26 اپریل 2016 - 14:35
ہماری نظر میں امریکی سپریم کورٹ کا کوئی احترام باقی نہیں بچا: جواد ظریف

وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے کہا ہے کہ ایران کی خارجہ پالیسی میں خطے کے مسائل کو فوقیت حاصل ہے اور تہران نے دو طرفہ بات چیت اور تعاون کی کئی تجاویز پیش کی ہیں لیکن ان کا مثبت جواب نہیں دیا گیا۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ امریکی جریدے دی نیو یارکر کو انٹرویو دیتے ہوئے ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے کہا کہ تہران نے خطے کے ملکوں کے ساتھ بات چیت اور دو طرفہ تعاون کے لئے کبھی کھل کر اور کبھی خصوصی ذرائع سے اہم تجاویز پیش کیں لیکن افسوس کہ سعودی عرب نے ہماری پیشکش پر توجہ نہیں دی۔

ایران کے وزیر خارجہ نے ایٹمی معاہدے میں پیدا ہونے والی مشکلات کے بارے میں کہا کہ سب سے اہم مشکل یہ ہے کہ پچھلے آٹھ برس کے دوران بھاری جرمانے وضع کر کے دنیا کو ڈرانے اور ایران سے دور کرنے والا امریکہ، معاملات کے حل میں لاتعلقی کا مظاہرہ کر رہا ہے۔

انہوں نے یہ بات زور دیکر کہی کہ ایران نے ایٹمی معاہدے کے تحت اپنے وعدے پورے کر دیئے ہیں اور اسے اس معاہدہ کا فائدہ اٹھانے کا مکمل حق ہے، لہذا یورپی بینکوں کو امریکہ کی انتقامی کارروائیوں سے خوف کھائے بغیر ایران کے ساتھ تعاون کرنا چاہئے۔

وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے ایران کے مرکزی بینک کے منجمد اثاثوں میں سے دو ارب ڈالر کی رقم بطور تاوان نکالنے کے امریکی فیصلے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ہماری نظر میں امریکی سپریم کورٹ کا کوئی احترام باقی نہیں بچا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب امریکی عدالت، گیارہ ستمبر کے واقعے میں ایران کو سزا سنائے تو امریکی عدالتی نظام کا اعتبار کیسے باقی رہ سکتا ہے۔

ایران کے وزیر خارجہ نے واضح کیا کہ ایران، امریکی سپریم کورٹ کے دائرہ اختیار میں نہیں آتا اور ایران کے اثاثوں سے تاوان کی رقم لینا، بڑی ڈکیتی کے سوا کچھ نہیں ہے اور ایران اپنے اثاثے واپس لے کے رہے گا۔

ڈاکٹر محمد جواد ظریف نے ایران کے میزائل تجربات کے بارے میں کہا کہ میزائل تجربات کرنا ایران کا حق ہے اور یہ تجربات دفاعی مقاصد کے لئے انجام دیئے جا رہے ہیں۔

شام کے بارے میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے کہا کہ صدر بشار اسد کا مستقبل شامی عوام کے ہاتھ میں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جنیوا مذاکرات میں شریک بعض مخالفین جو یہ کہتے ہیں کہ اگر بشار اسد نے اقتدار نہ چھوڑا تو جنگ جاری رہے گی، انہیں اچھی طرح معلوم ہے کہ شام کے بارے میں مذاکراتی عمل اٹھارہ ماہ میں مکمل ہو گا اور اس کے بعد شام کے عوام اس بات کا فیصلہ کریں گے کہ ملک میں انتخابات کس بنیاد پر کرائے جائیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲