اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے سربراہ علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے بھوک ہڑتالی کیمپ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں بڑھتی ہوئی لاقانونیت اور ٹارگٹ کلنگ کے واقعات نے امن و امان کی صورتحال کو مفلوج کر رکھا ہے۔ وفاقی و صوبائی حکومتیں یوم علی علیہ السلام کے موقع پر ملک بھر میں ہونی والی مجالس اور جلوسوں کو فول پروف سکیورٹی مہیا کریں۔ کسی بھی ممکنہ ناخوشگوار واقعہ کی ذمہ داری متعلقہ حکومت اور انتظامیہ پر ہوگی۔ تمام جلوسوں کے روٹس کی بھرپور نگرانی کی جائے۔ داخلی راستوں پر واک تھرو گیٹ نصب کئے جائیں اور جلوس پر جانے والے عزاداروں کے لئے سکیورٹی کے نام پر مشکلات یا رکاوٹیں نہ پیدا کی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومتی نااہلی اور دہشت گردوں کی کارروائیوں نے اس مادر وطن کو جہنم بنا کر رکھ دیا ہے۔ حتی الوسع ہماری کوشش رہی ہے کہ حکومت ہمارے پُرامن احتجاج اور مطالبات کو تسلیم کرے لیکں گذشتہ 42 دن سے لگے ہوئے اس احتجاجی کیمپ کی طرف حکومت کی کسی مقتدر شخصیت کا رُخ نہ کرنا اس امر کی دلیل ہے کہ اس ملک میں صرف دہشت گردوں کے مطالبات تسلیم کئے جاتے ہیں۔
علامہ ناصر عباس کا کہنا تھا کہ حکومت کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لئے اس ملک میں قانون شکن ہونا لازم قرار دے دیا گیا ہے۔ مجلس وحدت مسلمین اس ملک کی پُرامن اور محب وطن جماعت ہے۔ ہم متشدد اور منافقانہ سیاست کو گناہ سمجھتے ہیں۔ عید کے بعد ہم نے اس احتجاج کو دھرنوں کی شکل دینی ہے۔ ملک کی تمام اہم شاہراوں پر بھرپور افرادی قوت کے ساتھ دھرنے دیئے جائیں گے۔ حکومت کی مسلسل بےحسی کے جواب میں ہمارے پاس سوائے دھرنوں کے کوئی آپشن موجود نہیں۔ دھرنوں کے بعد لانگ مارچ کی تاریخ کا اعلان کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ معروف قوال امجد صابری کا قتل اس فکر کو آشکار کرتا ہے جو اس ملک کی موجودہ بدترین صورت حال کی ذمہ دار ہے۔ دنیا بھر میں پاکستان کو شناخت دینے والے شخص کو حُب رسول ﷺ و آل رسول ﷺ کی سزا موت کی شکل میں دی گئی۔ اسی طرح چیف جسٹس کے بیٹے کا اغوا اور کسی بھی پیش رفت میں تاحال ناکامی تحقیقاتی اداروں کی شرمناک کارکردگی کو ظاہر کر رہا ہے۔
ایک سوال کے جواب میں علامہ ناصر عباس نے کہا کہ ہمارا کسی بھی ایسی جماعت سے اتحاد نہیں جو وطن عزیز میں عدم استحکام پیدا کرنا چاہتی ہو۔ ہماری کسی بھی حکومت سے کوئی مخالفت نہیں۔ ہم یہاں پر حکومت گرانے یا کردار کشی کے لئے نہیں بیٹھے ہوئے بلکہ اپنے جائز مطالبات اور قوم و ملک کی سلامتی کے لئے بھوک ہڑتال پر ہیں۔ جو شرپسند ہمارے اس احتجاج کو کسی ایجنڈے کا حصہ قرار دیتے ہیں وہ اس بات کو اپنے دماغ میں بٹھا لیں کہ اگر ہمارے مطالبات آج ہی تسلیم کر لئے جاتے تو ہم اپنا احتجاج آج ہی ختم کرنے پر تیار ہو جائیں گے۔ انہوں نے کہا ہے کہ ملک کی دیگر سیاسی جماعتوں کا دباو نتیجہ خیز دکھائی دے رہا اور عید کے بعد نون لیگ کی حکومت زیادہ دور تک چلتی ہوئی نظر نہیں آتی۔
.......
/169