5 دسمبر 2020 - 19:50
انگریزی شیعہ کون ہیں؟ پچیسویں قسط

حال ہی میں اس فرقے کے ایک شخص کو ایران میں برطانیہ کے لئے جاسوسی کے الزام میں پکڑا گیا تو سعودی عرب کے تمام تر ذرائع ابلاغ نے اسرائیلیوں، امریکیوں اور برطانویوں کے ساتھ مل کر اس فرقے کی مظلومیت پر سوگ منایا۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ لندن میں ایک امام بارگاہ جو یہودیوں کی حمایت سے معرض وجود میں آئی" (6)

کچھ حقائق اور تجزیئے
 
صہیونیوں کے لئے اس سے بڑھ کر کونسا مقصد زیادہ تزویری اور اہم ہوسکتا ہے؟
انگریز فرقہ سازی میں مصروف ہے، لندن میں یاسر الحبیب نامی کویتی شہری کو مکمل آزادی دی گئی ہے۔
جہاد کی اداکاری لندن کے قلب میں یہود و نصاری کی حمایت میں!
حزب اللہ لبنان کی مضحکہ خیز تقلید
ایران میں مقیم عراقی تجزیہ نگار سید رضا قزوینی (الغرابی) نے لندن میں مذکورہ فرقے کی بستی "فدک الصغری" کو قریب سے دیکھا اور سوشل میڈیا پر لکھا: "فدک الصغری لندن کا سرسبز و شادب اور خوشگوار علاقہ ہے؛ یہ بستی سید مجتبی شیرازی کے داماد شیخ یاسر الحبیب نے خرید لی ہے۔۔۔ یہ بستی تیار ہوئی اور سنہ 2013 میں یہاں ایک مسجد کی تعمیر کا سنگ بنیاد رکھا گیا۔ ایک عسکری تقریب میں یاسر الحبیب یا پھر "ہیئۃ خدام المہدی" نامی تنظیم کا پرچم بستی کی ایک پہاڑی پر لہرایا گیا جبکہ تنظیم کے اسکاؤٹس سبز یونیفارم میں ملبوس تھے۔۔۔ عمومی نمازیں یا باجماعت نمازیں اس بستی میں پڑھائی جاتی ہیں۔۔۔ ایک حوزہ علمیہ اور ایک اسکول بھی بستی میں تعمیر کیا گیا ہے اور یاسر الحبیب کا کہنا تھا کہ اطراف کی زمینیں خرید کر اس بستی کو ایک شیعہ بستی میں تبدیل کرنے اور یہاں کے انگریز باشندوں کو تشیع کی راہ دکھانے کا منصوبہ ہے"۔۔۔ یہاں کے اسکاؤٹس کا یونیفارم سبز ہے، یہاں ایک بستی کی بنیاد رکھی گئی ہے، سبز یونیفارم زیب تن کرکے اسکاؤٹس مذہبی مواقع پر مارچ کرتے ہیں اور "سعودی عرب" کو فتح کرنے کا نعرہ لگایا جاتا ہے ۔۔۔ صرف نعرے کی حد تک ۔۔۔ شہر لندن میں اس بستی کی مسلسل ترقی بہت دلچسپ ہے"۔
یاد رہے کہ حال ہی میں اس فرقے کے ایک شخص کو ایران میں برطانیہ کے لئے جاسوسی کے الزام میں پکڑا گیا تو سعودی عرب کے تمام تر ذرائع ابلاغ نے اسرائیلیوں، امریکیوں اور برطانویوں کے ساتھ مل کر اس فرقے کی مظلومیت پر سوگ منایا۔۔۔ چنانچہ اس فرقے کا مقصد سعودی عرب کو فتح کرنا نہیں بلکہ اسرائیل کے آگے مسلمانوں کی مزاحمت توڑنے میں سعودی عرب کا ہاتھ بٹانا ہے اور وہ صرف ایک نعرہ ہے سادہ دل شیعہ نوجوانوں کو بہلانے کے لئے۔
اور جب بہت بڑی رقم ادا کرکے ایک بہت بڑی اور شاندار عمارت میں ـ جو لندن کے یہودی محلے کے قلب میں واقع ہے ـ حسینیہ رسول اعظم کی بنیاد رکھی جاتی ہے کہ تو مقامی یہودی احتجاج کرتے ہیں مگر یہودی راہنما تل ابیب کی منظوری سے میدان میں آتے ہیں اور ہری بتی دکھا دیتے ہیں؛ سعودی ولیعہد انسانیت کے خلاف جرائم کے باوجود لندن کا دورہ کرتا ہے تو شیرازی فرقے کے افراد اسی وقت ایران کے سفارتخانے پر حملہ کرتے ہیں، امریکی، برطانوی، یہودی اور سعودی حملہ آوروں کی حمایت کرتے ہیں، دنیا بھر کی توجہ اس مسئلے پر مرکوز ہوجاتی ہے اور اس کی آڑ میں برطانوی عوام کی مخالفت کے باوجود، برطانوی حکومت 14 ارب پاؤنڈ کا مزید اسلحہ سعودیوں کو فروخت کردیتی ہے۔۔۔ جس سے بڑی آسانی سے معلوم ہوجاتا ہے کہ منصوبہ برطانیہ ـ اسرائیل اور سعودیوں کا مشترکہ ہے اور وہ مستقبل میں اس فرقے سے کوئی بڑا کام لینا چاہتے ہیں اور تشیع کا چہرہ مکمل طور پر مخدوش کرنا بھی تو اس کے اصل مقاصد میں شامل ہے اور جیسا کہ یاسر الحبیب نے کہا ہے: اس مرکز میں ہر قسم کی عزاداریوں کا منصوبہ ہے، قمہ زنی ہوگی، چھریوں والی زنجیر کا ماتم ہوگا؛ آگ اور کانٹوں پر ماتم کا اہتمام کیا جاتا رہے گا، اور ننگے جسم پر کیلوں والی زنجیر کا ماتم ہوگا"۔ یعنی سادیت (Sadism) یا آزار کشی کے رجحان اور ہر قسم کے جعلی خرافات کو مذہب کے عنوان سے عزاداری کے سانچے میں لایا جائے گا۔
رہبر انقلاب اسلامی اور مرجع تقلید شیعیان امام خامنہ ای فرماتے ہیں: "ہم اس تشیّع کو قبول نہیں کرتے جس کا مرکز لندن میں ہو؛ یہ وہ تشیّع نہیں ہے جس کو ائمہ علیہم السلام نے رائج کیا اور اسے چاہا۔ جس تشیّع کی بنیاد اختلاف انگیزی اور اسلام دشمنوں کی [جارحیتوں اور] آ موجود ہونے کے لئے راستہ ہموار کرنے پر استوار ہو، یہ تشیّع نہیں ہے؛ یہ انحراف اور گمراہی ہے"۔ (خطاب مورخہ 17 اگست 2015)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ابو اسد

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲