانے والے پل یا ڈیرہ غازی خان اور مظفرگڑھ کے درمیان پل کو نشانہ بناسکتے ہیں، دہشت گرد ایک گاڑی میں25بوری دھماکہ خیز مواد سے پلوں کو اڑانے کی کوشش کریں گے اور دہشت گرد بجلی کی تنصیبات کو بھی نشانہ بناسکتے ہیں۔ سی آئی ڈی پولیس کی خفیہ رپورٹ میں کہاگیا تھا کہ دہشت گردکوٹ ادو، مظفرگڑھ پارکو اور پی ایس او کی تنصیبات ،مال گاڑی، گیس یا تیل کی پائپ لائن کو بھی اڑانے کی پلاننگ کرچکے ہیں۔ خفیہ رپورٹ کے مطابق دہشت گردوں نے اپنے چھوٹے گروپوں کو محتاط رہنے اور باہمی رابطے کے لئے کم سے کم موبائل فون استعمال کرنے کی ہدایت کی ہے اورکہاگیاہے کہ اگربہت زیادہ ضرورت ہو تو کوڈ ورڈز میں گفت گو کی جائے۔