2 نومبر 2020 - 08:01
 مغرب میں اعلی سرکاری سطوح پر توہین رسالت/ کیا وحدت مسلمین کی ضرورت کے لئے "کافی دلیل" نہیں ہے؟

کوئی کسی کو اپنا مذہب چھوڑنے کی دعوت نہیں دے رہا ہے بلکہ دعوت یہ ہے کہ اپنا عقیدہ محفوظ رکھیے اور دوسروں کو اپنے عقیدے پر عمل کرنے دیجئے اور جو مسائل مشترکہ ہیں، ان کے لئے اشتراک عمل کے ساتھ کام کرنا چاہئے۔

بقلم: فرحت حسین مہدوی

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ ایک فرانسیسی شاتمہ نے کارٹون بناکر پوری دنیا کے مسلمانوں کو صدمہ پہنچایا اور ان کے جذبات کو مجروح کردیا اور فرانسیسی صدر نے شاتم رسول(ص) کا کردار ادا کرتے ہوئے اس کی نہ صرف حمایت کی بلکہ فرانس کی 10 فیصد مسلم آبادی سمیت دنیا کے دو ارب مسلمانوں کی بےحرمتی کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان کارٹونوں کی تجدید اشاعت کی مخالفت نہیں کرسکتا"۔ فرانسیسی صدر کا کہنا تھا کہ یہ اس خاتون کا ذاتی فعل ہے اور ہر انسان اپنے ذاتی فعل میں بالکل آزاد ہے۔ لیکن اسی اثناء میں کچھ باپردہ مسلم خواتین کو سوربن یونیورسٹی میں داخلے سے روک دیا گیا اور ان کے حجاب کو ایک ذاتی فعل کے طور پر تسلیم نہیں کیا گیا جس سے یہ اندازہ لگانا ہرگز مشکل نہیں ہے کہ "مغرب اور بطور خاص فرانس - جو بیسویں صدی میں ہی عالمی طور پر شدید پسماندگی کا شکار ہوچکا ہے اور اب ان اوچھے ہتھکنڈوں سے عالمی میڈیا میں رہنا چاہتا ہے - اسلام کا خونی دشمن ہے"۔

اس واقعے کے بعد کچھ فرانسیسی شہروں میں کچھ انجانے لوگوں نے کچھ حملے کرکے کچھ لوگوں کو قتل کردیا تو فرانسیسی صدر نے صلیبی سرغنے کا کردار ادا کرتے ہوئے اس عمل کو "اسلامی دہشت گردی" کا نام دیا اور کہا کہ "فرانسیسی معاشرہ اپنے کیتھولک تشخص کا تحفظ کرے گا"۔

گوکہ کسی بھی مسلمان نے اس حملے کی حمایت نہیں کی لیکن فرانس کے صدر نے اس کاروائی پر اپنے رد عمل کے دوران اس کے اسباب کی طرف کوئی اشارہ نہیں کیا اور یہ نہیں کہا کہ یہ کاروائی اس کے نامعقول موقف کا نتیجہ تھا۔

واضح رہے انسان دشمنی کے لحاظ سے بھی فرانس کا پس منظر کافی گندا ہے اور الجزائر سمیت مختلف افریقی ممالک کے عوام کے لاکھوں انسانوں کا قاتل فرانس کو آج کی داعش وغیرہ کا استاد مانا جاسکتا ہے۔

ہم عرصے سے مسلمان بھائیوں سے کہہ رہے ہیں کہ آئیں متحد ہوجائیں، تو اسی مغرب کے چیلے لپک کر بیچ میں آتے ہیں اور اتحاد و اتفاق کی اس دعوت کو منافقت کا نام دے کر دشمنی اور انتشار و افتراق کے نرسنگے میں پھونکنا شروع کردیتے ہیں۔ حالانکہ ہم جب دعوت دے رہے ہوتے ہیں تو یہ ہرگز نہیں کہہ رہے ہوتے ہیں کہ "ہم سنی ہوگئے ہیں، یا آکر تم شیعہ ہوجاؤ" بلکہ کہہ رہے ہوتے ہیں کہ ہمارے درمیان تمام تر اختلافات کے باوجود اصولی اشتراکات موجود ہیں اور دشمنان اسلام ان اشتراکات کو برباد کرنا چاہتے ہیں۔

ہم کہتے ہیں کہ آؤ بیت المقدس اور قبلہ اول پر قبضہ جمانے والوں کے خلاف متحد ہوجائیں تو مغرب اور یہود کے چیلے بیچ میں آکر اس جنگ کو فلسطین اور غاصب یہودیوں کے درمیان کی لڑائی قرار دینا شروع کردیتے ہیں، اور کچھ لوگ تو قبلۂ اول کے تقدس تک کے انکاری ہوجاتے ہیں، حالانکہ وہ اپنے آپ کو دھوکہ دے رہے ہوتے ہیں۔

ہم جب کہتے ہیں کہ "یقیناً تمہارا بدترین اور شدید ترین دشمن یہود ہے" تو یہ کہتے ہیں کہ "یہ جو تم میدان میں کھڑے قبلہ اول کی جنگ لڑ رہے ہو، غلط ہے اور یہود کی [یا بھوکے ریچھ] کی گود میں بیٹھ جاتے ہیں، یہود کی دشمنی کا انکار کردیتے ہیں اور یہاں تک بھی کہہ دیتے ہیں کہ "یہود شیعہ سے بہتر ہیں"، تو یہ لوگ در حقیقت انجانے میں اسلام سے خروج کا اعلان کررہے ہوتے ہیں کیونکہ قرآن کریم کا ارشاد ہے: "لَتَجِدَنَّ أَشَدَّ النَّاسِ عَدَاوَةً لِّلَّذِينَ آمَنُواْ الْيَهُودَ وَ الَّذِينَ أَشْرَكُواْ؛ یہودیوں اور مشرکین کو ایمان والوں کا شدید ترین دشمن پائیں گے"۔ (مائدہ، 82)

عجیب یہ ہے کہ یہود کے وہ چیلے بو شیعہ سنی اتحاد کی دشمنی میں پیش پیش ہیں، یہود کو شیعہ سے بہتر قرار دیتے ہیں، اور آج اپنی طویل یہود نوازی کو آشکار کرچکے ہیں، وہی لوگ ہیں جو کچھ ہی عرصہ پہلے تک تشیّع کو یہود سے جوڑتے تھے اور اس طرح شیعیان آل رسول(ص) کو بدنام کرنے کے لئے کوشاں تھے، لیکن آج یہود کو شیعہ سے بہتر قرار دے رہے ہیں اور یہ ساری باتیں بیداری کا تقاضا کرتی ہیں شیعہ سے بھی اور سنی سے بھی۔

جو بظاہر شیعہ، یہودیوں کی پشت پناہی کے نتیجے میں لندن کے یہودی محلے میں امام بارگاہیں تعمیر کرکے یہود کے ساتھ جوڑ توڑ کرتے ہیں اور آل سعود سے رقمیں لے کر شیعہ اور سنی جنگ کے لئے راستہ ہموار کرتے ہیں اور درجنوں ٹی وی چینلوں کے ذریعے شیعہ سنی اتحاد کو پارہ پارہ کرنے کی کوشش کررہے ہیں، ان سے بھی ہوشیار رہنا چاہئے، شیعیان آل رسول(ص) کو ان کی غداری سے آگاہ ہونا چاہئے اور اہل سنت کو جاننا چاہئے کہ وہ مذہب اہل بیت(ع) کے نمائندے نہیں بلکہ امریکہ، فرانس، برطانیہ اور یہودی ریاست کے نمائندے اور اسلام کے دشمن ہیں۔

سنی بھی جانتے ہیں اور شیعہ بھی جانتے ہیں کہ ہمارے درمیان اشتراکات، اختلافی نکات سے کہیں زیادہ ہیں، ہم ایک ساتھ اپنی سرزمینوں میں رہتے ہیں، ہماری خوشیاں اور ہمارے غم اور ہمارے قومی مفادات مشترکہ ہیں، اور جب ہمارے ملکوں پر بیرونی جارحیت ہوتی ہے تو ہم ایک مورچے میں بیٹھ کر اپنی سرزمینوں کا دفاع کرتے ہیں توپھر اتحاد میں نفسانی خواہشات اور انتشار اور تفرقے کے دکانداروں کی دکانوں کو آباد رکھنے کے سوا، کونسی چیز رکاوٹ ہے؟

کوئی کسی کو اپنا مذہب چھوڑنے کی دعوت نہیں دے رہا ہے بلکہ دعوت یہ ہے کہ اپنا عقیدہ محفوظ رکھیے اور دوسروں کو اپنے عقیدے پر عمل کرنے دیجئے اور جو مسائل مشترکہ ہیں، ان کے لئے اشتراک عمل کے ساتھ کام کرنا چاہئے۔

راقم اس سے پہلے بھی کئی مضامین میں لکھ چکا ہے کہ اگر ہم ناانصافی کا شکار ہوجائیں اور اپنے درمیان کے اشتراکات ـ منجملہ قرآن، سنت، حدیث، ایک قبلہ، ایک نماز، ایک روزہ، ایک حج اور ایک ایمان بہ توحید و رسالت - کو نظرانداز بھی کریں تو بھی ایک چیز کا انکار ممکن نہیں ہے اور وہ یہ ہے کہ: ہمارا دشمن ایک ہے، وہی دشمن جو کبھی مسلمانوں کے قبلۂ اول کو غصب کرکے یہودیوں کے سپرد کرتا ہے، کبھی 11 ستمبر 2001 کو مسلمین کے خلاف صلیبی جنگ کا اعلان کرتا ہے، کبھی اسلامی مقدسات کے خلاف فلمیں اور تصویریں شایع کرتے ہیں اور کبھی کارٹون بنا کر مسلمانوں کی دل آزاری کا سبب بنتے ہیں؛ کبھی آزادی بیان کے بہانے توہین رسالت کو مُجاز سمجھتے ہيں اور دہشت گردی کو اسلام سے نسبت دیتے ہیں؛ کبھی عراق اور افغانستان پر قبضہ کرلیتے ہیں۔ کیا ہم ان واقعات کو دیکھ نہیں رہے ہیں یا انہیں سمجھ نہیں رہے ہیں یا پھر ہمارے پیٹ حرام سے بھرے ہوئے ہیں اور کلام حق ہم پر اثر ہی نہیں کررہا ہے؟

آج فرانس نے ایک بار پھر مسلمانوں پر حجت تمام کردی ہے اور دفاع رسالت کے لئے مسلمانوں کے اتحاد کی ضرورت ہم سب کو چیخ چیخ کر ہمیں بلا رہی ہے۔ دشمن کے ہاتھ امت کے گریبان تک پہنچ چکے ہیں؛ تو کیا اس صورت حال میں وحدت مسلمین کو کسی بھی بہانے سے مسترد کرنا، اسلام کے ساتھ غداری اور دشمنان اسلام کے ساتھ یکجہتی کے زمرے میں نہیں آئے گا؟ کیا اس نازک صورت حال میں کچھ عرب حکمرانوں کی طرف سے فرانس کے ساتھ یکجہتی کا اظہار، اس حقیقت سے آگاہ نہیں کررہا ہے کہ جن کو ہم نے مقدس سمجھ کر اپنا دین کا ٹھیکیدار سمجھ رکھا تھا وہ ہمارے دین کا دشمن ہیں اور ہمیں تحفظات کو ایک طرف رکھ کر، اسلامی اتحاد کا عملی مظاہرہ کرکے ان دشمنوں اور ان غداروں کے خلاف اپنا اسلامی اور قرآنی موقف ظاہر کرنا چاہئے؟ کیا اب بھی وہ وقت نہیں آیا کہ علمائے اسلام اپنا علم ظاہر کرکے مسلمانوں کو اتحاد کی طرف دعوت دیں اور امت کو مزید جارحیتوں سے بچا لیں؟

بسم اللہ الرحمن الرحیم

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى أَوْلِيَاءَ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاءُ بَعْضٍ وَمَنْ يَتَوَلَّهُمْ مِنْكُمْ فَإِنَّهُ مِنْهُمْ إِنَّ اللَّهَ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ * فَتَرَى الَّذِينَ فِي قُلُوبِهِمْ مَرَضٌ يُسَارِعُونَ فِيهِمْ يَقُولُونَ نَخْشَى أَنْ تُصِيبَنَا دَائِرَةٌ فَعَسَى اللَّهُ أَنْ يَأْتِيَ بِالْفَتْحِ أَوْ أَمْرٍ مِنْ عِنْدِهِ فَيُصْبِحُوا عَلَى مَا أَسَرُّوا فِي أَنْفُسِهِمْ نَادِمِينَ * وَيَقُولُ الَّذِينَ آمَنُوا أَهَؤُلَاءِ الَّذِينَ أَقْسَمُوا بِاللَّهِ جَهْدَ أَيْمَانِهِمْ إِنَّهُمْ لَمَعَكُمْ حَبِطَتْ أَعْمَالُهُمْ فَأَصْبَحُوا خَاسِرِينَ * ا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا مَنْ يَرْتَدَّ مِنْكُمْ عَنْ دِينِهِ فَسَوْفَ يَأْتِي اللَّهُ بِقَوْمٍ يُحِبُّهُمْ وَيُحِبُّونَهُ أَذِلَّةٍ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ أَعِزَّةٍ عَلَى الْكَافِرِينَ يُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَلَا يَخَافُونَ لَوْمَةَ لَائِمٍ ذَلِكَ فَضْلُ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاءُ وَاللَّهُ وَاسِعٌ عَلِيمٌ؛ (صدق اللہ العلی العظیم)

اے ایمان لانے والو! یہودیوں اور عیسائیوں کو اپنا دوست نہ بناؤ، یہ لوگ آپس میں ایک دوسرے کے دوست ہیں اور جس نے تم میں سے ان سے دوستی کی تو وہ ان ہی میں سے ہے۔ یقینا اللہ ظالموں کو منزل مقصود تک نہیں پہنچاتا۔

تو دیکھو گے انہیں جن کے دلوں میں بیماری ہے کہ وہ ان کے حلقوں میں تیزی سے دوڑ دھوپ کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں ہمیں ڈر ہے کہ ہم پر کوئی آفت نہ آئے۔ اب بہت ممکن ہے کہ اللہ فتح دکھا دے یا اپنی طرف سے کوئی اور صورت سامنے لے آئے تو پھر یہ اس پر جو انھوں نے اپنے دل میں چھپا رکھا تھا، پشیمان ہوں۔

اور وہ جو ایمان لائے ہیں کہیں گے، ارے کیا یہی وہ ہیں جنہوں نے اپنے مقدور بھر انتہائی سخت قسمیں کھائی تھیں کہ وہ بلاشبہ تمہارے ساتھ ہیں۔ ان کی تمام محنتیں اکارت گئیں اب وہ گھاٹا اٹھانے والوں میں ہیں۔

اے ایمان لانے والو! جو تم میں سے ان اپنے دین سے پلٹ جائے تو کوئی بات نہیں بہت جلد اللہ ایک جماعت کو لائے گا جنہیں وہ دوست رکھتا ہو گا اور وہ اسے دوست رکھتے ہوں گے، وہ ایمان والوں کے سامنے نرم ہوں گے اور کافروں کے مقابلہ میں سخت ، وہ اللہ کی راہ میں جہاد کریں گے اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پروانہ کریں گے یہ اللہ کا فضل و کرم ہے جسے چاہتا ہے، وہ عطا کرتا ہے اور اللہ بڑی سمائی والا ہے، بڑا جاننے والا"۔ (المائدہ، 51 تا 54)

اور بےشک آج کا جہاد اتحاد و اتفاق اور جہل و نادانی کی رو سے افتراق و انتشار سے اجتناب ہے۔ اور اگر کوئی آج بھی دین کا ساتھ نہیں دے گا تو اللہ کے سامنے پیش ہونے کی میعاد بہت دور نہیں ہے۔ اور دنیا میں بھی اللہ کا وعدہ ہے کہ "جو تم میں سے اپنے دین سے پلٹ جائے تو کوئی بات نہیں بہت جلد اللہ ایک جماعت کو لائے گا جو اللہ کے حب دار ہونگے، ایمان والوں کے سامنے نرم ہونگے، کافروں کے مقابلے میں سخت ہونگے، اس کی راہ میں جہاد کریں گے اور اس راہ میں ملامت کرنے والوں کی ملامت کو خاطر میں نہیں لائیں گے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔
۱۱۰