اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ صدر 'حسن روحانی' نے کہا ہے کہ اٹلی ایران اور گروپ 1+5 کے درمیان ہونے والے جوہری مذاکرات میں شامل تو نہیں تھا مگر اس نے 'فیڈریکا مغیرنی' کو یورپی فارن پالیسی کی چیف بنوا کر ان مذاکرات کی تاریخی کامیابی پر اپنا کردار ادا کیا.
ان خيالات كا اظہار اسلامي جمہوريہ ايران كے صدر مملكت حجت الاسلام و المسلمين حسن روحاني نے منگل كے روز تہران كے دورے پر آنے والے اطالوي وزيراعظم 'ماتيو رينزي' كيساتھ مشتركہ پريس كانفرنس كرتے ہوئے كيا.
اس موقع پر اٹلي كو ايران كے ديرينہ دوست اور ارزشمند ملک قرار ديتے ہوئے صدر روحاني نے كہا كہ اٹلي كو ايراني قوم كے درميان ايك خاص مقام حاصل ہے اور ہميشہ سے اطالوي كمپنيوں اور تجارتي حلقوں كو ايران ميں خيرمقدم كيا گيا ہے.
انہوں نے اس بات پر زور ديا كہ پابنديوں كے دور ميں بھي ايران اور اٹلي كے درميان گہرے تعلقات برقرار رہے اور اب ايران مخالف پابنديوں كے مكمل خاتمے كے بعد بھي دونوں ممالك باہمي تعلقات كي فضا كو مزيد وسعت ديں گے.
ايران اور اٹلي كے ديرينہ تعلقات كو سياسي، ثقافتي اور بين الاقوامي امور ميں موجود باہمي تعاون كا ذكر كرتے ہوئے انہوں نے كہا كہ ايران يہ نہيں بھول سكتا كے پابنديوں كے دور ميں اٹلي كا رويہ ہمارے ساتھ اچھا رہا اور اس نے كوشش كي كہ اسلامي جمہوريہ كے ساتھ مختلف شعبوں ميں اپنے تعلقات قائم ركھے.
حسن روحاني نے كہا كہ اٹلي اور ايران كے درميان توانائي، پاور پلانٹس، گاڑيوں كي پيداوار، ريلوے، اسٹيل صنعت، زراعت اور خوراك كے شعبوں ميں تعلقات كو مزيد فروغ مليں گے.
مغرب ميں اسلام فوبيا كي سازشوں كا ذكر كرتے ہوئے ايراني صدر نے مزيد كہا كہ اسلام امن اور بہائي چارے كا پيغام ديتا ہے اور اس ميں بے گناہ اور معصوم افراد كے قتل كي كوئي گنجائش نہيں ہے.
انہوں نے اس بات پر زور ديا كہ دہشتگردي اور فساد پھيلانے والوں كا در حقيقت، اسلام سے كوئي تعلق نہيں ہے اور اسي طرح تعصب اور فتنہ كي آگ پھيلانے والوں كا بھي دين سے كوئي تعلق نہيں ہے.
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲