رہبرانقلاب اسلامی نے مجلس خبرگان کے سربراہ اورنمائندوں سے ملاقات میں اسلامی نظام کے امید افزاء، مثبت ومستحکم نقاط اوراس کی مضبوط پوزیشن کا حوالہ دیتے ہوئے موجودہ حالات میں دشمن کے پیچیدہ اوروسیع منصوبوں کی طرف اشارہ کیا۔

حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے اسلامی جمہوری نظام کے دشمنوں کی سافٹ وار یا خاموش جنگ کے مختلف پہلوؤں اورخطوط کی نشاندہی کرتے ہوئے ہوشیاری اوراتحاد کے تحفظ کی ضرورت پرتاکید فرمائی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے فرمایا کہ اسلامی انقلاب کی کامیابی کوتیس سال کا عرصہ گذرجانے کے بعد بھی صدارتی انتخابات میں رائے دہندگان کی پچاسی فیصدشرکت اس نظام کا ایک انتہائی مضبوط پوائنٹ شمارہوتا ہے اوراسی لئے اس کے دشمن عوام کومایوس کرنے کی کوششوں میں مصروف ہيں ۔رہبرانقلاب اسلامی نے اس بات کا ذکرکرتے ہوئے کہ صدارتی انتخابات کے بعد کے واقعات پردشمن جس طرح سے خوشیاں منارہے تھے ان کوکیسے نظراندازکیا جاسکتا ہے ؟ اوراس صورت حال سےکیونکر غافل رہا جاسکتا ہے ؟فرمایا برطانوی حکومت ایران کے سلسلے میں اپنے گذشتہ دوسوبرسوں کے سیاہ کارناموں کے ساتھ اوراسی طرح امریکہ اوربعض دیگرمغربی حکومتيں، (ایران کے اندر )بعض افراد کے اقدامات کی تعریف کررہی ہيں بنابریں ایران کے دشمنوں کی دشمنی اورتفرقہ واختلاف ڈالنے کی ان کی سازشوں سے غافل نہيں رہاجاسکتا ۔رہبرانقلاب اسلامی نے اس بات کا ذکرکرتے ہوئے کہ صدارتی انتخابات کے بعد ہونےوالے بلوے پہلے سے طے شدہ منصوبے کا نتیجہ تھے فرمایا خداوندعالم کے فضل وکرم سے یہ سازش ناکام ہوگئی اوردشمن کا تیرخوداسی کی طرف واپس ہوگیا ۔اس ملاقات میں آپ کے خطاب سے قبل مجلس خبرگان کے سربراہ آیت اللہ ہاشمی رفسنجانی نے کہا کہ رہبرانقلاب اسلامی کے فرمودات ہمیشہ کارسازوراہ گشا رہے ہيں انھوں نےکہا کہ مجلس خبرگان کا یہ اجلاس بہت ہی مفید رہا ہے.