11 دسمبر 2020 - 20:05
انگریزی شیعہ کون ہیں؟ ستائیسویں قسط

دلچسپ امر یہ ہے کہ صادق شیرازی نے داعش اور عراق اور شام میں لاکھوں انسانوں کے قاتل دہشت گرد ٹولوں کے بارے میں آج تک کوئی موقف اختیار نہیں کیا ہے وجہ یہ ہے کہ ان تنظیموں کی بنیاد امریکہ اور برطانیہ نے رکھی ہے"، اور یہودی ریاست نیز سعودی قبائلی حکومت اس کی حمایت کررہی ہے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ مشرق وسطی کے مسائل کے ماہر پروفیسر سید ہادی سید افقہی نے مئی 2015 میں انگریزی تشیّع کے لئے منعقدہ نشست بعنوان "انگریزی مولوی" میں شرکت کرکے شیرازی فرقے کے اہداف و مقاصد یوں بیان کئے: "
1۔ اجنبی قوتوں کی حمایت میں مرجع تراشی
2۔ [سیاست سے دوری کا دعوی کرنے کے باوجود] انقلاب اسلامی کی آشکارا مخالفت، نوجوانوں کو بہلا کر انقلاب اسلامی کی عدم پیروی کی ترغیب دلانا؛ چنانچہ صادق شیرازی خود کہتا ہے: "اے نوجوانو! دھوکہ مت کھاؤ! اپنے باپوں کی طرح مت ہو، جن میں سے کچھ نے دھوکہ کھایا؛ پیغمبر کی تاریخ کو خود پڑھو، ان کی ہر بات کی تصدیق نہ کرو"۔ میں نہیں کہتا کہ سید صادق شیرازی انگریزوں کا ایجنٹ ہے؛ میں پوچھتا ہوں کہ جناب صادق شیرازی! ایسی بات کیوں کرتے ہو جس کا برطانوی حکومت خیر مقدم کرتی ہے؛ اور تمہاری باتوں سے ناجائز فائدہ اٹھاتی ہے؟
3۔ عصر حاضر میں تشیّع کا پرچم سنبھالنے والے امام خمینی (قدس سرہ) اور امام خامنہ ای (حفظہ اللہ تعالی) کی کردار کشی۔
4۔ اسلام کے اہم ترین اور مرکزی ترین مسئلے [فلسطین] کی مخالفت کرنا۔
5۔ عالمی استکبار ـ بالخصوص بڈھے استعمار (برطانیہ) کی حمایت کرنا۔
6۔ منافقین (نام نہاد مجاہدین خلق) کی حمایت؛ صادق شیرازی کہے ہیں: کیا پیغمبر(ص) نے کسی ایک منافق کو مارا جو مدینہ میں رہتے تھے؟
7۔ فتنہ پرور قوتوں کا ساتھ دینا۔
8۔ سیاسی انحرافات کے سلسلے میں انجمن حجتیہ کی حمایت۔
9۔ دین اور سیاست کی جدائی کے نظریئے کو فروغ دینا۔
10۔ عراق کے معاملات اور داعش کی تکفیری تنظیم کے سلسلے میں دوہرا موقف اختیار کرنا۔
11۔ اہل سنت کے مقدسات پر حملہ کرنا اور توہین کا نشانہ بنانا۔
12۔ شہید سازی کا منصوبہ نافذ کرکے بعض متوفی افراد کو شہید کا عنوان دینا؛ مثال کے طور پر 2001 میں سید محمد شیرازی کا اپنی رہائشگاہ میں انتقال ہؤا تو دعوی کیا گیا کہ انہیں تشدد کا نشانہ بنا کر شہید کیا گیا ہے۔ حالانکہ وہ ایک لمحے کے لئے بھی گرفتار نہیں ہوئے تھے۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ صادق شیرازی نے داعش اور عراق اور شام میں لاکھوں انسانوں کے قاتل دہشت گرد ٹولوں کے بارے میں آج تک کوئی موقف اختیار نہیں کیا ہے وجہ یہ ہے کہ ان تنظیموں کی بنیاد امریکہ اور برطانیہ نے رکھی ہے"، اور یہودی ریاست نیز سعودی قبائلی حکومت اس کی حمایت کررہی ہے۔
لیکن شیرازی فرقے کی کارکردگی کے بارے میں دلچسپ ترین اور رسوا کن ترین اعتراف لندن میں مقیم عالم نما شخص یاسر الحبیب نے کیا۔ الحبیب ایک کویتی عالم نما، مجتبی شیرازی کا داماد، اور "فدک" نامی سیٹلائٹ چینل کا بانی ہے۔ اس چینل کا کام اہل سنت کے ہاں کی محترم شخصیات کی توہین کرکے عالم اسلام میں فتنہ انگیزی اور شرانگیزی اور شیعہ مراجع تقلید اور اسلامی جمہوریہ ایران کے قائدین کی توہین کرکے شیعہ نوجوانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش سے عبارت ہے۔ اس شخص نے ایک دفعہ لندن میں تعینات فدک چینل کے ایک براہ راستی نشری پروگرام کے ضمن میں کہا:
"مجھے یاد پڑتا ہے کہ ہمارے کتنے اردنی اور فلسطینی بھائی ایمیل کے ذریعے مجھے پیغام دیتے تھے اور کہتے تھے کہ "یہاں مالی صورت حال بہت دشوار ہے، غربت ہے، اور ہم برطانیہ ہجرت کرکے جانا چاہتے ہیں۔ اور مجھ سے راہ علاج مانگ رہے تھے چنانچہ میں نے ان سے کہا: "اگر تم عائشہ بنت ابی بکر کی شان میں گالی گلوچ اور دشنام طرازی کرو تو تمہیں یہاں لایا جائے گا، تمہیں ہفتہ وار 750 پاؤنڈ کی تنخواہ دی جائے گی اور ہائڈ پارک لندن کے بالمقال ایک اپارٹمنٹ دیا جائے گا"۔  
۔۔۔۔۔۔۔۔
ابو اسد

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲