15 جون 2009 - 19:30

ایڈیشنل سیکرٹری تعلیم چوہدری رشید نے محمد صدیق ولد امام دین سکنہ دھمن جھولی و دیگر کے ذریعہ شگفتہ بی بی کو سی ایم ایم سے باہر نکلتے ہوئے اغواء کرلیا اور راولپنڈی لے گئے ۔

بیورو کریٹ اور سیاسی اثر و رسوخ کے باعث شگفتہ بی بی کی زندگی اور مستقبل کو تاریک کر دیا گیا بااثر افراد کی پشت پناہی کے باعث پولیس اور انتظامیہ انصاف کے تقاضے پورے کرنے کے باوجود بااثر افراد دھمکیاں دے رہے ہیں ۔ فریادی خاتون شگفتہ بی بی اپنے خاندان کے ہمراہ سینٹرل پریس کلب میں پہنچ گئی ۔ شگفتہ بی بی نے الزام لگایا ہے کہ ایڈیشنل سیکرٹری تعلیم چوہدری رشید ایک بڑے قبیلے سے تعلق رکھنے کے باعث اور اپنے سرکاری عہدہ کی وجہ سے اپنے گاؤں اور گرد و نواح میں اقلیتی برادریوں کو زندہ رہنے کا حق دینے کے لئے تیار نہیں ۔ ان کے فرزند چوہدری شہزاد گزشتہ الیکشن میں امیدوار تھے جنہیں مذکورہ خاندان نے ووٹ نہیں دیئے جس کا بدلہ لینے کے لئے چوہدری رشید نے محمد صدیق ولد امام دین سکنہ دھمن جھولی و دیگر کے ذریعہ سی ایم ایم سے باہر نکلتے ہوئے اغواء کر لیا اور راولپنڈی لے گئے ۔ انہوں نے میرے ساتھ بالجبر زیادتی کی اور مجھے مارنے کی دھمکیاں دیتے ہوئے مجھ سے بیان دلوایا کہ میں اپنی مرضی سے آئی ہوں بعدازاں انہوں نے مجھے دارلامان بھجوا دیا مظفر آباد پولیس نے 22 دن تلاش کیا مذکورہ خاتون کے خاوند نے بتایا کہ ان کی ایک ہفتہ قبل شادی ہوئی تھی اور ان کی بیوی کو اغواء کر لیا گیا اوف اس وقت وہ سوات میں دہشت گردوں کے خلاف پاکستان آرمی کی جانب سے دہشت گردوں کے خلاف حصہ لے رہے تھے انہوں نے صدر پاکستان ‘ وزیر اعظم پاکستان ‘ جی او سی مری ‘ کور کمانڈر ‘ وزیر اعظم آزاد کشمیر ‘ چیف سیکرٹری آزاد کشمیر سے مطالبہ کیا ہے کہ ہمیں انصاف فراہم کرتے ہوئے تحفظ فراہم کیا جائے اور میری بیوی کے اغواء میں ملوث افراد کو کڑی سے کڑی سزائیں دینے کے علاوہ ایڈیشنل سیکرٹری چوہدری رشید کو ملازمت سے برطرف کیا جائے تاکہ وہ اپنے عہدے اور اثر و رسوخ کا ناجائز فائدہ اٹھا کر لوگوں کی زندگیاں اجیرن نہ بنا سکیں ۔