اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ سرینگر/ پولیس نے انجمن شرعی شیعیان کے سربراہ اور حریت کانفرنس کے سینئر رہنما آغا سید حسن الموسوی الصفوی کو اس وقت گرفتار کیا جب موصوف قصبہ بڈگام سے برآمد ہونے والے ایک احتجاجی جلوس کی قیادت کرنے کیلئے اپنی رہائش گاہ سے درجنوں تنظیمی رفقاءکے ساتھ باہر آرہے تھے۔آغا صاحب کی گرفتاری کے باوجود جامع مسجد چلو کال کے تحت نماز جمعہ کے بعدمرکزی امام باڑہ بڈگام سے ایک پُرامن جلوس نکالا گیا۔آغا صاحب اس جلوس کی قیادت کرنے جارہے تھے۔آغا صاحب گزشتہ 20 روز سے مسلسل خانہ نظر بند تھے جو اپنے ساتھیوں سمیت اپنی رہائش گاہ سے پولیس محاصرے کو توڑنے میں کامیاب ہوئے اور سڑک پر درجنوں نوجوانوں کے ہجوم میں پہنچے۔ پولیس نے آغا صاحب اور ان کے کئی تنظیمی ساتھیوں غلام محمد ناگو، سید باقر موسوی وغیرہ کو گرفتار کیا۔ گرفتاری سے قبل آغا صاحب نے مظاہرین سے مختصر خطاب کے دوران کہا کہ بھارتی فورسز اور پولیس کی 21 روز سے جاری بربریت اور نہتے عوام کے قتل عام ، ہزاروں زخمیوں کی حالت زار نے کشمیریوں کے قلب و روح کو زخمی کیا ہوا ہے اور ان سانحات نے بھارتی تسلط سے آزادی کی اہمیت اور ضرورت کو اور بھی واضح کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حصول حق خود ارادیت تک جدوجہد جاری رہے گی۔اس موقعہ پر آغا صاحب نے گزشتہ 21 روز سے جاری ہمہ گیر احتجاجی تحریک اور عوام کے عزم و حوصلے کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ کشمیریوں کی قربانیاں ضرور رنگ لائیں گی۔انہوں نے حریت پسند کشمیری عوام سے اپیل کی کہ وہ تحریک کے اس حساس موڑ پر صبرواستقامت اور مستقل مزاجی کا بھر پور مظاہرہ کریں۔ دریں اثنا انجمن شرعی شیعیان کے ترجمان نے تنظیم کے سربراہ آغا سید حسن الموسوی الصفوی، قائد تحریک سید علی شاہ گیلانی اور میر واعظ کشمیر ڈاکٹر عمر فاروق کی گرفتاریوں اور محمد یاسین ملک و شبیر احمدشاہ کی مسلسل حراست کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ قائدین اور کارکنوں کی گرفتاریوں سے بھارتی تسلط کے خلاف جاری احتجاجی تحریک کا رُخ نہیں موڑا جاسکتا۔ میڈیا نمایندوں پر حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ کشمیر کے ابتر حالات کی کوریج کرنے والی عالمی ٹی وی چینلوں کے نمایندوں اور رپورٹوں کو حالات کی صحیح عکاسی کرنے کا بھر پور موقعہ فراہم کیا جائے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲