اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ شیرازی فرقہ، یا وہی انگریزی شیعہ، داعش اور النصرہ کا ہی کردار ادا کر رہا ہے وہ سنی مذہب کو اپنا دستاویز بناتے ہیں یہ شیعہ مذہب کو، وہ بھی اسلام کو ایک پرتشدد مذہب کے طور پر متعارف کراتے ہیں، یہ بھی؛ انگریزی شیعوں کو جو ٹاسک دیا گیا ہے اس میں کسی مرجع تقلید کو ـ عراق سے لے کر ایران تک اور لبنان تک ـ نہیں بخشا جاتا، یہ فرقہ تشیع کو ایک غیر معقول، متشدد اور تکفیری مذہب کے عنوان سے متعارف کرانا چاہتے ہیں؛ شیعہ انقلابیت اور ظلم و جبر کے خلاف جدوجہد کو ـ جو عاشورا 61 ہجری سے شروع ہوچکی ہے ـ گرا کر خرافات اور غیر دینی اعمال میں بدل دینا چاہتے ہیں، دنیا کے زندہ ترین مذہب کو مردہ مذہب کے طور پر پیش کرنا چاہتے ہیں: قمہ زنی، زنجیر زنی، فرقہ وارانہ تکفیری رویوں، آگ پر چلنا، امام حسین علیہ السلام کی عزاداری کو ہدف حسینی بنا کر پیش کرنا اور مقصد حسینی کو اذہان اور افکار سے مٹا دینا اور عزاداری کے اہداف کو نابود کرنا، شیعیان اہل بیت کو اہل بیت کے حرم کے دفاع سے دور رکھنے کی کوشش کرنا، عزاداری میں نت نئی روشیں اختراع کرکے شیعہ نوجوانوں کو دفاع حرم جیسے عظیم فریضے سے غافل کرنے کے سلسلے میں اسرائیل اور آل سعود کا ہاتھ بٹانا، مزاحمت تحریک کے خلاف تشہیری مہم میں آل سعود اور یہودی ریاست کے منصوبوں پر عملدرآمد کرنا اور کرانا وغیرہ وغیرہ۔۔۔
امریکہ اور اسرائیل آل سعود کو استعمال کرکے علی الاعلان شیعہ اور سنی کے درمیان اختلافات کو ہوا دے رہے ہیں تو اگر ہمیں اس کے پس پردہ عوامل کا اندازہ لگانا مشکل ہے تو اسی اعلانیہ امریکی اسرائیلی موقف کو دیکھ کر انداز لگانا بڑا آسان ہوجاتا ہے کہ شیعہ اور سنی کی جنگ کا فائدہ صرف اور صرف یہود و نصاری کو مل رہا ہے۔ اسلامی جمہوریہ ایران کی اعتقادی اور تزویری حکمت عملی قرآن کریم کے احکامات اور زمینی حقائق پر مبنی اور امریکہ، برطانیہ اور اسرائیل جیسے ظالم و خونخوار دشمنوں کے مقابلے میں شیعہ سنی اتحاد اور یکدلی اور یکجہتی پر استوار ہے؛ اور اس کی معاندت میں شیرازی تکفیری فرقہ امریکی ـ برطانوی ـ یہودی ایجنڈے کے عین مطابق اپنی پوری قوت کو میدان میں لا چکا ہے جو شیعہ مکتب کے اصولوں کو پامال کرکے مسلمانوں کے درمیان اختلافات کو ہوا دینے میں شیعہ مکتب کا نمائندہ بن کر کردار ادا کرنا چاہتا ہے۔ ایجنڈے کے عین مطابق ایک طرف سے وہابی فرقہ دوسری طرف سے شیرازي فرقہ، جو مل کر دشمنان اسلام کی تباہ کن گاڑی کو ایندھن فراہم کرنے میں مصروف ہیں۔
انگریزی شیعہ امریکی سنی کی طرح، مسلم برادران کو کافر قرار دے کر وہ ہاتھ اور وہ صدا امریکی اور صہیونی جارحوں کے خلاف بلند ہونے کے بجائے، تشیع اور تسنن کی باہمی پیکار میں اٹھانے کے درپے ہیں۔
یہ شیعہ کہلوانے پر مصر ہیں اور دنیا بھر میں واحد شیعہ حکومت کے خلاف لندن کا ساتھ دے رہے ہیں، اس کو انگریزوں نے ـ وہابی فرقے کو امریکہ اور برطانیہ کے فراہم کردہ چینلوں کی طرح ـ متعدد سیٹلائٹ چینلز فراہم کردیئے ہیں، یہ فرقہ اپنی نفرت انگیز صدا بی بی سی نامی سینگے سے بھی بآسانی نشر کرتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ابو اسد
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲