اسلام آباد پاکستان سے اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ ک رپوٹرکے مطابق آج جبکہ پوری امت مسلمہ عید الفطر کی خوشیاں منارہی ہے پاراچنارـ کرم ایجنسی سے تعلق رکھنے والے راولپنڈی اور دارالحکومت اسلام آباد میں مقیم مختلف شعبہ ہائے زندگی کے افراد نے منسٹر کالونی کے سامنے دھرنا دیا؛ ان کا مطالبہ تھا کہ تین سال سے بند پاراچنار ٹل روڈ کو کھلوادیا جائے۔

اس رپورٹ کے مطابق میں سینکڑوں افراد نے G/6-2 امام بارگاہ سے احتجاجی جلوس نکالا۔ مظاہرین نے بینرز اور کتبے اٹھا رکھے تھے جن پر دہشت گردی اور دہشت گردوں کے خلاف اور ملک کے استحکام کے حوالے سے مختلف قسم کے نعرے درج تھے؛ مظاہرے میں ایک بڑی تعداد طلبہ اور بچوں کی تھی.
جلوس نے منسٹر کالونی کے سامنے پہنچ کر دھرنے کی شکل اختیار کرلی. مظاہرین نے منسٹرز کالونی کے سامنے چار گھنٹے مسلسل دھرنا دیا جس کے دوران شرکاء نے نعروں کے ذریعے اپنے مطالبات پر زور دیا.
طویل دھرنے کے بعد وزارت داخلہ کی جانب سے مذاکراتی ٹیم کو مذاکرات کی دعوت دی گئی.
مذاکرات کے لئے مجلس وحدت مسلمین کے ڈپٹی سیکٹریری جنرل علامہ محمد امین شہیدی، کرم ویلفیئر کے حاجی لطیف، سید ارشاد حسینی، محمد حسین، عظمت علی خان (ممبر امن کمیٹی)، شبیر ساجدی، شفیق بنگش اور آئی ایس او کے مرکزی صدر سید حسن زیدی چلے گئے جبکہ دھرنے کے شرکاء نے نماز جماعت کے بعد اپنا احتجاج جاری رکھا اور شرکاء کی تعداد میں لمحہ بہ لمحہ اضافہ ہوتا گیا.
مذااکراتی ٹیم کی گفتگو اور دھرنے کے شرکاء کی استقامت اور زوردار و معقول نعروں کے باعث وزیر داخلہ رحمان ملک احتجاجی دھرنے کے شرکاء کے پاس چلے آئے اور ان سے خطاب کیا.
وزیر داخلہ کے خطاب میں موجود اہم نکات مندرجہ ذیل ہیں :
۱۔ ایف سے کی نگرانی میں اشیاء خوردونوش کا سامان اور ادویات کو ہنگامی بنیادوں پر پہنچایا جائے گا۔
اسی سلسلے میں انہوں نے ایڈیشنل چیف سیکٹریری حبیب اللہ کو ہدایت کی کہ وہ ادویات کی تفصیل مذاکراتی ٹیم سے حاصل کرے.
۲۔ متاثرین کرم ایجنسی کو خصوصی ریلیف پیکیج دیا جائیگا.
۳۔جب تک راستہ نہیں کھلتا مسافرین کے لئے چارٹر طیارہ فراہم کیا جائیگا.
۴۔انہوں نے اس بات کو تاکید کے ساتھ بیان کیا کہ شددت پسند وں کو پورے ملک بشمول کرم ایجنسی سے مار بھگایا جائے گا.
شرکاء نے وزیرداخلہ کا خطاب اور ان کے وعدے سننے کے بعد اعلان کیا کہ وہ آئندہ چند ہفتوں میں دیکھ لیں گے کہ کیا ان کے وعدے پورے بھی ہوتے ہیں ہیں یا نہیں؟
آخر میں احتجاجی دھرنے میں شریک شیعیان اہل بیت (ع) نے خبردار کیا کہ اگر وزیر داخلہ کے یہ وعدے پورے نہ ہوئے تو ملک بھر میں دھرنوں کا نہ ختم ہونے والا ایک سلسلہ شروع ہوگا.
آخر میں شرکائے دھرنا پرامن طور پر منتشر ہوگئے۔
تبصرہ:
کسی زمانے میں رحمن ملک صاحب وزیر اعظم کے مشیر داخلہ تھے اور اس وقت بھی انہوں نے پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے ہزاروں مظاہرین کے سامنے یہی وعدے اور دعوے کئے تھے جن پر انہوں نے موجودہ دھرنے کے سامنے زور دیا ہے اور اس کے بعد ایک بار پھر بھی انہوں نے چارٹر جہاز کی پرواز شروع کرنے، علاقے کو اشیائے خورد و نوش و ادویات بہم پہنچانے اور دہشت گردوں کو پاراچنار کے مظلوم خطے سے مار بھگانے کے وعدے دیئے تھے مگر ان وعدوں پر ابھی تک علمدرآمد نہیں ہوا بلکہ حالات بد سے بدتر ہوتے چلے گئے؛ دسیوں بے گناہ مسافر شہید ہوئے، کئی بار علاقے پر وسیع جارحیت ہوئی؛ حکومت نے وزیر داخلہ اور صدر و وزیر اعظم کے وعدوں اور دعووں کے برعکس علاقے کے عوام سے کہا کہ اپنی حفاظت کے لئے خود ہی اقدام کریں؛ گذشتہ لڑائی میں آڑاولی قلعہ سے ایف کے وزیرستانی اہلکاروں نے شیعہ علاقوں پر گولہ باری کی؛ غرض ہر قسم کے مظالم اس علاقے کے محب وطن عوام پر ڈھائے گئے اور عجیب تو یہ ہے کہ اہالیان پاراچنار کے دشمن پاکستان کی سالمیت کے بھی دشمن ہیں اور دشمن کا دشمن دوست ہوتا ہے مگر پاراچنار کے سلسلے میں یہ قاعدہ بھی صادق نہیں آیا اور وزیرستان، سوات، خیبر اور دیگر علاقوں میں حکومت کے خلاف لڑنے والے دہشت گرد پاراچنار کی طرف رخ کرتے ہیں تو حکومت کے دوست بن جاتے ہیں اور ان میں بھائی چارہ قائم ہوجاتا ہے یہاں تک کہ پاراچنار کی طرف جانے والی سڑکوں پر قابض دہشت گرد سرکاری فورسز کے قافلوں کو نہیں چھیڑتے اور دوسری طرف سے بھی یہی سلسلہ جاری ہے مگر اگر کوئی شیعہ ان سڑکوں پر دیکھا جائے تو دہشت گرد سرکاری فورسز کی آنکھوں کے سامنے انہیں اغوا کرلیتے ہیں یا قتل کرتے ہیں اور اغوا ہونے والوں کے بدلے تاوان کا مطالبہ ہوتا ہے تو حکومت کے بعض کارندے اغوا شدگان کی واپسی اور تاوان دہشت گردوں کے حوالے کرنے جیسے "فرائض منصبی" سنبھال لیتے ہیں یا پھر شیعہ شہداء کی میتوں کے ٹکڑے اٹھا کر ان کے غمزدہ خاندانوں کے حوالے کردیتے ہیں.
یہ سارا ماجرا پاکستان کے نہایت "باضمیر" ذرائع ابلاغ کے سامنے ہے مگر جب پیروان اہل بیت (ع) کے قتل اور نسل کشی کی بات آتی ہے تو ملکی اور بین الاقوامی میڈیا کو بھی گویا سانپ سونگھ لیتا ہے اور صورت حال یہ بنتی ہے کہ محبین وطن اپنے ہی گھروں میں اجنبی بن جاتے ہیں اور دہشت و قتل و غارتگری کا بازار گرم رہتا ہے تا کہ بین الاقوامی غنڈوں سے عیدیاں وصول کی جاتی رہیں اور انہیں یہ باور کرایا جاتا رہے کہ دہشت گردوں کے خلاف جنگ پاکستان تنہا نہیں لڑسکتا اور فطری قاتل و جرائم پیشہ اور خونخوار قوتوں میں طاقت اتنی ہے کہ ان خلاف بہت طویل لڑائی کی ضرورت ہے اور ان عیدیوں کی قیمت بھی تو دیکھئے کہ فاٹا کے عوام کو ادا کرنی پڑ رہی ہے؛ ان کی خوشیاں لٹ گئی ہیں؛ ہرخاندان کا کوئی نہ کوئی فرد عیدیوں کی وصولی کے لئے قتل ہوچکا ہے، عیدیں لٹ گئی ہیں، بے روزگاری کا دور دورہ ہے اور پاراچنار کا حال تو اور بھی برا ہے جہاں کے عوام تین برسوں سے قلعہ بند ہیں اور حکومت کے اقدام کا انتظار کررہے ہیں اور بھوک اور بیماریوں سے نڈھال افراد خوراک اور ادویات نہ ہونے کی وجہ سے اپنے عزیزوں کے سامنے پاؤں رگڑ رگڑ کر جان دے دیتے ہیں اور چیختے ہیں تو ان کی آواز بلند پہاڑوں سے ٹکرا کر واپس آجاتی ہے کیونکه عوام کی آواز یعنی ذرائع ابلاغ خاموش ہیں اور وه محب وطن عوام کی آواز سننے اور اسے پاکستانی عوام اور دنیا والوں تک پہنچانے کے روادار نہیں ہیں.