اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق ترکی کے صدر طیب اردگان اور وزیراعظم احمد داؤد اوغلو کے درمیان گزشتہ کچھ عرصے سے اختلافات چل رہے تھے۔ صدر اردگان ترکی میں صدارتی نظام لانا چاہتے ہیں جبکہ وزیراعظم اس منصوبے کے خلاف ہیں۔ صدارتی نظام حکومت کے منصوبے اور دیگر پالیسیوں کے باعث دونوں کے درمیان اختلافات واضح ہو گئے تھے۔ ترک میڈیا کے مطابق وزیر اعظم نے آج کانگریس کی ایگزیکٹیو کمیٹی سے ملاقات کی جس کے بعد انہوں نے مستعفی ہونے کا فیصلہ کیا۔ کانگریس کا اجلاس 22 مئی کو بلایا گیا ہے جس میں وزیراعظم استعفے کا اعلان کریں گے جبکہ اگلے وزیراعظم کا اعلان بھی اسی اجلاس میں کیا جائے گا۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق ترک صدر اور وزیراعظم کے درمیان گزشتہ روز ملاقات ہوئی تھی۔ ترکی کے صدارتی ترجمان کے مطابق نئے وزیراعظم کی نامزدگی کے بعد انتخابات کا اعلان نہیں کیا جائے گا۔ –
صدر رجب طیب اردگان اور وزیر اعظم احمد داؤد اوغلو کے درمیان بعض بنیادی امور پر اختلافات رہے ہیں۔ صدر نے ہر شعبہ میں وزیر اعظم کی رائے کو مسترد کرکے اور پارٹی اور پارلیمنٹ میں اپنے وفا داروں کی تعداد میں اضافہ کرتے ہوئے اوغلو کو مجبور محض بنا دیا تھا۔ اس حالت میں ترک وزیر اعظم کے لئے ذیادہ دیر تک طاقتور صدر کے سیاسی جوڑ توڑ کا سامنا کرنا ممکن نہیں تھا۔ اسے بھی صدر اردگان کی سیاسی عیاری اور مہارت کہنا چاہئے کہ اوغلو نے شدید اختلافات کے باوجود اپنے استعفیٰ کا اعلان کرتے ہوئے صدر سے وفاداری کا عہد ہی کیا ہے۔ کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ موجودہ سیاسی صورت حال میں وہ صدر کو چیلنج کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ اوغلو کے استعفیٰ کے بعد یہ بات واضح ہوگئی ہے کہ ترکی تیزی سے فرد واحد کی حکمرانی کی طرف بڑھے گا۔ یہ کشمکش ترکی کی سیاست میں کیا اثرات سامنے لاتی ہے، اس کے بارے میں ترک مبصرین مختلف آرا کا اظہار کررہے ہیں۔ تاہم ملک کے پارلیمانی نظام کو صدارتی طریق حکومت میں تبدیل کرنے کے عمل میں صرف ملک کے اندر ہی مخالفت نہیں ہوگی بلکہ اردگان کو یورپ کی طرف سے بھی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے گا۔
وزیر اعظم کی ماہرانہ ڈپلومیسی کے ذریعے ترکی اور یورپ کے درمیان مارچ میں مہاجرین کے سوال پر ایک معاہدہ ہو گیا تھا۔ صدر اردگان اس معاہدہ سے لاتعلق رہے تھے۔ اس معاہدہ کے نتیجے میں ترک حکومت سمندر کے راستے یونان پہنچنے والے شامی پناہ گزینوں کو ترکی واپس روانہ کیا جاتا ہے۔ اس کے بدلے میں یورپئین یونین نے ترک حکومت کو پناہ گزینوں کی مدد کے نام پر 6 ارب یورو امداد دینے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس کے علاوہ ترک باشندوں کے لئے ویزا کے بغیر یورپ کا سفر آسان بنانے کا معاہدہ بھی ہؤا تھا، جس پر چند روز پہلے عمل درآمد شروع ہو چکا ہے۔ اس افہام و تفہیم کے نتیجے میں یورپی لیڈر ترکی کو یونین کی رکنیت دینے کے سوال پر ہمدردی سے غور کرنے پر آمادہ ہو گئے تھے۔ وزیر اعظم داؤد اوغلو کے استعفیٰ اور اقتدار پر صدر اردگان کی گرفت مضبوط ہونے کے بعد یورپ کے ساتھ ترکی کے تعلقات متاثر ہو سکتے ہیں۔
صدر طیب اردگان جاہ پسند اور کسی حد تک انتہا پسندانہ رجحان رکھنے والے رہنما ہیں۔ وہ اختلاف رائے برداشت نہیں کرتے اور ملک میں اخبارات پر پابندیاں لگانے اور صحافیوں کو سزائیں دلوانے کا سلسلہ انہی کے دور میں شروع ہؤا تھا۔ اس کے علاوہ وہ ملک کے بیس فیصد کردوں کے ساتھ بھی تصادم کی پالیسی اختیار کرنا چاہتے ہیں۔ نومبر 2015 میں انتخابات سے پہلے صدر اردگان کے حکم پر ہی کردوں کے ساتھ امن معاہدہ ختم ہؤا تھا جس کے نتیجے میں ملک میں دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ ہؤا تھا۔ کردوں کو سزا دینے کے لئے ہی انہوں نے شام اور عراق میں ابھرنے والی دہشت گرد تنظیم داعش کے ساتھ بالواسطہ تعاون کا سلسلہ جاری رکھا تھا کیوں کہ ان کے خیال میں یہ گروہ کردوں کو عسکری لحاظ سے کمزور کررہا تھا۔جولائی 2015 میں شام کے بارڈر پر واقع ترک قصبے سوروچ پر دہشت گرد حملہ کے بعد ترکی نے داعش کے خلاف فضائی کارروائی کا حصہ بننے کا اعلان کیا تھا ۔لیکن اس کا اصل ٹارگٹ جنوب میں خود مختاری کا مطالبہ کرنے والے کرد تھے۔ اس کے علاوہ ترک فضائیہ شام میں داعش کے خلاف لڑنے والے کردوں پر بھی حملے کرتی رہی ہے کیوں کہ یہ تنظیم شام کی سرکاری افواج کے ساتھ مل کر داعش کے خلاف مزاحمت کر رہی ہے۔ صدر اردگان کا خیال ہے کہ ترکی کی سرحد پر موجود کردوں کی یہ قوت کامیابی کی صورت میں ترک کردوں کی حوصلہ افزائی کا سبب بھی بنے گی۔ اردگان اور داؤد اوغلو کے درمیان جن معاملوں پر اختلافات رہے ہیں ان میں ترک کردوں کے ساتھ امن معاہدہ کرنے کا معاملہ بھی شامل ہے۔ صدر اردگان اس بارے میں سخت رویہ رکھتے ہیں جبکہ ملک کی معاشی ترقی کے نقطہ نظر سے اوغلو کردوں کے ساتھ امن کے حامی ہیں۔ اس کے علاوہ وہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی روک تھام کی بات کرتے رہے ہیں جبکہ صدر اردگان کسی بھی مخالفانہ رائے کو سختی سے کچلنے کے حامی ہیں۔ اوغلو حکومت مقدمہ چلائے بغیر لوگوں کو گرفتار کرنے کی بھی مخالف رہی ہے۔ اردگان اس طریقہ کا ر کی حمایت کرتے ہیں۔ اور مخالفین کو سخت سزائیں دلوانا چاہتے ہیں خواہ اس کے لئے انہیں غیر قانونی اور غیر اخلاقی ہتھکنڈوں کا ہی سہارا کیوں نہ لینا پڑے۔ ترک اخبار جمہوریت نے داؤد اوغلو کے استعفیٰ دینے کی خبر سامنے آنے پر ’ محل کی بغاوت ‘ کی سرخی جمائی ہے۔ اپوزیشن کی دونوں اہم پارٹیوں سی ایچ پی CHP اور ایچ ڈی پی HDP نے اسے فرد واحد کا فیصلہ قرار دیا ہے۔ ان لیڈروں کا کہنا ہے کہ ملک کے 23 ملین ووٹروں نے احمد دعوت اوغلو کو اپنا وزیراعظم چنا تھا لیکن ایک شخص نے اپنے اختیارات میں اضافہ کے لئے اسے علیحدہ کردیا ہے۔ یہ جمہور کی نہیں ایک شخص کی کامیابی ہے۔ صدر رجب طیب اردگان نے غریب خاندان میں آنکھ کھولی اور 1996 میں استنبول کا مئیر بننے کے بعد سے انہوں نے مسلسل سیاسی کامیابیوں کا سفر کیا ہے۔ تاہم صدر بننے کے بعد سے انہوں نے جو اقدامات کئے ہیں ، ان پر اکثر نکتہ چینی کی جاتی رہی ہے۔ واشنگٹن انسٹی ٹیوٹ میں ترک ریسرچ پروگرام کے سربراہ سونر کاگاپتے Soner Cagaptay کا کہنا ہے اس اقدام سے لگتا ہے کہ اردگان ملک کے تمام اداروں کی شکل تبدیل کرنا چاہتے ہیں۔ اس وقت فرد واحد کے ہاتھ میں جتنے اختیارات جمع ہو چکے ہیں، ماڈرن ترک تاریخ میں اس کی مثال تلاش کر نا ممکن نہیں ہے۔ ترکی میں نئے سیاسی اقدامات کا سفر شروع ہونے والا ہے۔ اس میں فیصلے کرنے کا سارا اختیار ایک شخص کو حاصل ہو جائے گا۔ اس اقدام سے ترکی اور دنیا کے دیگر ملکوں کے تعلقات بھی متاثر ہوں گے اور اگر اردگان اپنی خواہش کے مطابق غیر معینہ مدت کے لئے مکمل بااختیار صدر بن جاتے ہیں تو ترک معاشرہ کے علاوہ دوسرے اسلامی ملکوں پر بھی اس کا اثر مرتب ہو گا۔ ان آمرانہ اقدامات کی سیاسی مزاحمت ہونے کی صورت میں ترکی سیاسی بحران کا شکار بھی ہو سکتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔
/169