2 اگست 2016 - 17:39
علامہ ناصر عباس جعفری نے چودھری نثار علی خان کے ساتھ مذاکرات کو مثبت قرار دیا

پاکستان میں مجلس وحدت مسلمین کے بھوک ہڑتالی سربراہ علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان کے ساتھ مذاکرات کو مثبت قرار دیا ہے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق اسلام آباد میں بھوک ہڑتالی کیمپ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے کہا کہ وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان کے ساتھ مذاکرات ابھی جاری ہیں اور جیسے ہی حکومت ہمارے مطالبات پورے کرے گی وہ اپنی بھوک ہڑتال اور احتجاج کا سلسلہ ختم کر دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ صوبہ خیبر پختونخوا میں مجلس وحدت مسلمین کے بیشتر مطالبات پر عمل درآمد ہو رہا ہے اور پاراچنار، بنوں، ڈیرہ اسماعیل خان اور کوہاٹ میں معاملات بہتر ہوئے ہیں لیکن صوبائی حکومت تاحال مجلس وحدت مسلمین کے ساتھ تعاون نہیں کر رہی ہے جس کی وجہ سے مشکلات پیش آرہی ہیں۔ مجلس وحدت مسلمین کے سربراہ نے کہا کہ صوبہ پنجاب میں بھی ہمارے مطالبات پر عمل درآمد کیا جا رہا ہے جبکہ ہم سات اگست کو اسلام آباد میں ایک بڑا جلسہ منعقد کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ تمام مذاہب کے پیروکاروں کو مذہبی رسومات کی ادائیگی کا حق حاصل ہے اور کسی کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ لوگوں کو مسجد، چرچ اور مندر میں جانے سے روکے۔ علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے ایسے وقت وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان کے ساتھ اپنے مذاکرات کو مثبت قرار دیا ہے جب وہ پچھلے تین ماہ سے پاکستان میں شیعہ مسلمانوں کے قتل عام کے خلاف بھوک ہڑتال پر بیٹھے ہوئے ہیں۔ کچھ عرصہ قبل مجلس وحدت مسلمین کے سیکریٹریٹ نے اعلان کیا تھا کہ پاکستان کے شیعہ مسلمانوں کی چوبیس تنظیموں اور اداروں کے عہدیداروں نے اسلام آباد میں علامہ راجہ ناصر عباس جعفری سے ملاقات اور ان کے موقف کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے حکومت پاکستان سے ملک میں شیعہ مسلمانوں کا قتل عام بند کرانے کے لئے ٹھوس اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔ مجلس وحدت مسلمین کے سربراہ نے اس ملاقات میں یہ بات زور دیکر کہی تھی کہ جب تک حکومت پاکستان، شیعہ مسلمانوں کے قتل عام میں ملوث عناصر کے خلاف کارروائی نہیں کرتی ان کی بھوک ہڑتال جاری رہے گی۔ شیعہ تنظیموں اور اداروں کے نمائندوں کا کہنا تھا کہ متحدہ محاذ کی تشکیل کے ذریعے ہی شیعہ مسلمانوں کے قتل عام کے واقعات پر حکومت کی لاپرواہی کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔ دوسری جانب پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ علامہ طاہر القادری نے اپنے ایک حالیہ بیان میں کہا تھا کہ پاکستانی حکمرانوں کو شیعہ مسلمانوں کے قتل عام پر جواب دہ ہونا پڑے گا۔ علامہ طاہر القادری نے مجلس وحدت مسلمین کے رہنما کی بھوک ہڑتال کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ حکمراں سستی اور ذلت کا شکار ہیں اور مجلس وحدت مسلمین کے سربراہ کی بھوک ہڑتال کی بات تک نہیں کرتے۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ ظالمانہ نظام نے ملک میں کمزوروں سے انصاف کا حق بھی چھین لیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکمرانوں کو سن دو ہزار دس سے دو ہزار سولہ کے دوران ملک کے مختلف علاقوں میں شہید ہونے والے تین ہزار چار سو شیعہ مسلمانوں کے خون کا حساب دینا پڑے گا۔

.......

/169