28 اگست 2016 - 19:23
اکبر بگٹی کی ہلاکت سے ہونیوالی بدامنی اب بھی صوبے میں موجود

وزیراعلٰی نواب ثناءاللہ زہری کہتے ہیں کہ پہلے کے مقابلے میں بلوچستان کی صورتحال میں 95 فیصد بہتری آئی ہے۔ بعض مبصرین کی یہ رائے ہے کہ نواب بگٹی اور ان کے بعد بعض دیگر بلوچ رہنماؤں کے مارے جانے کے واقعات نے بلوچ آبادی والے علاقوں میں جس ناراضی کو جنم دیا، بلوچستان تاحال اس کے اثرات سے نہیں نکل سکا۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا: بلوچ رہنما اکبر بگٹی کو فوجی آپریشن میں ہلاک ہوئے ایک دہائی مکمل ہوگئی ہے، لیکن ان کی ہلاکت کے بعد جس بدامنی نے صوبے کو اپنی لپیٹ میں لیا تھا، وہ اب بھی بہت حد تک موجود ہے۔ 26 اگست 2006ء کو تراتانی کے پہاڑی علاقے میں فوجی آپریشن کے دوران سردار اکبر بگٹی ہلاک ہوئے۔ صوبے میں جہاں سکیورٹی فورسز اور سرکاری تنصیبات پر حملے بڑھے، وہیں آبادکاروں پر بھی حملوں میں بھی اضافہ ہوا۔ حکام کی جانب سے حالات کی بہتری کے دعوؤں کے باوجود نہ صرف بدامنی کے واقعات، کمی و بیشی کے ساتھ رونما ہوتے رہے ہیں، بلکہ وسائل کی کمی سے دوچار بلوچستان میں امن و امان کی مد میں اخراجات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ پاکستان کے قومی دھارے کی دو بڑی جماعتیں پپپلز پارٹی اور نون لیگ صوبے میں مشرف حکومت کی پالیسیوں کو مورد الزام ٹھہراتی آئی ہیں، لیکن قوم پرست جماعتوں کا کہنا ہے کہ 2008ء میں مشرف دور کے خاتمے کے بعد صرف حکومتیں تبدیل ہوئیں اور بلوچستان کے حوالے سے مشرف دور کی پالیسیاں تبدیل نہیں ہوئیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ صوبے میں تشدد زدہ لاشوں کی برآمدگی کا سلسلہ بھی 2008ء میں شروع ہوا، جو ابھی تک جاری ہے۔ بلوچستان حکومت کے ذرائع کے مطابق 2010ء سے لے کر اب تک ایک ہزار کے لگ بھگ لوگوں کی تشدد زدہ لاشیں برآمد ہوئی ہیں، لیکن اس کے برعکس لاپتہ افراد کے رشتہ داروں کی تنظیم وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے مطابق ان کی تعداد کئی ہزار ہے۔

بلوچستان کے سینیئر تجزیہ نگار سلیم شاہد کا کہنا ہے کہ اکبر بگٹی کی ہلاکت بلوچستان کے خراب حالات مزید دگرگوں ہونے کی بڑی وجہ بنی۔ اصل میں بلوچستان میں صورتحال 2002ء میں خراب ہونا شروع ہوئی، جب نواب خیر بخش مری کو جسٹس نواز مری کے قتل کے سلسلے میں گرفتار کیا گیا تھا، لیکن تب صورتحال اتنی خراب نہیں تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ جب اکبر بگٹی کو فوجی آپریشن میں ہلاک کیا گیا تو صورتحال وقت کے ساتھ ساتھ بگڑتی چلی گئی۔ سلیم شاہد کا کہنا ہے کہ ڈیرہ بگٹی میں قیام کے دوران بھی اکبر بگٹی نے کبھی مذاکرات سے انکار نہیں کیا۔ وہ سمجھتے تھے کہ مذاکرات کے ذریعے ہی مسائل کا حل تلاش کیا جاسکتا ہے، لیکن ان کے بعد جس طرح کی صورتحال پیدا ہوئی، حکومتوں نے کوششیں کیں، حکومتوں نے یہ تو کہا کہ ہم مذاکرات کے ذریعے معاملات حل کرنا چاہتے ہیں، لیکن میں سمجھتا ہوں کہ سنجیدگی کے ساتھ وہ کوششیں نہیں ہوئیں، جس کی وجہ سے معاملات آگے نہیں بڑھ سکے۔ صوبے میں حالات بہتر بنانے کے لئے مذاکرات کی باتیں بھی کی گئیں، لیکن کوئی عملی پیش رفت نہیں ہوئی۔ سلیم شاہد کے مطابق شاید وہ تمام اسٹیک ہولڈرز جو بات چیت کے نتیجے میں کوئی فیصلہ کرسکتے ہیں، وہ ایک صفحے پر نہیں ہیں۔ دونوں جانب عدم اعتماد کی کیفیت ہے، جس کو بحال کرنا نہایت اہم ہے۔

تاہم بلوچستان کے وزیر داخلہ میر سرفراز بگٹی اس سے اتفاق نہیں کرتے اور ان کا کہنا ہے کہ مذاکرات کے نتیجے میں فراریوں کی دوسرے درجے کی قیادت مسلح کارروائیوں کو ترک کرکے قومی دھارے میں شامل ہو رہی ہے۔ بلوچ قوم پرستوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ 2014ء میں نیشنل ایکشن پلان کے بعد بلوچستان میں آپریشن میں مزید تیزی لائی گئی ہے۔ قوم پرستوں کا دعوٰی ہے جسے حکومت نہیں مانتی، کہ نہ صرف نو ہزار سے زائد افراد کو گرفتار کیا گیا ہے بلکہ اب سخت گیر موقف کے حامل قوم پرستوں کے لئے جمہوری طور پر احتجاج کے راستے بھی بند ہوگئے ہیں۔ سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ نیشنل ایکشن پلان کے تحت اقدامات سے بلوچستان کے حالات بہت زیادہ بہتر ہوئے ہیں۔ وزیراعلٰی نواب ثناءاللہ زہری کہتے ہیں کہ پہلے کے مقابلے میں بلوچستان کی صورتحال میں 95 فیصد بہتری آئی ہے۔ بعض مبصرین کی یہ رائے ہے کہ نواب بگٹی اور ان کے بعد بعض دیگر بلوچ رہنماؤں کے مارے جانے کے واقعات نے بلوچ آبادی والے علاقوں میں جس ناراضی کو جنم دیا، بلوچستان تاحال اس کے اثرات سے نہیں نکل سکا۔

.....

/169