اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے ڈپٹی کمانڈر انچیف جنرل حسین سلامی نے ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن چینل ایک کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم امریکا اور علاقے میں اس کے اتحادیوں کو خبردار کرتے ہیں کہ اگر انہوں نے ہمیں دھونس و دھمکی دینے کی کوشش کی تو ان کے بحری جنگی جہازوں اور کشتیوں کوآبنائے ہرمز سے گذرنے کی اجازت نہیں دیں گے-
انہوں نے ایران کی مسلح افواج کے ذریعے انجام دی جانے والی مشقوں کا ذکرکرتے ہوئے کہا کہ یہ ہمارا قانونی حق ہے کہ ہم فوجی مشقیں انجام دیں اور دنیا کی کوئی بھی طاقت یا ملک ہماری دفاعی فوجی مشقوں کے بارے میں کچھ بولنے کا حق نہیں رکھتا -
جنرل سلامی نے علاقے کے ملکوں کے ساتھ امریکا کی فوجی مشقوں کے بہانوں کے بارے میں کہا کہ امریکا کسی بھی علاقے میں امن قائم نہیں کرسکتا اور وہ دنیا کے کسی بھی علاقے میں امن قائم کرنے کی توانائی بھی نہیں رکھتا کیونکہ وہ ایسا کرنا ہی نہیں چاہتا- انہوں نے کہا کہ امریکی جہاں بھی گئے وہاں انہوں نے بدامنی اور تشدد کو ہی رواج دیا ہے-
جنرل سلامی نے کہا کہ شام اور عراق جیسے ملکوں کے عوام کو امریکا نے ہی دربدری پر مجبورکیا ہے اور یمن کے عوام پر عرصہ حیات امریکا نے ہی تنگ کیا ہے جبکہ لیبیا کو مٹی کے ڈھیر میں امریکا نے ہی تبدیل کیا ہے-
سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے ڈپٹی کمانڈر نے ایرانی بحریہ کے بارے میں امریکی حکام کے بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ امریکی کہتے ہیں کہ ایرانی بحریہ ایک خطرناک بحریہ ہے- جنرل سلامی کا کہنا تھا کہ امریکیوں نے شاید پہلی بار ہماری بحریہ کی قوت کا صحیح اندازہ لگایا ہے اور اگر امریکا نے ہمیں دھمکی دینے اور خطرات پیدا کرنے کی کوشش کی تو یقینی طور پر ہماری بحریہ امریکا کے لئے انتہائی خطرناک ثابت ہوگی اور ہم اس کا باضابطہ اعلان بھی کرتے ہیں -
انہوں نے زور دے کرکہا کہ ہم اپنی دفاعی اور میزائلی قوت میں اضافہ کرتے رہیں گے - انہوں نے کہا ہم اپنی بحری فوجی مشقیں جاری رکھیں گے اور اس کے لئے ہمیں کسی کی اجازت کی ضرورت نہیں ہے-
سپاہ پاسداران کے ڈپٹی کمانڈر نے ایک انتہائی اہم نکتے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ سمندروں سے متعلق انیس سو بیاسی کے کنوینشن کی بنیاد پر اگر آبنائے ہرمز میں نقصان دہ رفت و آمد انجام پاتی ہے توہم اس کا پوری قوت کے ساتھ مقابلہ کریں گے اور اس طرح کی رفت و آمد کو بند کردیں گے بنابریں امریکا اور ان کے اتحادیوں کوچاہئے کہ وہ دھونس و دھمکی کی زبان میں ایرانی عوام سے بات کرنا چھوڑ دیں۔
۔۔۔۔۔۔۔
/169