اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ سرینگر/انجمن شرعی شیعیان کے سربراہ اور حریت کانفرنس کے رہنما آغا سید حسن الموسوی الصفوی نے مزاحمتی قیادت کے مشترکہ اسلام آباد چلو کال کو روکنے کیلئے ریاستی انتظامیہ کے مذموم حربوں کو آمرانہ ذہنیت کی عکاسی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ کشمیریوں کی مبنی برحق آواز کو ختم کرنے کیلئے بھارت کی خونین انتقام گیر پالیسی سے پیدا شدہ ابتر صورتحال نے ایک بار پھر کشمیری محکوم عوام کو کرو یا مرو کے مرحلے پر لاکھڑا کیا ہے۔آغا صاحب نے کشمیر سے متعلق اقوام متحدہ کی قراردادوں کو تنازعہ کشمیر کے حل کا واحد راستہ قراردیتے ہوئے ایک بار پھر عالمی برادری سے پُرزور اپیل کی کہ وہ کشمیریوں کو بھارت کی ریاستی دہشت گردی اور جبر و تشدد سے بچانے کیلئے آگے آئیں اور اقوام متحدہ کی کشمیر سے متعلق قراردادوں کو عملانے کیلئے اپنا کردار ادا کریں۔انہوں نے کہا کہ بھارتی فورسز کی 17 روز سے جاری مہم جوئی اور نہتے کشمیریوں کا قتل عام جاری ہے ۔ ہزاروں خانوادے سوگوار ہیں اور صورتحال کا سب سے المناک پہلو یہ ہے کہ یہاں کے عوام کو اپنے سوگوار بھائیوں سے تعزیت و تسلیت کی بھی اجازت نہیں دی جارہی ہے۔ انسانی حقوق کی پامالیوں کی اس سے بدتر مثال تاریخ عالم میں نہیں مل سکتی۔آغا صاحب نے کہا کہ فورسز کے ہاتھوں جاری نہتے شہریوں کے قتل عام نے ملت کشمیر کے فرد فرد کے قلب و روح کو مضروب کیا ہوا ہے۔بھارتی فورسز کشمیریوں کے تئیں جو رویہ اختیار کئے ہوئے ہیں وہ نہتے عوام کے خلاف اعلان جنگ سے کم نہیں۔آغا صاحب نے ضلع بڈگام کے بالائی علاقوں سے آئے ہوئے بھاری پرامن احتجاجی جلوس پر قصبہ بڈگام میں داخل ہونے سے روکنے کیلئے پولیس کی وحشیانہ یلغار اور بے تحاشہ لاٹھی چارج اور ٹائر گیس شیلنگ کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ عوامی احتجاجات کا ہمہ گیر سلسلہ عالمی برادری کیلئے چشم کشاہے کہ کشمیر میں بھارتی ظلم وجبر کی کاروائیاں کس حد تک حد سے تجاوز کرگئی ہیں نہتے کشمیری بھارتی فورسز کی بندوقوں کے آگے سینہ سپر ہورہے ہیں۔آغا صاحب نے قائد تحریک سید علی گیلانی کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کی جو اسلام آباد جانے کیلئے اپنے رہائش گاہ سے باہر آتے ہی حراست میں لئے گئے۔مزاحمتی قیادت کی اسلام آباد چلو کال پر لبیک کہتے ہوئے ضلع اسلام آباد اور پلوامہ کے اطراف و اکناف سے برآمد احتجاجی جلوسوں پر سرکاری فورسز کی سفاکانہ کاروائیوں سے لاتعداد لوگوں کے زخمی ہونے اور شہر خاص میں اسلام آباد جانے کیلئے آمادہ نوجوانوں پر تشدد کی مذمت کی ۔دریں اثنا انجمن شرعی شیعیان کے ترجمان نے تنظیم کے سربراہ آغا سید حسن الموسوی الصفوی سمیت جملہ مزاحمتی قائدین کی 17 روز سے مسلسل خانہ نظر بندی اور وادی بھر میں مسلسل کرفیو کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ عوام کے جان و مال کی حفاظت کے نام پر ہمہ گیر کرفیو کے مسلسل نفاذ سے ریاستی عوام کے عزم و استقلال کو توڑنے کی کوشش کی جارہی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲