18 جولائی 2016 - 15:24
علامہ سبطین سبزواری: جمہوریت بچ گئی، ترکی اب اسرائیل کی طرف جھکاؤ اور شام میں متنازع کردار پر نظر ثانی کرے

شیعہ علما کونسل پنجاب کے صدر کا کہنا تھا کہ پاکستان کے موجودہ حکمران ترکی کے ماڈل کو بہت پسند کرتے ہیں، ان جیسی عوامی خصوصیات پر بھی عملدرآمد کریں، معیشت کو مضبوط اور عوام کو خوشحال بنائیں۔ شیعہ علما کونسل کے رہنما نے کہا کہ ترکی کو امت مسلمہ کے باہمی اختلافات میں فریق بننے کی بجائے، غیر جانبدارانہ کردار ادا کرنا چاہیے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق شیعہ علما کونسل پنجاب اور اسلامی تحریک کے صوبائی صدر علامہ سید سبطین حیدر سبزواری نے ترکی میں فوجی بغاوت کو ناکام بنانے پر عوامی ردعمل کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ اقتدار عوام کا حق ہے، جو اپنے نمائندوں کے ذریعے حکومت کرتے ہیں، طیب اردگان نے بغاوت پر قابو پالیا ہے، لیکن اب اسرائیل کی طرف جھکاؤ اور شام میں متنازع کردار پر بھی نظر ثانی کرے۔ پاکپتن، ساہیوال اور گجرات کے دورہ جات کے بعد صوبائی دفتر لاہور میں کارکنوں سے گفتگو کرتے ہوئے علامہ سبطین سبزواری نے کہا کہ فوج کا کام ملکی سرحدوں کا دفاع ہے، اقتدار میں آنا نہیں، یہ کام سیاستدانوں اور سیاسی جماعتوں کا ہے، جنہیں عوام ووٹ کے ذریعے منتخب کرتے ہیں اور ترکی میں جو ردعمل عوام نے فوجی بغاوت کیخلاف دیا ہے، قابل تعریف ہے کیونکہ انتہا پسندی اور بدامنی کے رجحانات کی حوصلہ شکنی کی جانی چاہیے۔ ان کا کہنا تھاکہ پاکستان کے موجودہ حکمران ترکی کے ماڈل کو بہت پسند کرتے ہیں، ان جیسی عوامی خصوصیات پر بھی عملدرآمد کریں، معیشت کو مضبوط اور عوام کو خوشحال بنائیں۔
شیعہ علما کونسل کے رہنما نے کہا کہ ترکی کو امت مسلمہ کے باہمی اختلافات میں فریق بننے کی بجائے، غیر جانبدارانہ کردار ادا کرنا چاہیے۔ جسٹس پارٹی کی اسلام پسند پالیسیوں کی حمایت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ طیب اردگان کو شام میں مداخلت پر نظر ثانی کرنی چاہیے۔ اس سے انہیں مزید تقویت ملے گی لیکن بغاوت کی ناکامی کے بعد طیب اردگان اگر آمرانہ پالیسیاں جاری رکھیں گے اور ان کی گردن میں سریا آ جائے گا تو یہ خطے اور خود اہم مسلمان ملک کی سلامتی اورخود مختاری کے لئے نقصان کا باعث بنے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اکثر مسلم ممالک میں خاندانی بادشاہتیں ہیں، لیکن جہاں جمہوریتیں ہیں وہاں بھی فوجی مداخلتیں ہوتی رہتی ہیں، جن میں ترکی اور پاکستان بھی شامل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کہ جب حکمرانوں پر عوام کا اعتماد ہوتا ہے تو وہ جان دینے کیلئے سڑکوں پر بھی نکل آتے ہیں لیکن جب حکمران اپنے مینڈیٹ کی بجائے، ذاتی اور کاروباری مفادات کو مد نظر رکھتے ہیں تو پھر حشر مارشل لاوں میں نظر آتا رہا ہے اس سے سبق حاصل کرنا چاہیے۔

.......

/169