اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ عربی پورٹل" المسیرہ" سے نقل کردہ رپورٹ کے مطابق شوال کا آخری جمعہ، ماہ شوال سال ۲۰۰۲ کے اس آخری جمعے کی سالگرہ ہے کہ جب انصار اللہ کے بانی مرحوم حسین بدر الدین نے یمن میں استکبار کے خلاف فریاد کی بنیاد ڈالی تھی ۔ یمن کی انصار اللہ تحریک کے رہبر عبد الملک الحوثی نے کل سہ پہر استکبار کے خلاف قیام اور مستکبرین کے خلاف مبارزے کی سالگرہ کے موقعے پر تقریر کی ہے ۔
عبد الملک الحوثی نے اپنی تقریر کی ابتداء میں علاقے میں امریکہ کے منصوبوں اور اس کی سازشوں کی طرف اشارہ کیا اور کہا : علاقے میں بہت سارے ملک اور بہت ساری حکومتیں امریکی منصوبوں کے آگے سر تسلیم خم کر چکی ہیں ۔ اور ان منصوبوں کا اس کے باوجود کہ ان میں علاقے کی ملتوں کو نشانہ بنایا گیا ہے استقبال کرتی ہیں ۔
انہوں نے مزید کہا : علاقے کی اکثر ملتوں کی خاموشی باعث بنی ہے کہ مستکبرین کے ذریعے ان کے استعمار کا راستہ کھلا ہے ۔
عبد الملک الحوثی نے تاکید کی کہ امریکیوں کا مقصد علاقے کی امتوں کی ساری ثروت پر مکمل اور بطور مستقیم غلبہ پانا اور ملکوں پر قبضہ کرنا اور ان سے استفادہ کرنا ہے ۔
الحوثی نے کہا : امت اسلامی کے دشمن معتقد ہیں کہ سب سے اہم چیز کہ جو علاقے کی ملتوں پر غلبے کا راستہ ہموار کرتی ہے ہر طرح کے استقلال کی اور آزادی کی نابودی ہے ۔
انہوں نے تصریح کی : امت یمن کے درمیان استقلال طلب اور آزادی خواہ گروہ موجود ہیں جو آج دشمنوں کے خلاف لڑ رہے ہیں ، اور ان کی راہ میں جتنی بھی مشکلیں آتی ہیں ان کا مقابلہ کرتے ہیں ۔
انصار اللہ کے رہبر نے یاد دلایا : امریکہ امت اسلامی کے خلاف مخاصمانہ اور لالچ پر مبنی رویہ رکھتا ہے اور اس نے اپنی استعمارانہ خو باقی رکھی ہے ۔
انہوں نے اپنی تقریر میں آگے اعلان کیا کہ امریکہ علاقے کی ملتوں کی مشکلوں سے ناجائز فائدہ اٹھاتا ہے اور ایک طے شدہ دقیق منصوبے کے تحت امت اسلامی پر غلبہ پانے کے در پے ہے ۔
انہوں نے تصریح کی : امریکہ علاقے کی تمام ملتوں کو اس زمانے سے کہ جب سے اس نے دہشت گردی اور القاعدہ کے خلاف حملے کا اعلان کیا ہے ایک گٹھبندھن کے تحت اکٹھا کر رہا ہے ، لیکن حالات کے بد تر ہونے اور پہلے سے زیادہ بحرانی ہونے کے علاوہ اس کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا ہے ۔
عبد الملک الحوثی نے تاکید کی کہ سعودی عرب خطے میں امریکہ کے منصوبوں کو عملی جامہ پہناتا ہے اور وہ بھی اس طرح کہ یہ چیز علاقے کی ملتوں اور خود سعودی عرب کے لیے نقصان دہ ہے ۔ سعودی عرب اور امریکہ یمن پر حملوں اور ہزاروں بے گناہوں کا خون بہائے جانے کے ذمہ دار ہیں ۔
انصار اللہ کے رہبر نے اعلان کیا کہ ہم ایک عظیم مرحلے کا سامنا کر رہے ہیں کہ جس کو امریکہ نے تیار کیا ہے تا کہ امتوں کے درمیان بحران اور جھڑپوں کا سلسلہ شروع ہو ۔
انہوں نے کہا : امریکہ اس چیز کا انجینیر ہے کہ جو ہمارے ملک میں رونما ہو رہی ہے اور یمن کے خلاف جنگ میں وہ مستقیم اور غیر مستقیم طور پر موجود ہے اور اس جنگ میں وہ سعودی عرب کی حمایت کر رہا ہے ۔
الحوثی نے اس امر پر تاکید کرتے ہوئے کہ سعودی عرب امریکی صہیونی منصوبوں کو عملی جامہ پہناتا ہے کہا : قتل و غارت اور دہشت گردانہ جنایات جو سعودی عرب اپنے اسرائیلی اور امریکی جنگی طیاروں کے ذریعے کر رہا ہے اس کا مقصد امریکہ اور اسرائیل کی خدمت ہے ۔
عبد الملک الحوثی نے اپنی تقریر کے آخر میں کویت میں یمن کی صلح کے مذاکرات کی طرف اشارہ کیا اور کہا : کویت میں ہماری قومی جماعت نے تمام ممکنہ امتیازات دیے لیکن دشمن یہ چاہتے ہیں کہ ہم جھک جائیں لیکن یہ ناممکن ہے ۔
انہوں نے تاکید کی کہ انصار اللہ اور یمن کے سابقہ صدر علی عبد اللہ صالح کی رہبری میں قومی کانگریس کے درمیان ملت یمن کی مقاومت کو تقویت دینے کی خاطر سمجھوتہ ہو چکا ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲