اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ حکومتی ترجمان نے کہا ہے کہ عالمی طاقتوں کیساتھ جوہری معاہدے کے بعد مختلف غیر ملکی کمپنیوں کیجانب سے ایران کے 41 منصوبوں میں 3.5 ارب ڈالر سرمایہ کی گئی ہے.
يہ بات 'محمد باقر نوبخت' جو اسٹريٹجك منصوبہ بندي اور نگراني كے نائب صدر ہيں نے ہفتے كے روز ايران كے شمالي صوبے 'ساري' ميں صوبائي حكام كيساتھ ايك اجلاس ميں خطاب كرتے ہوئے كہي.
اس موقع پر انہوں نے كہا كہ جوہري معاہدے كے نفاذ كے بعد 9 ممالك كے صدور نے ايران كے دورے كئے جس كے بعد ايران ميں غيرملكي سرمايہ كاري ميں خاطرخواہ اضافہ ہوا ہے.
انہوں نے كہا كہ سپريم ليڈر كي ہدايات اور ايراني قوم كي بھرپور حمايت سے جوہري معاہدہ كو كاميابي سے نافذ كيا گيا اور اس پيشرفت سے ايران كي اقتصادي ترقي كي راہ ميں موجود مشكلات كا خاتمہ كيا گيا.
حكومتي ترجمان نے اس بات پر زور ديا كہ ملك ميں مزاحمتي اقتصاد پاليسي كے اجرا پر ضروري فضا ميسر ہوئي ہے اور اس مقصد كيلئے عالمي پابنديوں كے خاتمے سے بھي مدد ملے گي.
انہوں نے كہا كہ جوہري معاہدے كے بعد ايران اور عالمي برادري كے درميان تعلقات كي توسيع كي راہ مزيد ہموار ہوگئي، مختلف ممالك كے سربراہوں نے ايران كے دورے كئے اور آئندہ دنوں بھارتي وزيراعظم بھي ايران كے دورے پر پہنچ رہے ہيں اور يہ سب جوہري معاہدے كے مثبت نتائج ميں سے ہيں.
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲