علامہ ناصر عباس جعفری مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل ہیں۔ مسلسل تیسری مرتبہ ایم ڈبلیو ایم کے سیکرٹری جنرل منتخب ہوئے ہیں۔ ملک بھر میں ریاستی سرپرستی میں اہل تشیع کے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں اور فرقہ وارانہ دہشت گردی کے خلاف گذشتہ تیس روز سے اسلام آباد کے نیشل پریس کلب کے سامنے بھوک ہڑتال کئے بیٹھے ہیں۔ پاکستان میں ملت تشیع کے حقوق کیلئے کسی بھی شخص کی اس انداز میں یہ طویل ترین جدوجہد یا احتجاج ہے۔ ان کے اس پرامن مگر پراثر احتجاج کی دنیا بھر میں تائید کی جا رہی ہے۔ تشیع کے ساتھ روا جانبدارانہ رویے کی جہاں مذمت کی جا رہی ہے، وہیں علامہ راجہ ناصر عباس کے مطالبات کی حمایت بھی کی جا رہی ہے۔ ان سے اظہار یک جہتی کیلئے دنیا کے مختلف ممالک میں دھرنے، احتجاجی مظاہرے، ریلیاں ہوچکی ہیں، جبکہ پاکستان کے مختلف شہروں میں مرکزی شاہراؤں پر احتجاجی کیمپ لگے ہوئے ہیں، جہاں شب و روز دعا، تلاوت، ذکر محمد و آل محمد (ع) جاری ہے۔ علامہ راجہ ناصر عباس کی بھوک ہڑتال کے تیس دن مکمل ہونے پر اسلام ٹائمز نے ان سے خصوصی گفتگو کا اہتمام کیا ہے، جو کہ انٹرویو کی صورت میں پیش خدمت ہے۔



اسلام ٹائمز: رواں تحریک کے اہداف کیا ہیں، کہاں تک کامیابی نصیب ہوئی ہے،جبکہ ایک ماہ ہوچکا ہے۔؟
علامہ راجہ ناصر عباس: ہمارا دشمن کیا چاہتا ہے ہم سے، یہی کہ ہم شہداء کو فراموش کر دیں۔ ہم نے ایسا نہیں ہونے دیا۔ اگر اس تحریک کے لانگ ٹرم اہداف کو دیکھیں تو وہ وہی ہیں کہ امام زمانہ (ع) کے ظہور کی تیاری، زمینہ سازی۔ مڈٹرم اہداف میں قائد و اقبال کے پاکستان کو واپس لانا ہے، جو کہ تکفیریت کے ہاتھوں یرغمال ہوچکا ہے۔ یہ تحریک یہ جدوجہد طولانی جدوجہد ہے۔ یہ چند دن، چند ہفتے کی بات نہیں ہے۔ مسلسل میدان عمل میں رہ کر دشمن سے نبرد آزما رہنے کی تحریک ہے۔ جبکہ شارٹ ٹرم اہداف میں دشمن کو یعنی تکفیریت کو، ان کے ہمنواوں کو، ان کے سہولت کاروں کو بے نقاب کرنا ہے، ان کا تعاقب کرنا ہے۔ شارٹ ٹرم اہداف سو فیصد نہ سہی، ستر فیصد ہی سہی ہم نے حاصل کر لئے ہیں۔ جب سے ہم سڑکوں پر آئے ہیں۔ پورے پاکستان میں اندھی ٹارگٹ کلنگ کا سانحہ پیش نہیں آیا، حالانکہ ایک ایک دن میں ایک ہی شہر میں چار چار افراد کو شہید کیا جا رہا تھا۔ ہم نے اس تحریک کے ذریعے اتنا دباؤ ڈال دیا ہے کہ ہمارے پرامن اور جائز مطالبات پر غور کرنے پر مجبور ہیں۔ ہمارا دشمن ہمارے شہداء کو اور ان کی قربانیوں کو فراموش کرانا چاہتا ہے، ہم نے نہیں ہونے دیا۔ ہم نے شہداء کی مظلومیت کو دفن نہیں ہونے دیا۔ لوگوں میں اتنا شعور بیدار کر دیا ہے، اپنی پرامن جدوجہد سے کہ آج کوئی بھی شخص یہ نہیں کہہ سکتا کہ ہاں میں تکفیریت کا حامی ہوں۔ ہمیں قائداعظم کا پاکستان چاہیئے۔ اس کے حصول کیلیے تکفیریت کے خلاف ایک طویل لڑائی لڑنی پڑے گی۔ تکفیریت کے حامی ملکی و ریاستی اداروں میں گھسے بیٹھے ہیں۔ ان سے پاکستان کو نجات دلانی ہے۔ پورے پاکستان میں اس مطالبے کو وائرل کرانا ہوگا۔ صرف شیعہ کو ہی نہیں بلکہ سنی، عیسائی سب کو اپنا تحفظ درکار ہے۔ موجودہ پاکستان قائد اور علامہ اقبال کا پاکستان نہیں ہے۔
اسلام ٹائمز: مسلسل تیس دنوں سے بھوک ہڑتال پر ہیں، کب تک ختم ہوگی۔؟
علامہ راجہ ناصر عباس: مطالبات کے پورے ہونے تک بھوک ہڑتال جاری رہے گی۔
اسلام ٹائمز: بھوک ہڑتال کا ہی فیصلہ کیوں کیا اور کیا یہ آپکا ذاتی فیصلہ تھا یا تنظیم کا۔؟
علامہ راجہ ناصر عباس: دیکھیں مجھے دور دراز سے کالز آتی ہیں کہ آغا مجھے گھر کی چار دیواری میں مجلس نہیں کرنے دیتے، کسی کو اپنے گھر پر علم لگانے کی اجازت نہیں ملتی۔ دس دس منٹ جلوس و عزاداری میں دیر سویر ہونے پر مقدمات درج ہوئے۔ ایک ماں فون پر کہتی ہے کہ صبح میرا پوتا پیدا ہوا تھا، ہم لوگ بہت خوش تھے جبکہ شام کے وقت میرے بیٹے کو بے جرم و بے گناہ مار ڈالا گیا۔ میرے گھر میں کمانے والا کوئی نہیں، میں ایک دن کے پوتے کو کیسے پال پوس کر بڑا کروں۔ تفتان بارڈر سے زائرین کے دل ہلا دینے والے واقعات سامنے آتے ہیں۔ ایک ایک ہفتہ شدید گرمی میں زائرین کو روک لیا جاتا ہے، ان کے پاسپورٹس چھین لئے جاتے ہیں، آپ بتائیں کہ میں ان مسائل کا کیا کروں۔ میرے پاس کوئی لشکر تو نہیں ہے، میں کوئی اپنی فوج تو بنا کے نہیں بیٹھا۔ انہی مسائل کو لیکر بھوک ہڑتال کا فیصلہ میں نے بہت پہلے کر لیا تھا، جس پر جماعت کے دوستوں میں بحث ہوئی۔ بالآخر تنظیم نے اتفاق کیا، تاہم اسے آؤٹ نہیں کیا بلکہ اس فیصلہ کو تنظیم تک محدود رکھا۔
اسلام ٹائمز: رمضان المبارک کے بعد لانگ مارچ کا اعلان کیا گیا ہے، رخ پنجاب کیجانب ہوگا یا وفاق کی جانب۔؟
علامہ راجہ ناصر عباس: ایک پڑاؤ پنجاب میں ہوگا اور دوسرا وفاق کی جانب ہوگا۔
اسلام ٹائمز: جب تحریک شروع ہوئی تو شہادتیں کے پی کے اور سندھ میں ہوئی تھی نہ کہ پنجاب اور وفاق میں، پھر احتجاج کا رخ ان کیجانب کیوں۔؟
علامہ راجہ ناصر عباس: پنجاب میں ہزاروں لوگوں پر عزاداری، مجالس، نوحہ خوانی، یہاں تک کہ نیاز و لنگر کے الزامات میں مقدمات درج کئے گئے ہیں۔ ایک صوبے کا عالم دین، دوسرے صوبے میں نہیں جاسکتا۔ ایک ضلع کا دوسرے ضلع میں نہیں جاسکتا۔ جو کام خودکش حملوں، بم دھماکوں، ٹارگٹ کلنگ کے ذریعے نہیں ہوسکا، یعنی عزاداری کو محدود کرنا، وہی کام پنجاب حکومت نیشنل ایکشن پلان کی آڑ میں کرنا چاہتی ہے، مگر ہم ایسا نہیں ہونے دیں گے، قطعاً نہیں ہونے دیں گے۔
اسلام ٹائمز: ڈیڑھ دو ماہ کی تحریک کے بعد اسکا رخ پنجاب یا وفاق کیجانب موڑنا، سندھ اور کے پی کے کو کلین چٹ دینے کے مترادف نہیں۔؟
علامہ راجہ ناصر عباس: ایسی بات نہیں ہے۔ خیبر پختونخوا کے وزراء آئے ہیں۔ عمران خان خود آیا ہے۔ ان کے سامنے ہم نے مطالبات رکھے ہیں۔ اس کا فالواپ جاری ہے۔ اسی طرح سندھ حکومت کے ساتھ بھی رابطے میں ہیں۔ ہم مظلوموں کا لہو رائیگاں نہیں جانے دینگے۔ اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں کہ صرف سیاسی حکومتیں کچھ نہیں کرسکتی۔ جب تک اسٹیبلشمنٹ میں پالیسی شفٹ نہیں آتا۔ خیبر پختونخوا کا سینیئر وزیر مجھ سے کہتا ہے کہ ہم جس علاقے سے تعلق رکھتے ہیں، اس میں تکفیری مائنڈسیٹ ہے۔ ہم کھل کر اظہار یک جہتی بھی کریں تو ہمیں ڈر لگتا ہے کہ ہمیں بھی مار نہ دیا جائے۔ دراصل خیبر پختونخوا میں ایم ایم اے کے دور حکومت میں حساس اداروں، عہدوں پر تکفیری ذہنیت کے لوگ بھرتی کئے گئے، وہی عناصر صوبے کی تباہی و بربادی کے ذمہ دار ہیں۔ اب ان کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔
اسلام ٹائمز: رمضان المبارک کے بعد اپوزیشن نے بھی سڑکوں پر آنے کا اعلان کیا ہے، کیا آپ اس میں ضم ہوں گے۔؟
علامہ راجہ ناصر عباس: نہ ہم بنی امیہ کے ساتھ ہیں اور نہ ہی بنی عباس کے ساتھ ہیں۔ حکومت ہماری مقدس جدوجہد کو اپوزیشن کے احتجاج کا حصہ بنانا چاہتی ہے، ہم ایسا نہیں ہونے دیں گے۔ ہمارے مسائل کا تعلق اپوزیشن کے برسراقتدار آنے یا حکومت کے اپوزیشن میں آنے کا نہیں بلکہ پالیسی شفٹ کرنے سے متعلق ہے۔ ہم کسی ٹرمائل کا حصہ نہیں بننا چاہتے مگر ہمیں اسی جانب دھکیلنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
اسلا ٹائمز: کیا پاکستان کے اندرونی مسائل پہ کوئی خارجی عوامل بھی کارفرما ہیں۔؟
علامہ راجہ ناصر عباس: ظاہری طور پر جو انڈیا کے دشمن ہیں۔ اظہر مسعود، حافظ سعید، آخر ان پر انڈیا حملے کیوں نہیں کرتا۔ کیا ان کی سکیورٹی بہت زیادہ ہے۔ را ہمیں ہی نشانہ کیوں بناتی ہے۔ اس کا مطلب یہی ہے کہ یہ عناصر خود را کے ایجنٹ ہیں۔ سیدھی سی بات ہے کہ ان کی موجودگی سے پاکستان کو نقصان اور انڈیا کو فائدہ ہے۔ چنانچہ انڈیا اپنا فائدہ ان سے لے رہا ہے۔ ہمارے ساتھ انتہائی گندی گیم کھیلی جا رہی ہے۔ ہم نے کوئی لشکر نہیں بنائے، ہم نے کسی پر کوئی حملے نہیں کئے، مگر اس کے باجود بھی ہمارے عاشور کے جلوسوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ ہماری مجالس پر حملے ہوتے ہیں۔ ہمارے نوجوان، بوڑھے، بچے، خواتین، کوئی محفوظ نہیں ہے۔ دہشت گردی کا نشانہ اہل تشیع بنتے ہیں، پھر کہا جاتا ہے کہ دہشت گردی را کر رہی ہے، جو بھارت میں حملوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہیں ان پر را حملے کیوں نہیں کرتی۔ کہنے کا مقصد یہ ہے کہ اہل تشیع کو ریاستی اداروں کی سرپرستی میں نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ بھارت بھی ہمارا دوست نہیں ہے، را بھی دہشت گردی کرتی ہے، مگر ہمیں نشانہ بنانے میں ملکی اداروں کی مجرمانہ غفلت کار فرما ہے۔
اسلام ٹائمز: آپ ریاستی اداروں کو بھی مورد الزام ٹھہرا رہے ہیں، جبکہ دہشتگردوں کیخلاف آپریشن جاری ہیں۔؟
علامہ راجہ ناصر عباس: ہمیں ان گروہوں، ان دہشت گردوں و لشکروں نے نشانہ بنایا ہے، جنہیں ریاستی سرپرستی حاصل رہی۔ ہمارے قاتل وہی گروہ ہیں، جو ریاستی اداروں نے بنائے ہیں۔ ضرب عضب کے بعد دہشت گرد گروہوں کو دباؤ میں آنا چاہیئے تھا، مگر حقیقت اس کے برعکس ہے۔ دہشت گرد دندنا رہے ہیں اور اہل تشیع، سنی، امن پسند عوام دباؤ میں آچکے ہیں۔ کیا خبر کہ دہشت گردوں کو ختم کیا جا رہا ہے یا انہیں منظم کیا جا رہا ہے۔ بظاہر یوں محسوس ہوتا ہے کہ امن پسند شہریوں کو خوفزدہ رکھنے کیلئے ان دہشت گردوں کی باقاعدہ سرپرستی کی جا رہی ہے کہ جس کو ڈرانا ہو ان سے ڈراؤ، جس کو مروانا ہو، انہی سے مرواؤ۔ ملک کو اس کی ڈیموگرافی کے خلاف لے جانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ہم نے اس ملک کو انتہا پسندانہ مسلکی ذہنیت والی پالیسی رکھنے والا ملک نہیں بننے دینا۔ المیہ یہ ہے کہ متعصب ذہنیت کے لوگ بااختیار ہوچکے ہیں۔
اسلام ٹائمز: کیا یہ غلط ہے کہ کئی دہشتگردوں کو ملکی اداروں نے ٹھکانے لگایا ہے۔؟
علامہ راجہ ناصر عباس: یہ تو بعد کی بات ہے، پہلی بات تو یہ ہے کہ یہ دہشت گرد بناتا کون ہے۔ دہشت گرد تو ٹول ہیں۔ ان کے بنانے والے تو کوئی اور ہیں۔ جو دہشت گرد بنانے والے ہیں وہی ہمارے بھی دشمن ہیں اور اس ملک کے بھی دشمن ہیں۔ اگر ان کے اپنے پالے ہوئے، سدھائے ہوئے، بنائے ہوئے دہشت گردوں کے پر پرزے نکلنے شروع ہوجائیں اور یہ ان کو نافرمانیوں کی سزا دیں تو اس سے کیا ثابت ہوتا ہے کہ دہشت گردوں کو ان کے کئے کی سزا دی جا رہی ہے۔ تکفیریت کی کوکھ سے بدمعاش ذہنیت جنم لیتی ہے۔ ملک اسحاق جس نے سینکڑوں قتل کا اعتراف کیا۔ اسے عدالت کے ذریعے سزا نہیں ہوئی۔ یعنی اس تکفیری و بدمعاش ذہنیت کو قانونی طریقے سے نشان عبرت نہیں بنایا گیا، بلکہ جس طرح کی اس کی اور اس کے گروہ کی زندگی تھی، ویسا ہی انجام اس کا ہوا۔
اسلام ٹائمز: موجودہ عدالتی سسٹم سے کیا شکوہ ہے۔؟
علامہ راجہ ناصر عباس: وہی گلہ، وہی شکوہ ہے جو کہ باقی پورے سسٹم سے ہے۔ پنجاب بھر میں مجالس پر، جلوس عزاداری پر ایف آئی آرز درج کی گئی ہیں۔ گھر میں ہونے والی مجالس پر بھی مقدمات درج کئے گئے ہیں۔ عدالتوں میں اسی کی تائید ہوتی ہے، جو کچھ حکومت کی جانب سے کہا جاتا ہے۔ ننانوے فیصد فیصلوں کی سپریم کورٹ نے توثیق کی ہے۔ دہشت گردوں کو عدالتوں سے سزائیں نہیں ملتی، شریف شہری کو انصاف نہیں ملتا ہے۔ انصاف کا حصول اتنا مشکل اور کھٹن بنا دیا گیا ہے کہ اس میں نسلیں گزر جاتی ہیں۔
اسلام ٹائمز: آج پورا ایک مہینہ ہوچکا ہے آپکو یہاں احتجاجاً بیٹھے ہوئے، کون سی جماعتوں نے آپ سے اظہار یکجہتی نہیں کیا ہے۔؟
علامہ راجہ ناصر عباس: تقریباً تمام سیاسی جماعتوں نے اظہار یک جہتی کیا ہے۔ مذہبی جماعتوں میں سے چند ایک کو چھوڑ کر باقی سب آئی ہیں۔ اسی طرح تشیع تنظیموں نے بھی حمایت کی ہے، البتہ اگر سو فیصد حمایت و یکجہتی کی بات کی جائے تو ایسا نہیں ہے۔ ایس یو سی یا جے یو آئی (ف) نے اظہار یک جہتی نہیں کیا، البتہ بعض جماعتوں سے تعلق رکھنے والے لوگ ذاتی حیثیت میں یہاں آئے ہیں۔






.....
/169