28 مئی 2016 - 05:27
نوازشریف کی لندن میں اوپن ہارٹ سرجری:آپریشن میں مزید تاخیر نہیں کی جا سکتی: ڈاکٹرز/ زرداری کے آج لندن سے دبئی پہنچنے کا امکان

آصف علی زرداری کا آج لندن سے دبئی پہنچنے کا امکان ہے۔ نجی ٹی وی کے مطابق زرداری تین بار لندن سے دبئی کا ٹکٹ کینسل کرا چکے ہیں۔/ پاکستانی وزیراعظم محمد نوازشریف کی منگل کو لندن میں اوپن ہارٹ سرجری ہوگی، وہ آپریشن کے تقریباً دو ہفتے بعد تک لندن میں ہی قیام کریں گے۔ پیچیدہ صورتحال کے پیش نظر برطانوی ڈاکٹروں نے وزیراعظم کو فوری طور پر دل کا آپریشن کرانے کی ہدایت کی وزیراعظم آپریشن کے بعد دو ہفتے لندن میں ہی قیام کریں گے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا: پاکستانی وزیراعظم محمد نوازشریف کی منگل کو لندن میں اوپن ہارٹ سرجری ہوگی، وہ آپریشن کے تقریباً دو ہفتے بعد تک لندن میں ہی قیام کریں گے۔ پیچیدہ صورتحال کے پیش نظر برطانوی ڈاکٹرو ں نے وزیراعظم کو فوری طور پر دل کا آپریشن کرانے کی ہدایت کی وزیراعظم آپریشن کے بعد دو ہفتے لندن میں ہی قیام کریں گے۔ وزیراعظم چند ہفتے قبل لندن میں علاج ادھورا چھوڑ کر آئے تھے ۔ ان کی خواہش تھی کہ وطن واپس آئیں مگر ڈاکٹرز نے فوری آپریشن کا مشورہ دیا اور کہاکہ آپریشن میں مزید تاخیر نہیں کی جاسکتی ۔ واضح رہے کہ وزیراعظم کی غیر موجودگی میں ضروری امور اسحاق ڈار نمٹائیں گے۔ یہ بات ذرائع نے بتائی کوئی سرکاری بیان سامنے نہیں آیا۔ دریں اثناء وزیراعظم ہائوس کے ترجمان مصدق ملک نے تصدیق کرتے ہوئے کہاہے کہ ڈاکٹرز کی مشاورت سے وزیراعظم کی اوپن ہارٹ سرجری کا فیصلہ کرلیاگیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ سرجری کے بعد وزیراعظم ایک ہفتے میں صحت یاب ہوجائیں گے۔تین دن تک دوائیں دی جائیں گی اور پھر اوپن ہارٹ سرجری ہو گی۔ وزیراعظم ایک ہفتے تک ہسپتال میں رہیں گے۔ ان کی وطن واپسی ڈاکٹرز کی اجازت سے ممکن ہو گی۔ ابتداء میں ڈاکٹرز نے انجیو پلاسٹی کا فیصلہ کیا تھا جو نہیں کی گئی۔ وزیراعظم کو 3سے4 روز تک آئی سی یو میں رکھا جائیگا۔ ہسپتال میں وزیراعظم کے اہل خانہ کے سوا کسی کو ساتھ رہنے کی اجازت نہیں۔ ہائی کمشن اور مسلم لیگ کے ارکان کو بھی ہسپتال آنے کی اجازت نہیں۔ ڈاکٹرز نے ہسپتال میں وزیراعظم نوازشریف کے مختلف ٹیسٹ کئے۔ ابتدائی طور پر ڈاکٹرز کا خیال تھا کہ انجیو پلاسٹی ٹھیک رہے گی، نواز شریف کی دل کی شریانوں کی صحیح صورتحال جاننے کیلئے انجیوگرام کیا گیا۔ انجیوگرام اور مزید ٹیسٹ، معائنوں اور سکینز کے بعد نواز شریف کی اوپن ہارٹ سرجری کا فیصلہ کیا گیا۔ وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ سرجری کے بعد ریکوری میں ایک ہفتہ لگے گا۔ آپریشن کے ایک ہفتے بعد ڈاکٹرز نواز شریف کی صحت کا جائزہ لیں گے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق وزیراعظم کی غیرموجودگی میں اسحاق ڈار سرکاری اور سیاسی امور دیکھیں گے۔ قبل ازیں لندن میں پاکستانی ہائی کمشن میں نواز شریف کی صحت کیلئے بھی دعائیں کی گئیں۔ وزیراعظم نوازشریف کی صاحبزادی مریم نواز نے اپنے ٹویٹر پیغام میں ان کی اوپن ہارٹ سرجری منگل کے روز ہونے کا لکھا ہے۔ انہوں نے لکھا کہ وزیراعظم کے لئے لاکھوں لوگ دعا گو ہیں۔ انشاء اللہ جلد صحت یاب ہوکر واپس آئیں گے۔ انہوں نے لکھا ہے کہ 2011ء میں وزیراعظم کے دل کا پروسیجر ہوا تھا جسے (ایٹریل فبریلیشن ایبلیشن) کہتے ہیں جس کے دوران سانے آنے والی پیچیدگی کی وجہ سے ڈاکٹروں نے چیک اپ کے دوران اوپن ہارٹ سرجری تجویز کی گئی۔ مصدق ملک کے مطابق ملکی معاملات قانون کے مطابق چلتے رہیں گے۔ مریم نواز نے کہا کہ وزیراعظم کی واپسی ڈاکٹروں کی ہدایت کے مطابق ہوگی جبکہ انہوں نے اپنے والد کی صحت کیلئے دعا کی اپیل بھی کی ہے۔ وفاقی وزیر خواجہ آصف نے کہا ہے کہ ڈاکٹرز نے انجیوپلاسٹی کی کوشش کی لیکن صورتحال زیادہ خراب ہونے کی وجہ سے اوپن ہارٹ سرجری کا فیصلہ کیاگیا۔ وزیراعظم کے صاحبزادے حسن نواز نے کہا ہے کہ وزیراعظم کے دل کے مختلف معائنے کئے گئے۔ ایک ماہ قبل لندن آمد پر وزیراعظم کو ڈاکٹرز نے مزید مسائل سے آگاہ کیا۔ پیچیدگی ختم ہونے تک ہمیں انتظار کرنے کا کہا گیا جس کے بعد وزیراعظم اہم معاملات طے کرنے کیلئے پاکستان واپس چلے گئے۔ دو روز قبل وزیراعظم کا انجیو گرام کیاگیا اور انجیو گرافی کا ارادہ ترک کردیا گیا۔ ماہر ہارٹ سرجنز کی ٹیم نے مشاورت کے بعد اوپن ہارٹ سرجری تجویز کی۔ وزیراعظم خون پتلا کرنے والی ادویات لے رہے ہیں۔ وزیراعظم یہ ادویات تین سے چار روز تک استعمال کریں گے۔ منگل کے روز ڈاکٹر نے وزیراعظم کی سرجری کا فیصلہ کیا۔ ذرائع کے مطابق معمول کے تحت وزیراعظم کو تین سے چار روز تک آئی سی یو میں رکھا جائیگا۔ اوپن ہارٹ سرجری کے بعد وزیراعظم چار روز تک کمرے میں رہیں گے۔ تقریباً دو ہفتے بعد وزیراعظم ڈاکٹر کی اجازت کے بعد سفر کریں گے۔ چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے پاکستانیوں سے وزیراعظم نوازشریف کیلئے دعا کی اپیل کردی۔ اپنے ٹویٹ میں بلاول بھٹو نے امید کا اظہار کیا کہ وزیراعظم کا آپریشن کامیاب ہوگا اور وہ جلد صحت یاب ہوں گے۔ تمام پاکستانی وزیراعظم نوازشریف کی صحت یابی کی دعا کریں۔ چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے کہا ہے کہ وزیراعظم کے کامیاب اوپن ہارٹ سرجری آپریشن اور جلد صحت یابی کی دعا کرتا ہوں۔ ذرائع کے مطابق اس وقت وزیراعظم محمد نواز شریف کے ہمراہ بیگم کلثوم نواز اور دونوں صاحبزادے حسن نواز اور حسین نواز ہیں۔ اس بات کا قوی امکان ہے کہ اوپن ہارٹ سرجری کے موقع پر وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہبازشریف اور مریم نواز بھی لندن چلی جائیں گی۔

۔۔۔۔۔۔۔

/169