اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ انٹرنیشنل فورم فار جسٹس و ہیومن رائٹس فورم جموں و کشمیر نے پیلٹ گن کے متاثرین کی ایک رونگٹے کھڑے کر دینے والی رپورٹ اجراء کی ہے، جس کے مطابق وادی کشمیر میں 2008ء سے 31 مارچ 2016ء تک 569 لوگ پیلٹ گن کے قہر کا شکار ہوگئے جن میں سے 73 افراد آنکھوں کی بینائی سے محروم ہوگئے، جبکہ 174 لوگوں کے بازو ناکارہ، 100 کی ٹانگیں بے کار جبکہ 222 افراد کے جسم کے دیگر اعضاء ناکارہ ہوگئے ہیں۔ انٹرنیشنل فورم فار جسٹس و ہیومن رائیٹس فورم جموں و کشمیر نے اپنی جاری کردہ رپورٹ میں اس بات کا انکشاف کیا ہے کہ 2008ء سے 31 مارچ 2016ء تک وادی کشمیر میں کل ملا کر 569 نوجوان قابض فورسز اور پولیس کی جانب سے پیلٹ گن کے شکار ہوکر زندگی بھر کیلئے معذور ہوکر رہ گئے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس مدت کے دوران سرینگر ضلع میں مجموعی طور 109 افراد پیلٹ گن کی فائرنگ سے متاثر ہوئے جن میں 23 لوگ آنکھوں کی بینائی سے محروم ہوگئے جبکہ 37 بازﺅوں، 13 ٹانگوں اور 31 جسم کے باقی اعضاء سے محروم ہوگئے۔ رپورٹ کے مطابق گاندربل ضلع میں مجموعی طور 27 نوجوان پیلٹ فائر سے شدید طور زخمی ہوگئے جن میں 3 آنکھوں کی بینائی سے محروم ہوگئے جبکہ 7 کے بازو بے کار ہوگئے۔ اسی طرح 5 کی ٹانگیں ناکارہ ہوگئیں اور 12 کے جسم کے دیگر اعضاء بری طرح متاثر ہوئے۔ بانڈی پورہ میں مجموعی طور 29 نوجوان پیلٹ فائرنگ سے متاثر ہوگئے جن میں 5 آنکھوں کی بینائی سے محروم ہوگئے جبکہ 11 کے بازو بےکار ہوگئے، 4 ٹانگوں سے محروم ہوگئے اور 9 جسم کے دیگر اعضاء سے محروم ہوگئے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بارہمولہ ضلع میں مجموعی طور 84 افراد پیلٹ فائروں کے شکار ہوکر ہمیشہ کیلئے جسمانی طور ناخیز ہوکر رہ گئے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲