24 اپریل 2016 - 11:44
علامہ ساجد نقوی: وزیراعظم کا اقدام خوش آئند ہے لیکن حزب اختلاف کی آراء کو بھی مدنظر رکھا جائے

اپنے ایک جاری بیان میں سربراہ ایس یو سی کا کہنا تھا کہ ملک کی موجودہ صورتحال کے پیش نظر حکومت کو چاہیے کہ اس معاملے پر مزید سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے حزب اختلاف کی آراء پر غور کرے اور کمیشن کے ٹرمز آف ریفرنس کے حوالے سے اپوزیشن کی آراء شامل کرتے ہوئے انہیں اعتماد میں لے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق شیعہ علماء کونسل پاکستان کے سربراہ علامہ سید ساجد علی نقوی نے حکومت کی جانب سے پاناما لیکس کی تحقیقات کے لئے چیف جسٹس کی سربراہی میں کمیشن کے قیام کے اعلان کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ حزب اختلاف کی آراء کو بھی مدنظر رکھا جائے، معاملے کی شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کے لئے کمیشن کے ٹی او آرز کے حوالے سے اپوزیشن کو نظر انداز کیا گیا تو یہ نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوگا، فلاحی ریاست کے تصور کو عملی شکل دینے کے لئے اب عملی اقدامات بھی اٹھانا ہونگے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے وزیراعظم میاں محمد نوازشریف کے خطاب پر تبصرہ کرتے ہوئے کیا۔ علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہا کہ یہ خوش آئند ہے کہ چیف جسٹس آف پاکستان کی سربراہی میں کمیشن کا فیصلہ حکومت نے کیا اور اس سلسلے میں وزیراعظم نے باضابطہ خط بھی لکھا، کیونکہ عدلیہ ہی اس کام کو بہتر انداز میں انجام دے سکتی ہے، لیکن محترم چیف جسٹس کی سربراہی میں کمیشن اس وقت موثر ثابت ہوگا، جب ملک کی اکثریت میں اتفاق رائے پیدا ہو جائے گا اور حکومت اپوزیشن کو اس معاملے پر قائل کرنے میں مکمل کامیاب ہو جائے گی۔

علامہ سید ساجد علی نقوی کا مزید کہنا تھا کہ ملک کی موجودہ صورتحال کے پیش نظر حکومت کو چاہیے کہ اس معاملے پر مزید سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے حزب اختلاف کی آراء پر غور کرے اور کمیشن کے ٹرمز آف ریفرنس کے حوالے سے اپوزیشن کی آراء شامل کرتے ہوئے انہیں اعتماد میں لے، تاکہ یہ معاملہ خوش اسلوبی سے آگے بڑھے اور مستقبل کا لائحہ عمل تجویز کرے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر معاملے پر اتفاق رائے قائم نہ کیا گیا تو پھر مسائل بڑھتے جائیںگے اور اس نظر اندازی کے باعث کمیشن کے خاطر خواہ نتائج برآمد نہیں ہونگے۔ ہمیں اب ایسا طریقہ کار وضع کرنا ہوگا، تاکہ مستقبل میں اس طرح کے اسیکنڈلز سے ہمیشہ کے لئے جان چھوٹ سکے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ملک پاکستان فلاحی ریاست کے تصور کے ساتھ ابھرا تھا، جو شائد اب دھندلا چکا ہے، ضرورت اس امر کی ہے کہ تحقیقاتی کمیشن کی تشکیل میں اتفاق رائے پیدا کیا جائے اور اگر ملک کے وسیع تر مفاد میں اس معاملے پر کثرت رائے قائم کر لی جائے تو فلاحی ریاست کا تصور عملی شکل اختیار کرلے گا، جس سے ملک کا مستقبل تابناک اور روشن ہو جائے گا۔

.......

/169