17 اگست 2016 - 13:44
  بانی و سرپرست اعلیٰ مرحوم شیخ محمد حسین ذاکری  کی یاد میں مشاعرہ کا انعقاد

بزم ادب امام خمینی میموریل ٹرسٹ کے اہتمام سے مرحوم کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے کلچرل اکاڈمی ہال بازار کرگل میں ایک تعزیتی مشاعرہ بر گذار کیا گیا۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔  بانی و سر پرست اعلیٰ امام خمینی میموریل ٹرسٹ مرحوم مغفور جناب حجة الاسلام شیخ محمد حسین ذاکری کی رحلت جانگداز  کی مناسبت سے  کرگل کے قریہ قریہ فاتحہ خوانی و مجلس ترحیم کا سلسلہ  آج  ١٧ ویں دن بھی جاری رہا  اسی سلسلہ میں بزم ادب امام خمینی میموریل ٹرسٹ کے اہتمام سے مرحوم کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے کلچرل اکاڈمی ہال بازار کرگل میں ایک تعزیتی مشاعرہ بر گذار کیا گیا۔ جس میں خطہ لدّاخ کے نامور شعراء اور صاحب نظر ادیب حضرات نے حصہ لیا ۔  مشاعرے کا آغاز ماسٹر لیاقت شہریار نے تلاوت کلام پاک سے  کیا  ۔اس کے بعد جناب شیخ بشیر شاکر وائس چیرمین بزم ادب نے استقبالیہ خطبہ پیش کرتے ہوے مہمانوں، شعراء اور حاضرین کا اس خصوصی مشاعرے میںخیر مقدم کیا۔  اور بز م ادب کی فعالیت اور کارکردگی کے بارے میں حاضرین کو جانکاری دی۔پھر شعر وشاعری کا سلسلہ باضابطہ طور  شروع ہوا ۔ شعراء میں محمد علی بابا، ماسٹر نثار ٹرسپون ، عباس بہشتی سانکو، باقر صباء ،  حاجی مرتضی ٰ وکیل ،محمد علی عاشور ہرداس، حاجی حسن ھلال  برو ،، غلام قادر ذکی ، اشرف علی ساگر ،سجاد  شجاعت ستکچے، ،محمد حسین راہنما،محمد علی بھٹو نوشین ،  مولانا غلام عباس کراری،اور شیخ بشیر اسیر نے اپنے اپنے انداز میں مرحوم کومنظوم  خراج عقیدت پیش کیا۔مشاعرے کی صدارت شیخ محمد حسین لطفی چیرمین امام خمینی میموریل ٹرسٹ نے کی۔ جب کہ ایم ایل اے کرگل الحاج اصغر کربلائی  بطورمہمان خصوصی مدعو تھے۔جناب اصغر کربلائی نے اپنے خطاب میں شعراء سے اپیل کی کہ وہ اپنی تخلیقات میں شیخ ذاکری کی شخصیت اور ان کے افکار کے اُن پہلوں کو اُجاگر کریں جن سے عوام الناس ہنوز نا آشنا ہیں۔ مزید اُنہوں نے کہا کہ شیخ ذاکری کی اُن خدمات کو سامنے لانے کی ضرورت ہے جن کے بارے میں دنیا ابھی کم جانتی ہے۔صدر مجلس شیخ لطفی نے بزم ادب سے اپیل کی کہ وہ اپنی تخلیقات خصوصاشیخ ذاکری کے حوالے سے کہے ہوے کلام کی جمع آوری کریں اور اُ نہیں شائع کر یں۔ تاکہ وہ تاریخ کے اوراق میں محفوظ رہیں۔مجلس کی نظامت کے فرائض محمد علی خان خمار تومیلی نے اپنے مخصوص انداز میں ادا کیے۔ ساتھ ہی اُنھوں نے مہمانوں، شعرائ، اور سامعین و حاضرین کا اس مشاعرے کو کامیاب بنانے پرشکریہ ادا کیا۔آخر میں دعائے خیر اور دعائے فرج و دعائے انقلاب کے ساتھ مجلس اختتام پزیر ہوئی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲