28 نومبر 2020 - 13:11
ظاہری پیشرفت کے باوجود، یہودی-سعودی جڑواں ریاستیں مایوسی کا شکار

یہ امر یقینی ہے کہ سعودی دیکھ چکے ہیں کہ ایران ٹرمپ کے زیادہ سے زیادہ دباؤ سے عہدہ بر آ ہوچکا، جس سے یہودیوں اور سعودیوں نے اپنی امیدیں وابستہ کر رکھی تھیں؛ اور انھوں نے دیکھ لیا کہ اس ظالمانہ جنگ میں ان کے مرشد کو بڑی شکست ہوئی ہے؛ چنانچہ بہت بعید ہے کہ امریکی دباؤ سے ناامید سعودی حکمران ایک بار پھر "اس زیادہ سے زیادہ دباؤ" کی امید لے کر امریکیوں کی ہر بات ماننے کے لئے تیار ہوجائیں؛ شرط یہ ہے کہ عقلیت نے کسی حد تک سعودی سیاست میں اپنے لئے جگہ بنا لی ہو۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ کہا جاتا ہے کہ یہودی ریاست کی فوج کو اس دورے کی خبر نہیں دی گئی تھی؛ اور بن سلمان اس خبر کی اشاعت کا خواہاں تھا۔ بن یامین نیتن یاہو کو بظاہر اندرون ریاست شدید تنقید کا سامنا ہے اور سیکورٹی اداروں نے اس کے اس اقدام کو غیر ذمہ دارانہ قرار دیا ہے۔ صہیونی مبصرین کہتے ہیں کہ نیوم کے نئے سعودی شہر میں ملاقات کے افشا کے حوالے سے نیتن یاہو کے فیصلے نے بن سلمان کو خطرے میں ڈال دیا ہے اور یہودی ریاست کے سیاسی ایجنڈے کو بھی منتازعہ بنایا ہے۔ وزير جنگ بنی گانتز نے بھی اس خبر کے افشا کو غیر ذمہ دارانہ قرار دیا ہے۔ یہودی ریاست کے اخبار یسرائیل ہیوم نے کہا ہے کہ بن سلمان، نیتن یاہو کے ساتھ اپنی ملاقات کی خبر کی نشر و اشاعت کا خواہاں تھا اور یہ کہ یہ یہودی حکام کے ساتھ بن سلمان کی پہلی ملاقات نہ تھی۔
مغربی ایشیا کے امور کے سینئر تجزیہ نگار ڈاکٹر سید افقہی نے کہا: یہودی ریاست کا وزیر اعظم ایران اور محاذ مزاحمت کے خلاف محاذ قائم کرنے کے لئے کوشاں ہے اور سعودی حکمرانوں سے تعلقات کی بحالی کا وعدہ لے کر اندرون خانہ اپنے ذاتی مسائل حل کرنے کے لئے بھاگ دوڑ کررہا ہے۔
ذرائع ابلاغ نے سوموار (23 نومبر 2020ع‍) کو خبر دی کہ نیتن نے یاہو اتوار کی شام کو خفیہ طور پر حجاز مقدس کے دور پر جاکر سعودی ولیعہد محمد بن سلمان کے ساتھ ملاقات اور بات چیت کی ہے۔ امریکی وزیر خارجہ مائک پامپیو اور یہودی ریاست کے بدنام زمانہ خفیہ ادارے "موساد" کا سربراہ "یوسی کوہن" بھی اس موقع پر موجود تھے۔
یہودی ریاست کے وزیر تعلیم "یواف گالانت" نے سوموار کے دن اس دورے اور بات چیت کے سلسلے میں شائع ہونے والی خبروں کی تصدیق کردی۔
ادھر امریکی جریدے وال اسٹریٹ جرنل نے بھی ایک سعودی اہلکار کے حوالے سے لکھا کہ یہودی وزیر اعظم اور سعودی ولیعہد نے تعلقات کی بحالی اور ایران کے بارے میں بات چیت کی ہے لیکن کسی مفاہمت نامے پر متفق نہیں ہوسکے ہیں۔
اسی سلسلے میں، اور اس حقیقت کے برعکس کہ وال اسٹریٹ جرنل سمیت مختلف ذرائع ابلاغ نے اس ملاقات کی تفصیلات بھی شائع کی ہیں، سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان نے اپنے ٹوئیٹ پیغام میں اس دورے کی خبروں کی یکسر تردید کی ہے اور لکھا ہے: "میں نے مختلف ذرائع ابلاغ میں نیتن یاہو اور محمد بن سلمان کی ملاقات کے بارے میں کچھ رپورٹوں کا مشاہدہ ضرور کیا ہے لیکن ایسی کوئی ملاقات نہیں ہوئی اور ملاقات میں صرف سعودی اور امریکی موجود تھے"۔
ادھر نیتن یاہو نے بھی اپنے دورہ حجاز اور سعودی ولیعہد کے ساتھ ملاقات کے بارے میں وضاحت دینے سے انکار کر دیا۔ اور ایک صہیونی اخبار نے بھی لکھا ہے کہ نیتن یاہو نے وزیر جنگ اور وزیر خارجہ کو اپنے دورے کے منصوبے سے آگاہ نہیں کیا تھا؛ اور وزیر جنگ "بنی گانتز" نے اس خفیہ دورے پر اپنا رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ "میں حجاز جانے والی خفیہ پرواز کے راز کے غیر ذمہ دارانہ افشا کی مذمت کرتا ہوں"۔
عراق کی النجباء اسلامی تحریک کے سیاسی شعبے نے اپنے رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا سعودی حکمرانوں کے اس اقدام کو خیانت اور غداری قرار دیا۔
فلسطین کی اسلامی جہاد تحریک نے حجاز مقدس میں بنی سعود کی طرف سے غاصب یہودی ریاست کے وزیر اعظم کی پذیرائی اور خیر مقدم کی شدید مذمت کی اور خبردار کیا کہ عرب حکام کی طرف سے یہودی ریاست کی غلامی اختیار کرنے موجودہ سلسلہ فلسطینی عوام پر وسیع اور طویل المدت یہودی جارحیت کا پیش خیمہ ثابت ہوسکتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ عرب حکمران اور یہودی ریاست مل کر فلسطینی مظلومین کے خلاف وسیع جارحیت کے لئے ماحول سازی کررہے ہیں۔۔۔
ادھر حرکۃ المقاومۃ الاسلامیۃ (حماس) کے راہنما اور سابق وزیر خارجہ محمود الزہار نے صہیونی وزیر اعظم کے دورہ حجاز پر اپنا رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا: ہمارا مسئلہ ملک حجاز نہیں ہے بلکہ مسئلہ وہ [سعودی] حکمران ہیں جو اس ملک پر مسلط ہوئے ہیں۔

ڈاکٹر سید ہادی سید افقہی نے نیتن یاہو کے دورہ حجاز کے سلسلے میں متضاد خبروں کی نشر و اشاعت کے بارے میں کہا:
۔ محمد بن سلمان نے کئی مرتبہ اردن اور مقبوضہ سرزمین میں یہودی ریاست کے حکمرانوں سے خفیہ ملاقاتیں کرتا رہا ہے
یہ پہلی مرتبہ نہیں ہے کہ محمد بن سلمان سمیت دوسرے سعودی اہلکار یہودی ریاست کے کسی اہلکار کے ساتھ اس طرح کی نیم آشکار ملاقات کررہے ہیں۔ بلکہ اس سے بھی آگے جایئے اور جان لیجئے کہ محمد بن سلمان اس سے پہلے بھی اردن اور مقبوضہ فلسطین میں یہودی ریاست کے حکمرانوں کے ساتھ طویل ملاقاتیں کرتا رہا ہے اور امارات، بحرین اور سوڈان کو یہودی ریاست کے ساتھ تعلقات بحال کرنے کی ترغیب دلانے میں بھی سعودیوں کا کردار بہت نمایاں اور بنیادی ہے اور کئی اخباری، سیکورٹی، اور تحقیقی حلقوں نے ان ملاقاتوں کی تصدیق کی ہے اور سعودیوں نے بھی آج تک ان رپورٹوں کی تردید نہیں کی ہے۔

۔ معمول کے تردیدی بیانات جو علاقے کے عوام کی طرف کی تضحیک کا نشانہ بنتے رہتے ہیں/ بن یامین-بن سلمان ملاقات ہوچکی ہے
یہ جو سعودی وزارت خارجہ نے تردید کی ہے، یہ اب سعودیوں کا معمول بن چکا ہے، اور سعودیوں کے تردیدی بیانات کا یہ سلسلہ علاقے کے عوام کی تضحیک کا نشانہ بن رہا ہے اور یہ بیانات حقائق کو بدل نہیں سکتے۔ یہ ملاقات قطعی طور پر انجام پائی ہے؛ محمد بن سلمان نے نئے شہر نیوم میں امریکی وزير خارجہ کی موجودگی میں نیتن یاہو کے ساتھ ملاقات کی ہے جو بن گورین ہوائی اڈے سے اڑ کے نیوم پہنچا تھا؛ اور یہ ملاقات تین یا پانچ گھنٹوں تک جاری رہی ہے اور بہت حساس موضوعات پر بات چیت ہوتی رہی ہے۔

۔ سعودی ناامید ہوچکے ہیں / سعودی-یہودی تعلقات کی بحالی مذاکرات کا بنیادی موضوع
نیتن یاہو کے دورے کے مقاصد میں سعودی-یہودی تعلقات کی بحالی سمیت دوسرے مقاصد بھی شامل تھے۔ قطعی طور پر دو طرفہ تعلقات کی اعلانیہ بحالی اہم ترین مقصد ہے۔ اس سے پہلے سعودی حکمران یہودی ریاست کے ساتھ تعلقات کی اعلانیہ بحالی کے شدت سے خواہاں تھے اور اس کے لئے دوسری ریاستوں کے ساتھ دوڑ میں شریک تھے اور اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ ٹرمپ کی کامیابی پر یقین کامل رکھتے تھے؛ لیکن اب جبکہ ٹرمپ ناکام ہوچکا ہے تو لگتا ہے کہ وہ مزید جلدبازی نہیں دکھا رہے ہیں کیونکہ وہ مایوس ہوچکے ہیں؛ اور اب وہ رفتہ رفتہ بائڈن اور مشرق وسطی کے سلسلے میں اس کی نئی پالیسی کے ساتھ ہم آہنگ ہونے کی تیاری کریں گے۔
قبل ازیں جوبائڈن محمد بن سلمان کے بارے میں مختلف قسم کے خیالات کا اظہار کرچکا ہے؛ اس نے بن سلمان کو بارہا مورد تنقید ٹہرایا ہے اور یمن پر سعودی جارحیت، مغربی ایشیا کے مسائل، انسانی حقوق، بالخصوص خاشقجی کے ترکی میں قتل کے مسئلے، سرزمین مقدس کے اندر شہری آزادیوں اور سیاسی قیدیوں کی عدم آزادی جیسے مسائل کی یاددہانی کرائی ہے؛ چنانچہ اس وقت سعودیوں کے ہاں یہودی ریاست کے ساتھ حالات معمول پر لانے کے سلسلے میں کوئی خاص اشتیاق نہیں پایا جاتا اور حتی کہ وزیر خارجہ فیصل بن فرحان کے خیالات کی روشنی میں کہا جاسکتا ہے کہ سعودی حکمران ماضی قریب کی طرح کا اشتیاق کھو بیٹھے ہیں اور انہیں اب بائڈن کے مطالبات کے لئے تیار ہونا ہے!
واضح رہے کہ فیصل بن فرحان نے کہا تھا کہ "ہم اسرائیل کے ساتھ حالات معمول پر لانے کے مسئلے کی مکمل تائید کرتے ہیں بشرطیکہ "فلسطین کے ساتھ مصالحت" کا مسئلہ، دو حکومتوں یعنی "اسرائیلی حکومت" اور خودمختار اتھارٹی کی حکومت" کا مسئلہ حل ہوجائے۔۔۔ جبکہ امریکی انتخابات سے قبل سعودی ان شرائط کو بھلا چکے تھے!

۔ باپ نے بیٹے سے کیا کہا؟
ہماری اطلاعات کے مطابق حالیہ ایام میں بن سلمان اپنے باپ بادشاہ سلمان بن عبدالعزیز سے رجوع کرتا رہا ہے اور سلمان نے اس سے کہا ہے کہ چونکہ عالم اسلام میں ہماری ایک خاص منزلت ہے اور اگر ہم یہودی ریاست کے ساتھ حالات معمول پر لائیں تو چونکہ ٹرمپ کی صورت حال ابھی واضح نہیں ہوسکی ہے اور اس کی صدارت یقینی نہیں ہے، چنانچہ اس پورے کھیل میں ہ"ہارے ہوئے" ہم ہی ہونگے۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ سعودیوں نے اپنی رہی سہی پوزیشن کے تحفظ کے لئے لیت و لعل سے کام لیا کیونکہ وہ دیکھنا چاہتے تھے کہ امریکی صدارتی انتخابات کے نتائج کیا بنتے ہیں؛ اور اس کے بعد ہی اس سلسلے میں آخری فیصلہ کرنا چاہتے تھے۔

۔ آل سعود کے ساتھ یہودی ریاست کے تعلقات کی بحالی کا "اظہار"، پامپیو اور صہیونیوں کی اشد ضرورت
ارض مقدسہ کے غاصب صہیونی ریاست کے وزیر اعظم بن یامین نیتن یاہو اور امریکی صدر اور وزیر خارجہ کو اس وقت اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ سعودی حکمران "یہودی ریاست کے ساتھ حالات معمول پر لانے" اور حکام حجاز کی طرف سے یہودی ریاست کو تسلیم کرنے کے لئے آمادگی کا "اظہار" سامنے آئے؛ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ نیتن یاہو کے دورے کے دوران ہونے والے مذاکرات میں سے ایسی کوئی بات ابھی تک منظر عام پر نہیں آئی ہے جس سے اندازہ لگایا جاسکے کہ سعودیوں نے مائک پامپیو کو کیا کیا وعدے دیئے ہیں؛ گوکہ پامپیو کی تاریخ انقضا (expiry date) گذر چکی ہے اور اب اسے اپنا بوریا بستر گول کرکے وائٹ ہاؤس کو خیرباد کہنا ہے!

۔ جھلسی ہوئی زمین جو ٹرمپ بائڈن کے حوالے کرے گا / ٹرمپ نہیں چاہتا کہ صدارت کا نوالہ آسانی سے بائڈن کے گلے سے اترے
ایک مسئلہ جھلسی ہوئی زمین (Scorched Earth) کا ہے جو ٹرمپ جو بائڈن کے حوالے کرنے کا ارادہ رکھتا ہے، وہ یہ ہرگز نہیں چاہے گا کہ امریکی صدارت کا نوالہ بائڈن کے گلے سے آسانی سے اترے۔ وہ مغربی ایشیا اور شمالی افریقہ کے کیسوں کو حل کرکے صاف ستھری حالت میں، اگلے صدارت کے حوالے کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا۔
ٹرمپ تو جارہا ہے، جب جائے گا تو پامپیو اور کابینہ کے دوسرے اراکین بھی چلے جائیں گے، اور ٹرمپ کا اصرار ہے کہ علاقے میں بھی اور امریکہ کے اندر بھی مہم جوئی کی جائے، اور یہ جو شور شرابہ اس نے بپا کیا ہؤ‎ا ہے اس کا مقصد بھی یہی ہے۔
ٹرمپ نہیں چاہ تا کہ صدارت کا نوالہ آسانی کے ساتھ بائڈن کے گلے سے اتر جائے اور ممکن ہے کہ وہ اسی مقصد کے حصول کے لئے جھلسی ہوئی زمین کی پالیسی اپنا کر بعض اقدامات عمل میں لائے۔ گوکہ جہاں تک علاقے کا تعلق ہے تو ایران بھی ہر قسم کی مہم جوئی کا سامنا کرنے کے لئے تیار ہے اور محاذ مزاحمت بھی پوری طرح چوکس ہے؛ یہاں پوری تیاری ہے۔  

۔ اتوار کی شب کو سرزمین حجاز میں کیا ہؤا؟ نیتن اور پامپیو نے بن سلمان سے کیا کہا؟ بن سلمان کا رد عمل کیا تھا؟
امریکی اور صہیونی بن سلمان کو ترغیب دلاتے ہیں کہ علاقے پر ایک لرزہ طاری کرے۔ وہ کہتے ہیں: ہمیں اس علاقے میں ایک لرزے کی اشد ضرورت ہے! بن سلمان کو غصہ آتا ہے اور کہتا ہے: یہی ایک جال جو تم نے یمن میں میرے لئے بچھایا، میرے لئے کافی ہے؛ تم نے کہا کہ انصار اللہ ایک چھوٹی سی کمزور جماعت ہے، اور سعودی افواج بڑی آسانی سے اس پر غلبہ پا سکتی ہیں، اور یہ کہ ہم [امریکی اور صہیونی] یمن کو تم [سعودیوں] کے حوالے کریں گے! لیکن میں عرصہ پانچ سال سے اس مصیبت میں الجھا ہؤا ہوں اور اپنے زخم چاٹ رہا ہوں اور اخراجات برداشت کررہا ہوں! المختصر محمد سلمان اس میٹنگ میں غضبناک ہؤا ہے اور اس نے بظاہر اس مسئلے کی مخالفت کی ہے۔
نیتن یاہو نے بن سلمان کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ: اگر ہم یہاں کسی مفاہمت پر نہ پہنچیں اور ایسا کوئی اقدام نہ کریں جو لرزہ طاری کرے اور امریکہ میں بھی انتخابات کے نتائج کو ٹرمپ کے حق میں پلٹا دے، تو میں [نیتن یاہو] بھی خطرے سے دوچار ہونگا اور تم [بن سلمان] بھی خطرے سے دوچار ہوگے، اور اگر جو بائڈن صدارت کا عہدہ سنبھالے تو قطعی طور پر تمہاری ممکنہ بادشاہت خطرے میں پڑ جائے گی اور تمہاری پوزیشن بہت کمزور ہوجائے گی۔ مجھ [نیتن یاہو] کو بھی جیل جانا پڑے گا اور میری حالت بھی پتلی ہوجائے گی؛ اور ٹرمپ کو بھی کئی عدالتی کیسوں کا سامنا کرنا پڑے گا، جن کی وجہ سے اس کو کافی مسائل سے دوچار ہوسکتا ہے۔ لہذا ہم تینوں [نیتن یاہو، ٹرمپ اور بن سلمان] کے بچاؤ کے لئے ایک لرزہ خیز اقدام کی ضرورت ہے جو ہمیں ان خطروں سے نکال دے اور نجات دلا دے۔

۔ پامپیو بن سلمان کو متنبہ کرتا ہے
حتی پامپیو نے اس میٹنگ میں بن سلمان کو خبردار کرتے ہوئے کہا: اس وقت جو بائڈن تمہارے بادشاہی خاندان کے ایک فرد کے ساتھ رابطے میں ہے اور ممکن ہے کہ وہ آپ کو بادشاہ نہ بننے دے! اور یہ بھی امکان ہے کہ وہ تمہیں ولی عہدی کے عہدے سے بھی برطرف کروا دے۔
پامپیو اور نیتن یاہو نے بن سلمان کو متنبہ کیا اور سمجھایا کہ تمہیں بس ایک بڑی مہم جوئی پر مبنی اقدام کرنا چاہئے؛ لیکن بن سلمان بظاہر، نہیں مانا اور بولا: میں خود جانتا ہوں کہ بائڈن کے ساتھ کس طرح سے پیش آؤں؛ اور جیسا کہ معلوم ہوتا ہے یہ میٹنگ کسی نتیجے کے بغیر اختتام پذیر ہوئی۔

۔ بن سلمان سے تعلقات معمول پر لانے کا وعدہ لینے پر بن یامین کا اصرار / بن یامین ایران کے خلاف مشترکہ محاذ بنانے کے درپے
اتوار کی شب بن یامین نیتن یاہو کے خفیہ دورہ حجاز کا ایک مقصد سعودی ولیعہد سے یہ وعدہ لینا تھا کہ وہ یہودی ریاست کے ساتھ اپنے تعلقات بحال کرنے کا اعلان کرے۔ کیونکہ غاصب ریاست کے پارلیمانی انتخابات قریب ہیں اور وہ اس سعودی وعدے کو انتخابات کے لئے خرچ کرنا چاہتا ہے! اور اس سے اپنی خارجہ پالیسی کی ایک حصول یابی اور خلیج فارس کے علاقے میں یہودی اثر و رسوخ کے فروغ کے طور پر فائدہ اٹھانا چاہتا ہے۔ نیز نیتن یاہو اسلامی مزاحمت اور اسلامی جمہوریہ کے خلاف ایک محاذ بنانے کے درپے ہے جس میں یہودی، سعودی اور نہیانی ریاستیں، امریکہ اور ممکنہ طور پر سوڈان اور عمان سمیت چند دوسرے ممالک شامل ہوں اور وہ یہ کہنا چاہتا ہے کہ "ہم نے یہ محاذ بنا لیا ہے اس لئے کہ اگر یہودی ریاست نے کوئی لرزہ خیز اقدام کیا اور یوں سب کو انجام شدہ عمل کا سامنا کرنا پڑے"؛ تاکہ یوں علاقے میں اپنے کسی ہدف "ایران یا دوسرے ملک" پر حملہ کرنے سے پہلے سعودی حکومت اور یہودی حکومت کی پشت پناہی کے لئے تمام تر اقدامات انجام دیئے جائیں اور ایک حمایتی پشتہ تیار ہوجائے اور اس کے بعد اس طرح کی کسی ممکنہ خطا کا ارتکاب کریں۔

۔ ایک طاقتور اور تازہ دم ایران کا خوف سعودیوں کو ستا رہا ہے
گوکہ دنیا جانتی ہے کہ ایران کسی بھی پڑوسی ملک کا دشمن نہیں ہے اور کسی بھی مسلم ملک پر کبھی جارحیت نہیں کرے گا لیکن عرب حکمران اپنی ناجائز استبدادیت کے چلے جانے کے خوف سے بھی اور مغربی اسلحہ فروشوں کی ترغیب پر بھی، ایران کو اپنا دشمن سمجھتے ہیں اور سعودی حکمران اپنے حساب و کتاب کے مطابق کہتے ہیں کہ ٹرمپ نے ایران پر زیادہ سے زیادہ اور شدید سے شدیدتر دباؤ ڈالنے کی جس پالیسی کا آغاز کیا تھا، عین ممکن ہے کہ بائڈن اس پالیسی کو جاری نہ رکھنا چاہے اور ممکن ہے کہ وہ ایٹمی معاہدے میں واپسی اور نئے معاہدوں کے انعقاد کی خاطر اعتمادساز کی خاطر ایران کو کچھ رعایتیں بھی دیدے؛ چنانچہ اب سعودی حکمران اپنے مفروضوں کی بنیاد پر، اس تشویش میں مبتلا ہیں کہ امریکہ کہیں ایران کے ساتھ صلح نہ کرلے!
ان کا خیال ہے کہ اگر ایران اپنے مسائل کو امریکہ کے ساتھ حل کرلے، تو یقینا یہ ان کے لئے نقصان دہ ہے اور ایک طاقتور، تازہ دم ایران، - جس پر سے اسلحے کی خرید و فروخت کی پابندی اٹھ چکی ہے، جو چین کے ساتھ 25 سالہ تعاون کے روڈ میپ پر متفق ہونے کے دو طرفہ منصوبے پر کام کررہا ہے اور شنگھائی تعاون تنظیم کی رکنیت حاصل کرنے کے بالکل قریب ہے، - یقینی طور پر ایک دیوقامت اور عظیم علاقائی طاقت کے طور پر ابھرے گا؛ اور سعودیوں سمیت کچھ ریاستیں - جو کچھ اندرونی اور بیرونی تقاضوں کے تحت اور اپنے ہی مفروضوں کی بناپر ایران کو اپنا دشمن سمجھتی ہیں ـ اپنے گرد ایک حفاظتی ڈھال بنانے پر مجبور ہونگی۔ چنانچہ سعودی وزیر خارجہ نے بائڈن سے پیشگی مطالبہ کیا ہے کہ اگر امریکہ ایران کے ساتھ ایٹمی معاہدے میں پلٹ کر آنا چاہے، تو اسے سعودی عرب کو بھی ان مذاکرات میں شامل کرنا ہوگا!!!
۔ ایران نے بارہا بنی سعود کو مذاکرات کے لئے بلائے لیکن وہ نہ آئے!!!
یہ کہ سعودی وزیر خارجہ نے ایران کے ساتھ عالمی طاقتوں کے مذاکرات میں شامل ہونے کا مطالبہ کیا ہے، تو پہلا سوال یہ ہے کہ کیا ایران اس سعودی مطالبے کو اہمیت دے گا؟ کیا امریکہ اس  کو سنجیدہ لے گا؟ کیا یہ دھونس جمانے کے لئے طاقت کی سعودیوں کی طرف کی اداکاری ہے؟ کیا سعودی حکمران، جنہیں امریکی دودھ دینے والی گائے کا لقب دیتے آئے ہیں، اپنی اوقات بھول کر شیخی بگھارنے پر اتر آئے ہیں؟ ان سوالات کا جواب دینا فی الحال، قبل از وقت ہے۔
اسلامی جمہوریہ ایران نے کئی بار سعودیوں کو مذاکرات کی میز پر بیٹھنے اور باہمی مسائل حل کرنے کی دعوت دی لیکن وہ نہیں آئے کیونکہ ٹرمپ پر انہیں یقین تھا، معمول کے مطابق، اور وہ ایران کے ساتھ مسائل کے حل کو ضروری نہیں سمجھتے تھے؛ اور اب ایران کہہ رہا ہے کہ "کیا تم بائڈن کے دور میں بھی امریکہ کے پیچھے چھپ کر مورچہ زن ہونا چاہتے ہو اور بائڈن کا اعتماد کما کر ایران-امریکہ ایٹمی مذاکرات میں مداخلت کروگے؟"
یہ بات یقینی نہیں ہے کہ امریکہ بائڈن کے دور میں ایران کے خلاف پابندیوں کو کم کرے گا لیکن کہا جاسکتا ہے کہ اس دور میں ایران پر امریکی دباؤ میں کمی آئے گی؛ ممکن ہے کہ کچھ پابندیاں اٹھ جائیں یا کم از کم امریکہ نئی پابندیاں لگانے سے اجتناب کرے۔
یہ امر یقینی ہے کہ سعودی دیکھ چکے ہیں کہ ایران ٹرمپ کے زیادہ سے زیادہ دباؤ سے عہدہ بر آ ہوچکا، جس سے یہودیوں اور سعودیوں نے اپنی امیدیں وابستہ کر رکھی تھیں؛ اور انھوں نے دیکھ لیا کہ اس ظالمانہ جنگ میں ان کے مرشد کو بڑی شکست ہوئی ہے؛ چنانچہ بہت بعید ہے کہ امریکی دباؤ سے ناامید سعودی حکمران ایک بار پھر "اس زیادہ سے زیادہ دباؤ" کی امید لے کر امریکیوں کی ہر بات ماننے کے لئے تیار ہوجائیں؛ شرط یہ ہے کہ عقلیت نے کسی حد تک سعودی سیاست میں اپنے لئے جگہ بنا لی ہو۔
۔۔۔۔۔۔۔
بقلم: ڈاکٹر سید ہادی سید افقہی
ترجمہ: فرحت حسین مہدوی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۱۱۰