اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ سرینگر/ ضلع بڈگام کے تمام طبقہ ہائے فکرو مسلک کے معزز شہریوں اور ائمہ مساجد کا ایک اجلاس انجمن شرعی شیعیان کے سربراہ اور حریت کانفرنس کے سرکردہ رہنما آغا سید حسن الموسوی الصفوی کی رہائش گاہ پر منعقدہوا ۔ اجلاس میں موجودہ ہمہ گیر احتجاجی تحریک کو من وعن جاری رکھنے پر اتفاق ظاہر کرتے ہوئے مزاحمتی قیادت کو مشورہ دیا گیا کہ وہ عوامی مشکلات کو ملحوظ نظر رکھ کر ایک ایسا لائحہ عمل مرتب کرے جس سے احتجاجی تحریک بھی مستقل طور پر جاری رہے اور عوامی مشکلات بھی حد سے تجاوز نہ کرجائیں۔ تحریک آزادی کے موجودہ مرحلے کو انتہائی نازک اور حساس قرار دیتے ہوئے اجلاس میں کہاگیا کہ محکوم کشمیری قوم کے فرد فرد کی یہ ´ذمہ داری ہے کہ وہ موجودہ احتجاجی تحریک کو جاری و ساری رکھنے کیلئے اپنا کردار ادا کریں اور ان تمام حربوں ، سازشوں اور فتنہ انگیزیوں سے خبردار رہیں جن کا سہارا لیکر عوام کے عزم و حوصلے کو توڑنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ اجلاس میں عوام سے اپیل کی گئی کہ وہ احتجاجی جلوسوں میں نظم و ضبط برقرار رکھیں اور پُرامن طور پر احتجاج کریں۔اجلاس میں ضلع بڈگام کے طول و عرض میں آباد تمام دیہات اور بستیوں سے اپیل کی گئی کہ وہ موجودہ تحریک کے حوالے سے کسی سازش یا فتنہ انگیزی کا شکار نہ ہوں اور جس گاوں یا سڑک سے کوئی احتجاجی جلوس مارچ کرے وہاں کے لوگ ملی فریضے کے تحت جلوس میں شامل ہوجائیں اور کسی بھی صورت میں تماشائی کا کردار ادا نہ کریں۔اجلاس میں مزاحمتی جماعتوں کے قائدین سے پُرزور اپیل کی گئی کہ وہ عوام کے بے پناہ مزاحمتی جذبات اور عزم و استقلال کے احترام اور حوصلہ افزائی کیلئے اس نازک مرحلے پر بہرصورت متحد ہوجائیں۔آغا سید حسن الموسوی الصفوی نے اپنے اختتامی کلمات میں 22 روز سے جاری ہمہ گیر احتجاجی تحریک کو تحریک آزادی کے ایک اور سنگ میل سے تعبیر کرتے ہوئے کہا کہ کشمیری قوم بار بار بھارت کی جابرانہ حاکمیت اور عسکری تسلط کے خلاف اپنی شدید نفرت کا مظاہرہ کررہی ہے۔جس طرح آج ریاست کے شہر شہر گاوں گاوں ، گلی گلی اور کوچہ کوچہ سے آزادی کے نعرے اور ترانے گونج رہے ہیں اور لوگ خندہ پیشانی کے ساتھ بھارتی فورسز کی بندوقوں کے سامنے سینہ سپرہورہے ہیں۔ریاست کی اس زمینی صورتحال کے تناظر میں بھارت کو ریاست جموں کشمیر پر اپنی جابرانہ حاکمیت کو جاری رکھنے کا کوئی جواز نہیں۔آغا صاحب نے عوام سے اپیل کی کہ وہ احتجاجی جلوسوں کے دوران ایک مہذب اور مظلوم قوم ہونے کا بھر پور ثبوت فراہم کریں۔اجلاس میں مزاحمتی قائدین کی 22 روز سے مسلسل خانہ نظر بندیوں اور مسلسل زیر حراست رکھنے کی حکومتی کاروائی کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی اور نظر بند و گرفتار قائدین کو یقین دلایا گیا کہ ان کی غیر موجودگی میں بھی عوام قیادت کے ہر فیصلے کومن و عن عملانے کیلئے کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کرے گی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲