اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے ممتاز سیاسی تجزیہ نگار ’’رحمت اللہ شریفی‘‘ نے تقریب نیوز کے ساتھ انٹرویو میں کہا کہ ترک صدر رجب طیب اردوگان کی جمہوریت کے تئیں عدم رواداری کا مقصد ترکی میں سعودی عرب کی طرح ایک آمر حکومت کو تشکیل دینا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جمہوریت کے تئیں اردوگان کی عدم رواداری ترک پارلیمان میں ارکان کے حالیہ اختلافات اور اردوگان کی طرف سے ہر معاملے میں ٹانگ اڑانا اس بات کا غماز ہے کہ وہ ترکی میں ایک آمر حکومت کا خواہاں ہیں جو کہ ترکی کے آئین کے خلاف ہے۔
انہوں نے کہا کہ ترک صدر ملک میں مقبول مذہبی جذبات کے بجائے اپنے مذہبی عقائد کو آگے بڑھانے کا رحجان رکھتے ہیں اور وہ اپنے مذہبی نظریات کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف کسی بھی قسم کے اقدامات سے گریز نہیں کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اردوگان دولت و اقتدار کے لالچ میں اتنے اندھے ہوچکے ہیں کہ وہ شامی حکومت کے خلاف دہشتگردوں کی پشت پناہی سے بھی دریغ نہیں کررہے ہیں۔
انہوں نے ترک حزب اختلاف کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اردوگان کی پارٹی نے غیر دانستہ طور پر شامی جنگ میں اس غلط فہمی کا شکار ہو کر حصہ لیا کہ کچھ ہی مہینوں میں وہ شام کی جمہوری حکومت کا تختہ الٹ کر وہاں ایک کٹھ پتلی حکومت کا قیام عمل میں لاکر مشرق وسطیٰ کا ایک اہم کھلاڑی بن سکتا ہے۔
موصوف تجزیہ نگار نے کہا کہ اردوگان نے مصر کی مد د سے ملک میں فرقہ وارانہ پالیسیوں کا تعاقب کیا ہے اور اسی بہانے اس نے سعودی عرب جہاں جمہوریت کا نام و نشان بھی نہیں ہے کے ساتھ ملکر شامی صدر کے ساتھ ایک نیابتی جنگ چھیڑ رکھی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اردوگان ملک اور خطے کے تئیں اپنی جارحانہ پالیسیوں میں کسی بھی تبدیلی کے خواہاں نہیں ہیں اور وہ ہر وقت امریکہ اور مغربی ممالک پر شامی صدر کا تختہ الٹنے اور ترکی کی پالیسیوں کی حمایت کرنے پر زور دیتے ہیں۔
تجزیہ نگار نے کہا کہ ترک صدر یورپی یونین کی رکنیت حاصل کرنے کیلئے پناہ گزینوں کے خطرے کو یورپ کے خلاف استعمال کر کے یورپی یونین پر خود کو مسلط کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔
رحمت اللہ شریفی نے مزید کہا کہ اردوگان کی غلط پالیسیوں اور عدم تحفظ کی وجہ سے ترکی کی معشیت خاص کر سیاحت پر منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲