11 نومبر 2020 - 17:17
انگریزی شیعہ کون ہیں؟ سترہویں قسط

موڈیل نے ایک سات نکاتی مکمل عملیاتی منصوبہ ایران کا سدّ راہ اور مقابلہ کرنے کے سلسلے میں پیش کیا۔ یہاں تک کہ علاقے میں کم ہی کوئی ایسا واقعہ رونما ہؤا ہوگا جو موڈیل کے منصوبے پر منطبق نہ ہو۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ مورخه 16 فروری 2017ع‍ کو امریکی کانگریس نے ایران کے سیاسی اور سلامتی امور کے بعض امریکی ماہرین کو "ایران زیر نگرانی" (Iran on Notice) کے زیر عنوان ایک سماعتی نشست میں شرکت کی دعوت دی، تو انھوں نے اسلامی جمہوری ایران کا مقابلہ کرنے کے لئے کچھ تجاویز پیش کیں۔ یہ وہ وقت تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے برسراقتدار آنے کو کچھ ہی عرصہ گذرا تھا اور وہائٹ ہاؤس ایران کے خلاف اپنی نئی حکمت عملی کی تدوین میں مصروف تھا۔
اسکاٹ موڈیل (Scott Modell) بھی ان افراد میں سے تھا جس نے اپنی آراء ایک عملیاتی منصوبے (Operational plan) کے ضمن میں بیان کی تھیں۔
موڈیل سی آئی اے میں 13 سال تک کام کرنے کا تجربہ رکھتا ہے اور عرصہ دراز سے سی آئی کے خصوصی کاروائیوں کے شعبے سے منسلک رہا ہے اور شمالی افریقہ اور مغربی ایشیا سمیت مشرق وسطائی ممالک ـ بالخصوص افغانستان ـ میں مختلف قسم کی مہمات سر کرتا رہا ہے۔ وہ انگریزی اور فارسی کے علاوہ پرتگالی اور ہسپانوی زبانوں پر بھی عبور رکھتا ہے۔ افریقہ میں ایک ہی ملک کو تیل کے ذخائر کے حوالے سے جانا پہچانا جاتا ہے جس کا نام لیبیا ہے جہاں موڈیل کے قدموں کے نشانات واضح ہیں، جہاں تیل ہو وہاں موڈیل ہے۔
اور ہاں لگتا ہے کہ مغربی جاسوسوں کی تیل سے دلچسپی جِبِلّی (Instinctive) اور جینیاتی (Genetic) ہے جو سی آی کے کارکنوں کو اپنے اینگلوسیکسن (Anglo-Saxons) اسلاف سے ورثے میں ملی ہے۔ موڈیل توانائی سے متعلق ریپڈان اینرجی گروپ (Rapidan Energy Group) نامی کمپنی کا ناظم انتظامی (Managing Director) ہے جو توانائی ـ بالخصوص تیل ـ کے سلسلے میں جنوب مغربی ایشیا میں سرگرم عمل ہے۔
موڈیل نے ایک سات نکاتی مکمل عملیاتی منصوبہ ایران کا سدّ راہ اور مقابلہ کرنے کے سلسلے میں پیش کیا۔ یہاں تک کہ علاقے میں کم ہی کوئی ایسا واقعہ رونما ہؤا ہوگا جو موڈیل کے منصوبے پر منطبق نہ ہو۔
موڈيل اپنے منصوبے کے نکتہ نمبر 6 میں لکھتا ہے: ایرانی ماڈل ایک قسم کی دینی حکمرانی ہے جو ایک عالم دین کو سیاسی اقتدار کی چوٹی پر متعین کرتی ہے، حالانکہ عراق میں علماء دین کی روایتی تفسیر کے قائل ہیں اور یہ تفسیر کہتی ہے کہ عالم دین کو سیاست سے الگ تھلگ ہونا چاہئے۔
دیکھ لیجئے سوشل میڈیا پر اپنے لوگوں کی تشریحات، سوالات اور شبہات جو ایران اور عراق کے حوالے سے پیش کرتے ہیں اور ولایت فقیہ کے سلسلے میں بیان کرتے ہیں، یا ولایت فقیہ کے تعدد اور چند گانگی کے بارے میں پیش کرتے ہیں، یا قومیتوں کو دین پر مقدم رکھتے ہیں اور حتی ولایت فقیہ کے ساتھ دشمنی میں اس حد تک گر جاتے ہیں کہ اپنے آباء و اجداد کے دین کی طرف پلٹنے کا نعرہ لگانے سے بھی گریز نہیں کرتے؛ دیکھ لیں اور اندازہ لگائیں کہ ان حضرات کے الفاظ موڈیل کے منصوبے کا حصہ ہیں، جان بوجھ کر یا انجانے میں؟؟؟ یہ سوال خود بخود بہت سنجیدہ ہے کہ ممکن ہے یہ لوگ بھی انگریزی شیعہ یا امریکی شیعہ ہوں!!!
موڈیل اس شق میں مزید کہتا ہے: ہمیں اپنے عرب حلیفوں [سعودی عرب، مصر، امارات، قطر وغیرہ] کو ترغیب دلانا ہوگی کہ وہ نجف کو ایک قابل برداشت روایتی دینی تشریح کے طور پر تسلیم کریں اور نرم روی سے اس کی حمایت کریں، نجف کو انقلابی شیعہ افکار سے دور رکھیں؛ یہ مسئلہ امریکہ کے لئے خاص اہمیت کا حامل ہے!!!
موڈیل کہتا ہے: ہمیں آیت اللہ صادق شیرازی جیسے چہروں کو آگے لانا ہوگا تا کہ وہ ولایت فقیہ کے مد مقابل آ کھڑے ہوں اور عراق میں ایسے افراد کو مراجع تقلید کے طور پر تسلیم کرنا اور کرانا ہوگا اور ان کی تشہیر کرنا ہوگی جو "مغرب کے لئے قابل برداشت شیعہ تفکر!" کے حامی ہوں!، اور مغرب اور اسرائیل کے خلاف دشمنانہ رویہ نہ رکھیں، بےضرر جذبات کے حامل ہوں؛ اور سیاست میں بہت کم مداخلت کریں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ابو اسد

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲