26 اپریل 2016 - 14:51
ایران نے امریکہ سے اپنے اثاثے لینے کے لیے خصوصی ورکنگ گروپ قائم کر دیا

حکومت ایران نے امریکہ کی جانب سے ایران کے دو ارب ڈالر کے اثاثے روکے جانے کے معاملے کا جائزہ لینے کے لئے خصوصی ورکنگ گروپ قائم کر دیا۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ حکومت ایران نے امریکہ کی جانب سے ایران کے دو ارب ڈالر کے اثاثے روکے جانے کے معاملے کا جائزہ لینے کے لئے خصوصی ورکنگ گروپ قائم کر دیا۔

یہ ورکنگ گروپ ایران کے وزیر خزانہ، وزیر خارجہ، وزیر انصاف، وزیر انٹیلی جنس اور مرکزی بینک کے سربراہ پر مشتمل ہو گا جبکہ وزیر خزانہ علی طیب نیا کو اس کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔

کابینہ کے فیصلے کے مطابق مذکورہ ورکنگ گروپ امریکی عدالت کی جانب سے ایران کے اثاثے روکے جانے کے فیصلے کا مختلف پہلوؤں سے جائزہ لینے کے بعد اپنی رپورٹ آئندہ اتوار کو کابینہ کے اجلاس میں پیش کرے گا۔ ایران کے حق کی بازیابی کے لئے جامع اور قابل عمل تجاویز کی تیاری بھی، مذکورہ ورکنگ گروپ کی ذمہ داری ہے۔

قابل ذکر ہے کہ امریکی سپریم کورٹ نے بیس اپریل کو ایران کے منجمد اثاثوں میں سے دو ارب ڈالر کی رقم بطور تاوان ادا کرنے کا حکم دیا تھا۔

یہ رقم ان امریکی فوجیوں کے اہل خانہ کو ادا کی جائے گی جو انیس سو تراسی میں بیروت میں امریکی بحریہ کے اڈے میں ہونے والے دھماکے میں مارے گئے تھے۔

ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے ایران کے سینٹرل بینک کے منجمد اثاثوں میں سے دو ارب ڈالر کی رقم، بطور تاوان نکالے جانے کے امریکی فیصلے کو بڑی ڈکیتی قرار دیا ہے۔

امریکی جریدے نیو یارکر کو انٹرویو دیتے ہوئے وزیر خارجہ نے واضح کیا کہ ایران امریکی سپریم کورٹ کے دائرہ اختیار میں نہیں آتا اور ایران کے اثاثوں سے تاوان کی رقم لینا، بڑی ڈکیتی کے سوا کچھ نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہماری نظر میں امریکی سپریم کورٹ کا کوئی احترام باقی نہیں بچا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب امریکی عدالت گیارہ ستمبر کے واقعے میں ایران کو سزا سنائے تو امریکی عدالتی نظام کا اعتبار کیسے باقی رہ سکتا ہے۔

وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے کہا کہ ایران، امریکہ سے اپنے اثاثے واپس لے کے رہے گا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲