29 اپریل 2016 - 04:24
اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف کا خط بان کی مون کے حوالے

اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے نام ایک خط میں ایرانی عوام کے اثاثوں کے خلاف امریکہ کی داخلی عدالتوں کے فیصلے کو بین الاقوامی قوانین کے لیے ایک خطرہ قرار دیا ہے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ  جواد ظریف نے اس خط میں کہ جو اقوام متحدہ میں ایران کے مستقل نمائندے نے جمعرات کے روز بان کی مون کے حوالے کیا، اس بات پر زور دیا ہے کہ امریکہ اس بات کا پابند ہے کہ وہ اپنی مخاصمانہ پالیسیوں کے نتیجے میں واجب الادا تاوان ایرانی عوام کو ادا کرے۔ اس خط میں کہا گیا ہے کہ امریکی انتظامیہ ایران کے اثاثوں کو غیرقانونی طریقے سے مسدود کر رہی ہے؛ اس ملک کی مقننہ ان اثاثوں کو ضبط کرنے کا راستہ ہموار کرنے کے لیے بعض قوانین کی منظوری دے رہی ہے اور آخرکار امریکی عدلیہ ان اثاثوں کے ضبط کرنے کے لیے بےبنیاد اور زمینی حقائق کے منافی فیصلے جاری کر رہی ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ نے حکومتوں کو حاصل تحفظ کے اصول کی طرف اشارہ کرتے ہرئے اس بات پر زور دیا کہ ایک خودمختار حکومت کے خلاف تمام دعووں کا دو طرفہ یا چند جانبہ معاہدوں میں پش نظر رکھے گئے اصولوں کے مطابق جائزہ لینا چاہیے یا بین الاقوامی مصالحتی اداروں کے ذریعے مناسب طریقے سے ان کو حل کرنا چاہیے۔

محمد جواد ظریف نے اس خط میں مزید کہا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران ایران کے مرکزی بینک کے اثاثوں میں سے تقریبا دو ارب ڈالر کی رقم بعض مدعیوں کو ادا کرنے کے فیصلے سمیت اس سلسلے میں امریکی عدالتوں کے غیرقانونی فیصلوں کو رد کرتا ہے۔ انھوں نے اپنے خط میں مزید کہا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران امریکہ کو اس شرم ناک ڈکیتی کا ذمہ دار سمجھتا ہے کہ جو ایک عدالتی فیصلے کی آڑ میں انجام دی گئی ہے اور ایران اپنے مسروقہ اثاثوں کی اس کے سود سمیت واپسی کے لیے اقدام کرنے کے سلسلے میں پرعزم ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔

/169