2 ستمبر 2016 - 18:31
 حکومت ہند کا اشتعال انگیز رویہ وادی کی پُرتشدد صورتحال کی بنیادی وجہ۔ آغا حسن

ضلع بڈگام میں نوجوانوں کی بے تہاشہ گرفتاریوں کی مذمت کرتے ہوئے آغا صاحب نے کہا کہ پُرامن احتجاجیوں پر بندوقوں کے دہانے کھولنے اور نوجوانوں کو سلاکھوں کے پیچھے ڈالنے سے حالات میں بہتری کی امید ریاستی انتظامیہ کی خود فریبی ہے،

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ سرینگر/ انجمن شرعی شیعیان کے سربراہ اور حریت کانفرنس کے سینئر رہنما آغا سید حسن الموسوی الصفوی نے کشمیر میں 56 روز سے جاری کرفیو اور فورسز کی ظلم و بربریت کے باوجود جاری ہمہ گیر احتجاجی تحریک کو مزاحمت و استقامت کی تاریخ میں ایک اور پُرعزیمت باب کا اضافہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ کشمیری عوام پُرامن مظاہروں اور احتجاجی جلوسوں سے اقوام عالم کی توجہ تنازعہ کشمیر کی طرف مبذول کرنے کی کوشش کررہے ہیں

۔انہوں نے کہا کہ حکومت کا اشتعال انگیز رویہ اور فورسز کی جبرو بربریت صورتحال کو پُرتشدد بنارہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پیلٹ گن جیسے مہلک ہتھیار پر پابندی کے مطالبات سے لاپرواہ ہوکر اس مہلک ہتھیار کا بڑے پیمانے پر استعمال جاری ہے۔

ایک طرف متعلقین گسے مذاکرات کے گمراہ کُن بیانات دئے جارہے ہیں اور دوسری طرف تحریکی قیادت اور کارکنوں کو پابند سلاسل کیا جارہا ہے۔

ضلع بڈگام میں نوجوانوں کی بے تہاشہ گرفتاریوں کی مذمت کرتے ہوئے آغا صاحب نے کہا کہ پُرامن احتجاجیوں پر بندوقوں کے دہانے کھولنے اور نوجوانوں کو سلاکھوں کے پیچھے ڈالنے سے حالات میں بہتری کی امید ریاستی انتظامیہ کی خود فریبی ہے۔

آغا صاحب نے جماعت اسلامی کے مرکزی دفتر پر فورسز کے چھاپے اور جماعت کے ترجمان ایڈوکیٹ زاہد علی کی گرفتاری پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دینی اور حریت پسند جماعتوں کے خلاف حکومتی کریک ڈاون سے کشمیری عوام کے مزاحمتی حوصلے پست نہیں ہونگے۔

دریں اثنا نماز جمعہ کے بعد قصبہ بڈگام کے علاوہ میر گنڈ،نصراللہ پورہ، ہاکنی پورہ، زوری گنڈ، گلوان پورہ، وغیرہ میںسینکڑوں مظاہرین نے احتجاجی جلوس برآمد کئے۔مظاہرین نے مسئلہ کشمیر کے حل کو ناگزیر قراردیتے ہوئے وادی کے اطراف و اکناف میں سرکاری فورسز کی ظلم و بربریت ، شبانہ چھاپوں، توڑ پھوڑ اور لوٹ مارکے واقعات پر غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے اس جبروبربریت کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔

انجمن شرعی شیعیان کے ترجمان نے تنظیم کے سربراہ آغا سید حسن الموسوی کی 56 روز سے متواتر خانہ نظر بندی اور آٹھویں جمعہ کو بھی موصوف کو مرکزی امام باڑہ بڈگام میں نماز جمعہ کی پیشوائی سے روکنے اور قائد تحریک سید علی شاہ گیلانی کی مسلسل خانہ نظربندی، میرواعظ مولوی محمد عمر فاروق ، محمد یاسین ملک، شبیر احمد شاہ، محمد اشرف صحرائی، ڈاکٹر غلام محمد حبی ، الطاف احمد شاہ ، اکبرایاز اور دیگر قائدین و کارکنان کی مسلسل حراست کی پُرزور الفاظ میں مذمت کی۔

.....................

242