اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ ایک بھارتی مشہور اخبار نے ایران کو جغرافیائی محل وقوع بالخصوص سیاسی،اقتصادی اور ثقافتی لحاظ سے ایشیا اور یورپی ممالک کو ملانے والا ایک کلیدی پل قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ دنیا میں کوئی بھی ملک اسلامی جمہوریہ ایران کے اس اہم کردار کو نظرانداز نہیں کرسکتا.
'ہندوستان ٹائمز' نے بدھ كے روز اپني ايك خصوصي رپورٹ ميں بھارتي وزيراعظم نريندر مودي كا حاليہ دورہ تہران اور ايران مخالف عالمي پابنديوں كے خاتمے كا ذكر كرتے ہوئے كہا كہ پابنديون كي منسوخي سے علاقائي ممالك كے باہمي روابط اور ترقي ميں مزيد اضافہ ہوگا.
اس رپورٹ ميں كہا گيا ہے كہ عالمي امور ميں اسلامي جمہوريہ ايران كي دوبارہ واپسي سے خطے ميں اہم تبديلياں ہوں گي.
بھارتي اخبار كے مطابق، ايران ميں 77 ملين عوام كي آبادي ہے جو تربيت يافتہ اور باہمي اعتماد كے سائے ميں متحد ہيں اور ان ميں ايشيائي ممالك كے درميان پل بننے ميں اہم صلاحيت موجود ہے.
ايران اور بھارت ايك دوسرے كے تجربات كو استعمال كرتے ہوئے باہمي روابط اور تعاون كو مزيد بڑھاسكتے ہيں. دونوں ممالك مختلف شعبوں ميں دوطرفہ تعاون بڑھانے كيلئے اچھي صلاحيت ركھتے ہيں.
ہندوستان ٹائمز نے كہا كہ ايراني بندرگاہ چابہار ميں بھارتي سرمايہ كاري سے چابہار،زہدان،مشہد كي ريلوے لائن كي تعمير بھي ممكن ہوگي جس سے روس اور يورپي ملكوں كو بھارتي برآمدات ميں تيزي آئے گي.
ايران،بھارت، افغانستان كے درميان چابہار معاہدہ ايك اہم سنگ ميل ہے جس سے مشتركہ تجارتي تعلقات سميت سرمايہ كاري اور علاقائي روابط ميں مزيد اضافہ ہوگا.
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲
وسطي ايشيائي ممالك اور بالخصوص جنوبي اور جنوب مغربي ايشيائي ملكوں كے درميان نقل و حمل، توانائي تعاون اور بالخصوص چابہار بندرگاہ كي ترقي سے علاقائي ممالك ميں اقتصادي خوشحالي اور روزگار كے مواقع ميں قابل قدر اضافہ ہوگا.