اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ ماسکو میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مجلس شورائے اسلامی کے سربراہ ڈاکٹر علی لاریجانی کا کہنا تھا کہ ایران اور روس بوشہر میں نئے ایٹمی بجلی گھر کے لئے مناسب جگہ کے بارے میں صلاح و مشورہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ، ایران روس تجارتی تعلقات کے فروغ کی بھرپور حمایت کرتی ہے جبکہ اہم علاقائی اور بین الاقوامی مسائل کے بارے میں بھی دونوں ملکوں کے درمیان بات چیت کا سلسلہ منظم طریقے سے جاری ہے۔
ڈاکٹرعلی لاریجانی نے دوحہ میں تیل پیدا کرنے والے ملکوں کے اجلاس کے بارے میں ایران کے موقف کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اوپیک کے رکن ملکوں کا پیداواری کوٹہ مقرر ہے اور سب کو اس کی پابندی کرنا چاہئے۔ انہوں نے تیل کی قیمتوں میں کمی کو گہری اور منظم سازش قرار دیا۔ انہوں نے قرہ باغ تنازعے کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ آذربائیجان اور آرمینیا کو اپنے اختلافات کو سیاسی طریقے سے حل کرنے کی کوشش کرنا چاہئے۔
قابل ذکر ہے کہ مجلس شورائے اسلامی کے اسپیکرڈاکٹر علی لاریجانی، اپنے روسی ہم منصب کی دعوت پر یوریشیا کے پارلیمانی سربراہوں کے اجلاس میں شرکت کی غرض سے ایک اعلی سطحی پارلیمانی وفد کے ہمراہ، پیر کے روز ماسکو گئے تھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲