اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے وزیر نے اس بات پر زور دیا ہے کہ علاقائی امور پر ایران اور ترکی کا مؤقف واضح ہے اور دونوں ممالک خطی ریاستوں کے اندرونی معاملات میں مداخلت، انتشار اور سرحدوں کی تبدیلی کیخلاف مشترکہ موقف رکھتے ہیں.
ان خيالات كا اظہار 'محمود واعظي' نے جمعرات كے روز تہران كے دورے پر آئے ہوئے ترك وزير ثقافت اور سياحت 'مہير اونال' كيساتھ ايك ملاقات ميں گفتگو كرتے ہوئے كيا.
اس موقع پر انہوں نے كہا كہ ايران، تركي دہشتگردي كي مخالفت كرتے ہيں اور صدر حسن روحاني اپنے حاليہ تركي كے دورے پر دوست ملك ميں ہونے والي دہشتگرد كاروائيوں كي شديد مذمت كرتے ہوئے ايسے اقدامات كيخلاف مقابلہ كرنے كي ضرورت پر زور ديا.
انہوں نے كہا كہ اسلامي جمہوريہ ايران تركي ميں قيام امن و استحكام كو اپنا مفاد سمجھتا ہے اور يقينا ترك قيادت بھي ايسي ہي پاليسي اپنائے ہوئے ہے.
وزير انفارميشن ٹيكنالوجي نے مزيد كہا ہم تركي جيسے دوست ملك كو ہرگز نہيں بھوليں گے جو پابنديوں كے دور ميں بھي ايران كيساتھ كھڑا تھا، پابنديوں كے دور ميں دونوں ملكوں كے تعلقات خوشگوار تھے اور ان روابط كيخلاف مغربي دباوؐ بے اثر ثابت ہوا ہے.
انہوں نے مزيد كہا كہ اسلامي جمہوريہ ايران اور تركي كا كردار علاقائي مسائل كے حل بالخصوص عالم اسلام ميں امن كي بحالي كيلئے اہم ہے.
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲